اپنے محور پر زمین کی گردش کی رفتار میں حیرت انگیز اضافہ

Updated: August 05, 2022, 11:56 AM IST | Agency | New York

ہر چند کہ رفتار میںیہ اضافہ ایک ملی سیکنڈ سے بھی کم ہے لیکن اس کی وجہ سے ہمارا دن چھوٹا ہو جائے گا اور اس کا براہ راست اثر کمپیوٹر، موبائل اور دیگر ڈیجیٹل آلات پر پڑے گا

A leap second can disrupt the entire digital system of the world.Picture:INN
لیپ سیکنڈ کی وجہ سے پوری دنیا کا ڈیجیٹل نظام گڑبڑا سکتا ہے ۔ تصویر:آئی این این

 اپنے محور پر زمین کی گردش کی رفتار  اچانک تیز ہو گئی ہے یعنی زمین اب اپنے محور پر ایک چکر ۲۴؍گھنٹے سے بھی کم وقت میں مکمل کر رہی ہے۔ ہر چند کہ رفتار میںیہ اضافہ  ایک ملی سیکنڈ سے بھی کم کا ہے لیکن اس کی وجہ سے ہمارا دن چھوٹا ہو جائے گا اور  اس کا براہ راست اثر کمپیوٹر، موبائل جیسے گیجٹس میں سیٹ کیا گیا  وقت متاثر ہونے کا امکان بڑھ جائے گا۔ اس تبدیلی کو ’ منفی لیپ سیکنڈ‘ کا نام دیا گیا ہے جس کی وجہ دنیا بھر میں کمپیوٹر الگورتھم تیار کرنے والوں کے لئے پریشانیاں بڑھ گئی ہیں۔ آپ کو لیپ سیکنڈ کے بارے میں ضرور معلوم ہونا چا ہئے۔  جس طرح سےہر ۴؍ سال میں ایک دن کا اضافہ کیا جاتا ہے  اسی طرح بعض اوقات وقت کی چال کے ساتھ اپنی رفتار برقرار رکھنے کے لئے ایک سکینڈ کا اضافہ کرنا پڑتا ہے ۔ اسے لیپ سیکنڈ کہا جاتا ہے۔
    واضح رہے کہ زمین کو اپنے محور پر ۳۶۰؍ ڈگری   پر گھومنے میں ۸۶؍ ہزار ۴۰۰؍ سیکنڈ یا ۲۴؍گھنٹے لگتے ہیں ۔ اگر اس وقت کو درست طریقے سے ناپا جائے تو یہ حقیقت میں ۸۶؍ ہزار ۴۰۰؍ اعشاریہ ۰۰۲؍ سیکنڈ کے برابر ہے۔ہر روز یہ۰ء۰۰۲ سیکنڈز جمع ہوتے رہتے ہیں اور ایک سال میں تقریباً ۲؍ملی سیکنڈز کا اضافہ ہوتا ہے۔ اس طرح ایک مکمل سیکنڈ تقریباً ۳؍ سال میں بنتا ہے لیکن یہ اتنا کم وقت ہوتا ہے کہ بعض اوقات اسے مکمل ہونے میں وقت لگ جاتا ہے لیکن اس کا اثر یہ ہوتا  ہے کہ انٹرنیشنل اٹامک ٹائم  کے ساتھ اس کی  ہم آہنگی بگڑ جاتی ہے اور اسے درست کرنے کے  لئے گھڑیوں کا وقت ایک سیکنڈ  بڑھانا پڑتا ہے لیکن  اس مرتبہ ایسا نہیں ہوا ہے بلکہ زمین نے اپنے وقت سے کافی پہلے اپنا چکر مکمل کرلیا ہے جسے اس طرح سے سمجھ سکتے ہیں کہ ۲۳؍ گھنٹے اور ۵۹؍ سیکنڈ میں ایک دن مکمل ہوتا ہے لیکن ۲۹؍ جون کو  زمین نے اپنے محور پر گردش ۱ء۵۹؍ ملی سیکنڈر پہلے مکمل کرلی ۔ یعنی گھڑی کی سوئیاں ۲۳؍ گھنٹے ۵۸؍ سیکنڈس کے بعد سیدھا نئے دن میں چلی گئیں جس سے پوری دنیا کے کمپیوٹر اور دیگر ڈیجیٹل سسٹم میں ایک سیکنڈ بہت بڑا فرق آگیا۔ فی الحال زمین کی رفتار  میں اـضافہ کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی ہے تاہم بعض سائنسدانوں کا قیاس ہے کہ زمین کی اندرونی یا بیرونی تہہ، سمندری  لہریں  یا موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ایسا ہو سکتا ہے۔  رپورٹ کے مطابق اگر زمین تیزی سے گھومتی رہی تو پھر ایک نئے منفی لیپ سیکنڈ کی ضرورت ہوگی تاکہ دنیا بھر کی گھڑیوں کی رفتار کو سورج کے مطابق ایڈجسٹ کیا جاسکے۔منفی لیپ سیکنڈ سے بڑے نقصان کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس سے اسمارٹ فونز، کمپیوٹرس اور دنیا کا مواصلاتی نظام متاثر ہو سکتا ہے کیوں کہ وہ سب  وقت پر ہی مشتمل ہے۔   اس تعلق سے میٹا بلاگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لیپ سیکنڈ سائنسدانوں اور ماہرین فلکیات کے  لئے فائدہ مند بھی ثابت ہو سکتا ہے لیکن یہ ایک خطرناک طریقہ ہے جس کے فائدے کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔ وقت میں یہ تبدیلی کمپیوٹر پروگرامز اور ڈیٹا کو کریش کر سکتی ہے کیونکہ یہ ڈیٹا ٹائم سٹیمپ کے ساتھ محفوظ ہوتا ہے۔اگر منفی لیپ سیکنڈ کا اضافہ کیا جائے تو گھڑیاں ۲۳؍ گھنٹے ۵۹؍ منٹ اور ۵۸؍ سیکنڈ کے بعد سیدھے ۰۰۰ پر جائیں گی  ۔اس کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔  امریکہ کی بڑی ٹیک کمپنیاںجیسے گوگل، امیزون، میٹا اور مائیکروسافٹ نے اسے خطرناک قرار دیتے ہوئے لیپ سیکنڈ کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس تعلق سے فی الحال تحقیق بھی جاری ہے اور دنیا بھر کے سائنسداں ان طریقوں کو بھی کھوجنے کی کوشش کررہے ہیں جن کی مدد سے لیپ سیکنڈ کے بارے میں مزید معلومات وقت سے پہلے حاصل ہو جائیں گے اور ڈیجیٹل دنیا کی پریشانیوں کو دور کیا جاسکے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK