Inquilab Logo Happiest Places to Work

’آپ‘ کونسلر طاہر حسین کو دہلی فساد کے کیس میں مجرم قرار دیا گیا

Updated: July 14, 2026, 10:23 AM IST | New Delhi

افسر انکت شرما کے قتل کے معاملے میں دیگر ۴؍ ملزمین کے خلاف بھی الزامات کو مقامی عدالت نے صحیح پایا۔

Tahir Hussain can be seen in police custody. Photo: INN
طاہر حسین کو پولیس تحویل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

دہلی کے ۲۰۲۰ءکے مسلم کش فسادات  کے دوران انکت شرما نامی آئی بی(انٹیلی جنس بیورو) افسر کے قتل کے کیس میں  مقامی عدالت نے پیر کو عام آدمی پارٹی کے سابق کونسل طاہر حسین اور دیگر ۴؍ ملزمین کو مجرم قرار دے دیا ہے۔  جن دیگر نوجوانوں کو دہلی کی مقامی عدالت نے مجرم  مانا ہے وہ حسین عرف ملاجی عرف سلمان، ناظم، قاسم، سمیر خان، انس، فیروز، جاوید، گلفام، شعیب عالم عرف بوبی اور منتظم عرف موسیٰ ہیں۔

ایڈیشنل سیشن جج پروین سنگھ۱۱؍ ملزمین کے خلاف مقدمے کی سماعت کر  رہے تھے جن میں طاہر حسین بھی شامل تھے۔عدالت نے طاہر حسین کو فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے، فساد، حملہ، مجرمانہ طاقت کے استعمال اور قتل کے الزامات میں مجرم قرار دیا ہے۔یہ مقدمہ انکت شرما کے والد رویندر کمار کی شکایت پر دیال پور پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر سے متعلق ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پارلیمان کا مانسون اجلاس، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ٹکراؤ متوقع

شکایت کے مطابق، انکت شرما۲۵؍فروری۲۰ءکو دفتر سے گھر واپس آیا اور  دوبارہ باہر چلاگیا لیکن کافی دیر تک واپس نہیں لوٹا۔بعد میں  اس کی لاش نالے سے برآمد ہوئی۔رویندر کمار نے  الزام لگایا  ہے کہ ان کے بیٹے کو اس وقت کے عام آدمی پارٹی کے کونسلر طاہر حسین اور دیگر افراد نے قتل کیا۔ شکایت کے مطابق ملزمین  نے طاہر حسین کے دفتر میں جمع ہوکر قتل کی سازش رچی  اور قتل کے بعد لاش کو ٹھکانے لگا دیا ۔مقدمہ میں نام آنے کے بعد عام آدمی پارٹی نے طاہر حسین کو معطل کر دیا تھا۔ملزمین کے خلاف فرد جرم ۲۴؍ مارچ  ۲۳ء کو  عائد ہوئی تھی۔ ان پر تعزیراتِ ہند کی دفعات کے تحت فساد، مہلک ہتھیاروں سے لیس ہو کر فساد برپا کرنے،فرقہ وارانہ دشمنی پھیلانے، قتل اور مجرمانہ سازش کے الزامات عائد کئے گئے تھےجبکہ طاہر حسین پر عوامی فساد کو ہوا دینے اور اکسانے کے اضافی الزام بھی لگایاگیاتھا۔  یاد رہے کہ شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف شاہین باغ طرز کے مظاہروں کے بعد  دہلی میں پھوٹ پڑنے والے فسادات میں ۵۳؍ افراد مارے گئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی ۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ فساد سے متعلق مقدمات میں ملزمین  کی بھی اکثریت مسلمانوں کی ہی ہے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK