ماہرین نے متنبہ کیا کہ اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو قیمتیں اور بڑھ سکتی ہیں، فیوچر ٹریڈ پربھی زبردست اثر ،ستمبر کی ڈلیوری کیلئے ۷۸ء۸۲؍ بیرل فی ڈالر کی قیمت۔
EPAPER
Updated: July 14, 2026, 11:03 AM IST | Hong Kong
ماہرین نے متنبہ کیا کہ اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو قیمتیں اور بڑھ سکتی ہیں، فیوچر ٹریڈ پربھی زبردست اثر ،ستمبر کی ڈلیوری کیلئے ۷۸ء۸۲؍ بیرل فی ڈالر کی قیمت۔
امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے اور آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے بعد پیر کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ۴ء۵؍ فیصد تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بیشتر مقامات پر گراوٹ دیکھی گئی۔ جنوبی کوریا کی مارکیٹ میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں شدید فروخت ہوئی۔
خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا فیوچر ٹریڈ پر سیدھا اثر پڑا ۔پیر کی صبح ۸؍بجے ستمبر کی سپلائی کیلئے برینٹ خام تیل کا سود۷۸ء۸۲؍ ڈالر فی بیرل پر ہوا جو۲۲؍ جون کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
افراط زر میں اضافے کا اندیشہ
جنگ بندی کے اعلان کے بعد مسلسل گرنے والی دونوں خام تیل (برینٹ گروڈ اور ڈبلیو ٹی آئی کروڈ)کی عالمی قیمتوں میں پیر کو تقریباً۴ء۵؍ فیصد تک کے اضافہ نے ان خدشات کو بڑھا دیا ہےکہ پہلے سے بلند افراط زر مزید بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مرکزی بینک شرح سود میں دوبارہ اضافہ کر سکتے ہیں۔ تازہ کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب ایران نے اتوار کی صبح آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر حملہ کیا جس کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی اور عملے کو اسے چھوڑنا پڑا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی یہودیوں میں فلسطین حامی ظہران ممدانی، نیتن یاہو سے زیادہ مقبول: پول
آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان
ایران کی پاسداران انقلاب نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے ذریعے اعلان کیا ہے کہ’’آبنائے ہرمز آئندہ اطلاع تک اور خطے میں امریکی مداخلت کے خاتمے تک بند رہے گی۔‘‘اس کے جواب میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایکس پر کہا ہے کہ آبنائے ان ہرمز تمام ان بحری جہازوں کیلئےکھلا ہے جو قانونی طور پر اس راستے سے گزرنا چاہتے ہیں۔
صورتحال کے سنگین رخ اختیار کرنے کا اندیشہ
فوریکس ڈاٹ کام کے تجزیہ کار فواد رزاق زادہ نے کہا کہ صورتحال تیزی سے مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے، اگرچہ فریقین کے بیانات میں نرمی بھی آ تی دکھائی دے رہی ہے، لیکن فی الحال سرمایہ کار جو بھی فیصلے کررہے ہیں وہ بدترین صورتحال کو سامنے رکھ کر کر رہے ہیں۔معروف تجزیہ کار فابیئن ییپ نے کہا ہے کہ جون میں قیمتوں میں کمی اس امید کی عکاس تھی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ برقرار رہے گا۔
پہلے جیسے غیر معمولی اضافہ کی امید کم
ان کے مطابق ’’لیکن حالیہ کشیدگی نے اس امید کو کمزور کر دیا ہے۔‘‘ا س کے ساتھ ہی انہوں نے امید ظاہر کی کہ ’’ اگرچہ کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے، تاہم مارچ میں جنگ کے آغاز کے بعد دیکھی گئی انتہائی بلند سطح تک پہنچنے کا امکان کم ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: جاپان: غیر معمولی سماجی تبدیلی، بچوں سے زیادہ پالتو جانور!
ایشائی شیئر بازاروں کا حال
شیئربازاروں میں جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس پیر کو ۵؍ فیصد سے زیادہ گر گیا کیونکہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں غیر معمولی سرمایہ کاری اور بلند قیمتوں کے خدشات کے باعث ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں فروخت کا رجحان بڑھ گیا۔مارکیٹ کی بڑی کمپنی ایس کے ہائنکس کے حصص میں۱۰؍فیصد کمی آئی جبکہ گزشتہ ماہ ریکارڈ سطح چھونے کے بعد اس کی مارکیٹ ویلیو میں تقریباً ایک تہائی کمی آ چکی ہے۔ سیمسنگ کے شیئربھی ۶؍فیصد سے زیادہ گر گئے۔
ٹوکیو میں بھی ایڈوان ٹیسٹ اور ٹوکیو الیکٹران سمیت کئی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے شیئرزمیں ایک فیصد سے زیادہ کمی دیکھی گئی۔شنگھائی، سنگاپور، ویلنگٹن اور جکارتہ کے بازار بھی مندی کا شکار رہے جبکہ ہانگ کانگ، تائی پے اور منیلا کے بازاروں میں معمولی بہتری دیکھی گئی۔ محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان اور ا امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود بڑھا نے کے اندیشوں سےڈالر کی قدر میں بھی اضافہ ہوا۔