حالیہ حملوں میں اعلیٰ قیادت سمیت سینیئر شخصیات کی شہادت کے باوجود، ایران کا حکومتی نظام فعال ہے۔ پورے تہران میں مرحوم لیڈران اور موجودہ لیڈران کی تصاویر نمایاں طور پر آویزاں کی گئی ہیں، جو ان کیلئے حمایت کو ظاہر کرتی ہیں۔
EPAPER
Updated: April 02, 2026, 8:02 PM IST | Tehran
حالیہ حملوں میں اعلیٰ قیادت سمیت سینیئر شخصیات کی شہادت کے باوجود، ایران کا حکومتی نظام فعال ہے۔ پورے تہران میں مرحوم لیڈران اور موجودہ لیڈران کی تصاویر نمایاں طور پر آویزاں کی گئی ہیں، جو ان کیلئے حمایت کو ظاہر کرتی ہیں۔
گزشتہ دنوں اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے پاسدارانِ انقلاب کے بحری کمانڈر علی رضا تنگسیری کے جنازے میں شرکت کرنے کیلئے بدھ کے روز تہران میں ہزاروں شہری جمع ہوئے۔ اس موقع پر سوگواروں نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اپنے آخری دم تک مزاحمت کرنے کا عہد کیا۔
تنگسیری کے جنازے کا جلوس دارالحکومت میں واقع انقلاب اسکوائر سے گزرا۔ یہاں ہزاروں شہری ایرانی پرچم کے تلے جمع ہوئے۔ انہوں نے تنازع میں ہلاک ہونے والوں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔ جب مرحوم کمانڈر کا تابوت ہجوم کے درمیان سے گزرا تو پورا میدان ”اللہ اکبر، خامنہ ای رہبر“ کے نعروں سے گونج اٹھا۔ کئی سوگوار اس موقع پر آبدیدہ ہوگئے۔ حاضرین نے ایسے سائن بورڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ”انتقام“ تحریر تھا۔
Massive crowds of Iranians attending the funeral of martyred IRGC Navy Commander, Rear Admiral Alireza Tangsiri#bbvipal5 #paobc #Iran #Iran pic.twitter.com/uzyoUjDxGW
— Dr Ahmed Ali Khan (@ahmed_dr73907) April 2, 2026
یہ واقعہ اسلامی جمہوریہ کے قیام کی ۴۷ ویں سالگرہ کے موقع پر پیش آیا جو ملک کو درپیش مسلسل فوجی دباؤ کے دوران ایک علامتی لمحہ بن گیا۔ کئی شرکاء نے اس اجتماع کو یادگار اور پختہ عزم کے اظہار کے طور پر بیان کیا۔ جنازے میں شریک ۵۷ سالہ موسیٰ نوروزی نے کہا کہ ”اس جنگ کو ایک مہینہ مکمل ہو چکا ہے۔ جتنا بھی وقت لگے، ہم اسے جاری رکھیں گے۔ ہم آخری دم تک مزاحمت کریں گے۔“
واضح رہے کہ تنگسیری کو سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کی نمایاں ترین اور طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والی شخصیات میں شمار کیا جاتا تھا۔ وہ بحری حکمتِ عملی اور آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات میں اپنے کردار کیلئے جانے جاتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے خطاب کے بعد ایران کا میزائل حملہ، بغداد میں امریکی انتباہ
شہریوں نے ایرانی قیادت کیلئے اپنی حمایت کا اعادہ کیا
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی قیادت نے صلح کی درخواست کی ہے۔ تاہم تہران نے اسے سختی سے مسترد کردیا۔ جنازے کے شرکاء نے بھی ٹرمپ کے تبصروں کو مسترد کیا اور قومی قیادت کیلئے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔
۳۶ سالہ خاتون ہما وثوق نے کہا کہ ”ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انہوں (ٹرمپ) نے کیا بیان دیا ہے اور وہ کیا کہتے ہیں۔“ ایک اور سوگوار، سرکاری ملازم محمد صالح مومنی نے امریکی صدر کے تبصروں کو ”بے معنی“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی حمایت بدستور ایرانی قیادت کے ساتھ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے ہرمز پر کنٹرول سخت کیا، عالمی تیل سپلائی اور معیشت متاثر
واضح رہے کہ حالیہ حملوں میں اعلیٰ قیادت سمیت سینیئر شخصیات کی شہادت کے باوجود، ایران کا حکومتی نظام فعال ہے۔ پورے تہران میں مرحوم لیڈران اور موجودہ شخصیات کی تصاویر نمایاں طور پر آویزاں کی گئی ہیں، جو ان کیلئے حمایت کو ظاہر کرتی ہیں۔