Updated: April 02, 2026, 10:06 PM IST
| Bhubaneshwar
ادیشہ ہائی کورٹ نے ایک مسلم شخص پر تشدد اور غیر اسلامی نعرے لگوانے کے واقع کی تحقیقات ایک سینئر پولیس افسر کے سپرد کردی ہے،شرپسندوں کے ایک گروہ نے اس شخص کوبرہنہ کیا، ٹانگیں باندھیں اور سڑکوں پر گھسیٹتے ہوئے اسے ہندو مذہبی نعرے ‘جے شری رام’ کی لگانے پر مجبور کیا۔
ادیشہ ہائی کورٹ: تصویر: آئی این این
ادیشہ ہائی کورٹ نے ایک مسلمان شخص کو ‘جے شری رام’ کا نعرہ لگانے پر مجبور کرنے کے واقعے کی تحقیقات کی نگرانی ایک سینئر پولیس افسر کے سپرد کردی ہے۔ یہ معاملہ جنوری کے اوائل میں پیش آنے والے ایک واقعے سے جڑا ہے جب مبینہ طور پر شرپسندوں کے ایک گروہ نے ایک مسلمان شخص پر حملہ کیا، اسے برہنہ کیا، ٹانگیں باندھیں اور سڑکوں پر گھسیٹتے ہوئے اسے ہندو مذہبی نعرے ‘جے شری رام’ لگانے پر مجبور کیا۔جمعرات کو اڑیسہ ہائی کورٹ نے ہدایت دی کہ اس واقعے کی تحقیقات کی نگرانی کسی ایسے سینئر پولیس افسر کو سونپی جائے جو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کے عہدے سے کم نہ ہو۔
یہ بھی پڑھئے: بنچ کی تبدیلی کے بعد گھر پر باجماعت نماز پر ہائی کورٹ کا موقف تبدیل،کارروائی کو جائز ٹھہرایا
بعد ازاں جسٹس ساوِتری راتھو نے یہ حکم متاثرہ شخص کے والد کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے دیا، جس میں منصفانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔عدالت نے تبصرہ کیا کہ اس واقعے کی ویڈیو بھی بنائی گئی تھی اور یہ فوٹیج تھوڑی ہی دیر میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جبکہ۳؍ جنوری کو مایوربھنج ضلع کے باہلدا تھانے میں مقدمہ درج کرایا گیا تھا۔اس مقدمے میں بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس) کے تحت غلط طور پر روکنے، فحش حرکات اور مجرمانہ دھمکیوں کے الزامات شامل ہیں۔تاہم درخواست گزار نے منظم جرائم اور مذہبی جذبات مجروح کرنے سے متعلق اضافی دفعات شامل کرنے کی استدعا بھی کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آسام، یوپی میں مسلمانوں کے خلاف جرائم ظلم و ستم، نسل پرستی، نسلی صفائی کی تیاری کے مترادف: پینل
دو ملزمین کو گرفتار کرلیا گیا ہے، ہائی کورٹ نے سینئر افسران کی نگرانی پر زور دیا تاکہ دیگر مفرور ملزمان کے خلاف بھی مکمل تحقیقات کو یقینی بنایا جاسکے۔جبکہ متاثرہ شخص کے والد نے عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ یہ تحقیقات کسی خصوصی ایجنسی جیسے کرائم برانچ یا اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم کو سونپی جائے۔ جبکہ ریاست کی طرف سے پولیس حکام نے عدالت کو بتایا کہ متاثرہ شخص کو معمولی چوٹیں آئی ہیں اور دو ملزمان گرفتار کرلیے گئے ہیں، جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔تاہم عدالت نے درخواست کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات منتقل کرنے سے تو انکار کردیا، لیکن حکم دیا کہ اس کی نگرانی ایک سینئر افسر کرے گا تاکہ منصفانہ تحقیقات ہوسکے۔ جبکہ عدالت کی ہدایت کا مقصد تشدد اور فرقہ وارانہ ہدف بنا کر حملوں کے سنگین الزامات کے معاملے میں احتساب کو یقینی بنانا ہے۔