سماجوادی اورکانگریس نے اسے امتیازی سلوک قراردیا، بی جےپی نے معاملہ کو ’’گنگاکی پاکیزگی‘‘ اور ’’مذہبی جذبات ‘‘کو ٹھیس پہنچنے سے جوڑ کر کارروائی کو جائز ٹھہرایا۔
EPAPER
Updated: March 19, 2026, 12:56 PM IST | Hamidullah Siddiqui | Lucknow
سماجوادی اورکانگریس نے اسے امتیازی سلوک قراردیا، بی جےپی نے معاملہ کو ’’گنگاکی پاکیزگی‘‘ اور ’’مذہبی جذبات ‘‘کو ٹھیس پہنچنے سے جوڑ کر کارروائی کو جائز ٹھہرایا۔
بنارس میں گنگا میں کشتی پر منعقدہ افطار پارٹی کے معاملے نے اب مکمل طور پر سیاسی رنگ اختیار کر لیا ہے۔ ایک طرف اپوزیشن اس کارروائی کو امتیازی اور سیاسی قرار دے رہاہے، تو دوسری جانب حکمراں محاذ اور انتظامیہ اسے مذہبی جذبات کا حوالہ دیکر جائز ٹھہرا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:امریکہ کے فیڈرل ریزرو نے ریپو شرح برقرار رکھی، مہنگائی پر تشویش برقرار
سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے سوال کیا ہےکہ’’ گنگا میں افطار کیوں نہیں کر سکتے؟‘‘ انہوں نے پولیس پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ شاید نوجوانوں نے ’ہتھیلی گرم‘ نہیں کی، اس لئے ان کے خلاف ایکشن لیا گیا۔ انہوں نے اس پوری کارروائی کو سیاسی اور امتیازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ’’ افطارکر نے والوں نے پولیس کو عیدی نہیں دی ہوگی ۔ اگر وہ ایسا کرتے تو سب کچھ ٹھیک ہو جاتا۔‘‘ کانگریس لیڈرعمران مسعود نے کہا ہے کہ’’ اگر ماحولیات کے نام پر کارروائی ہو رہی ہے تو ان لوگوں کے خلاف بھی مقدمہ درج ہونا چاہیے جو نالوں کا گندا پانی سیدھا گنگا میں چھوڑتے ہیں۔‘‘ انہوں نے اسے مخصوص افراد کے خلاف اور امتیازی کارروائی قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی۔
یہ بھی پڑھئے:ارجنٹائنا باضابطہ طور پر ڈبلیو ایچ او سے علاحدہ
دوسری جانب بی جےپی اس معاملے کو مذہبی عقیدت اور گنگا کی پاکیزگی سے جوڑ رہی ہے، شکایت کنندہ بی جے پی لیڈرکا کہنا ہے کہ گنگا ایک مقدس ندی ہے اور اس میں نان ویج کھانا اور باقیات پھینکنا مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔اس کے مطابق یہ نہ صرف عقیدہکے خلاف ہےبلکہ گنگا کی پاکیزگی کو بھی متاثر کرتا ہے، اس لئے کارروائی ضروری تھی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مذہبی جذبات کے تحفظ کے پیش نظر قانون کے تحت یہ کارروائی کی گئی ہے اورگنگا کو آلودہ کرنے، مذہبی جذبات کو مجروح کرنے و دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا اور ۱۴؍ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔