مہاراشٹر میں زبان کی بنیاد پر جاری سیاسی اور سماجی کشیدگی نے اب المناک موڑ اختیارکر لیا ہے۔ زبان کے تنازع نے ۱۹ سالہ نوجوان کی جان لے لی۔
ارنو کھیرے۔ تصویر:آئی این این
مہاراشٹر میں زبان کی بنیاد پر جاری سیاسی اور سماجی کشیدگی نے اب المناک موڑ اختیارکر لیا ہے۔ زبان کے تنازع نے ۱۹ سالہ نوجوان کی جان لے لی۔ ملنڈ کے ایک کالج کے طالب علم کو لوکل ٹرین میں محض ہندی میں بات کرنے پر مسافروں کے ایک گروپ نے نہ صرف زدوکوب کیا بلکہ اس کی عزت نفس کو بھی مجروح کیا جس سے وہ کافی دل برداشتہ ہوگیا اور گھرآنے کے بعد خودکشی کر لی۔ اس دل دہلا دینے والے واقعہ نے ممبئی کی لائف لائن سمجھی جانے والی لوکل ٹرینوں میں بڑھتی ہوئی غنڈہ گردی اور لسانی منافرت کو اجاگر کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق طالب علم ارنو کھیرے کلیان مشرق کے کولسے واڑی میں اہل خانہ کے ساتھ رہتا تھا۔ وہ ملنڈ کے کیلکر کالج میں سائنس کا طالب علم تھا۔ منگل کو ارنو جب کالج جانے کیلئے کلیان اسٹیشن سے لوکل ٹرین میں سوار ہوا جس میں زبردست بھیڑ تھی اور اس نےدیگر مسافروں کو کہا کہ ’’تھوڑا آگے ہو جاؤ ۔‘‘ہندی کے ان چند الفاظ نے آس پاس کھڑے چار سے پانچ افراد کے ایک گروپ کو مشتعل کر دیا۔انہوں نے ارنو کو گھیر لیا اور سوال کیا کہ کیا تمہیں مراٹھی نہیں آتی؟ اور ارنو پر مراٹھی زبان بولنے سے شرم محسوس کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اسے تھپڑ اور گھونسے مارے۔ اس بدسلوکی اور مار پیٹ سے ارنو کو شدید ذہنی اذیت پہنچی ۔ زدوکوب کئے جانے سے خوفزدہ ارنو کھیرے تھانے اسٹیشن پر ہی ٹرین سے اتر گیا اور بعد میں کسی دوسری ٹرین سے ملنڈ پہنچا۔ کالج میں اس نے اپنا پریکٹیکل تو پورا کر لیا لیکن اوہ شدید صدمے میں تھا اور مزید کلاس اٹینٹ کئے بغیر کالج چھوڑ کر گھر لوٹ آیا۔ دوپہر کے وقت گھر پہنچ کر ارنو نے اپنے والد جتیندر کھیرے کو فون کیا اور ٹرین میں پیش آنےوالے واقعے کی تمام تفصیلات بتائیں۔
شام کو جب ارنو کے والد کام سے لوٹے تو انہیں گھر کادروازہ اندر سے بند ملا۔ بار بار دستک دینے اور ارنو کو پکارنے کے باوجود دروازہ نہ کھلا تو گھر والوں کو شک ہوا۔ پڑوسیوں کی مدد سے دروازہ کھولا گیا تواندر ارنو نے اوڑھنی کی مدد سے گلے میں پھندا لگا کر خودکشی کرلی تھی۔ اسے فوری طور پر رکمنی بائی اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
اس سنگین معاملے کے سامنے آنے کے بعد ارنو کھیرے کے والد جتیندر کھیرے نے کلیان کولسےواڑی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے۔ پولیس نے ان کا بیان درج کرنے کے بعدمعاملے کی تفتیش شروع کردی ہے۔