عبداللہ اعظم خان رہا ہوکر گھر پہنچے، حوصلے بلند، الیکشن لڑنے اورجیتنے کا عزم

Updated: January 17, 2022, 10:06 AM IST | Agency | Rampur

جیل میں اعظم خان پر مظالم کا حوالہ دیا، جان کو خطرہ لاحق ہونے کا الزام بھی لگایا، گھر کے باہر پولیس کی تعیناتی پر صدائے احتجاج بلند کی

Abdullah Khan received a warm welcome.Picture:INN
عبداللہ کاگھر پر شاندار خیر مقدم کیاگیا۔ ۔ تصویر: آئی این این

سماجوادی پارٹی کے قدآور لیڈر اعظم خان کے بیٹے عبداللہ اعظم خان تمام ۴۳؍ معاملوں میں ضمانت ملنے کے بعد سنیچر کو ۲۳؍ مہینے بعد رہا ہو گئے۔ ان کی رہائی کے موقع پر سیتار پور جیل  کے باہر ان کے خیر مقدم کیلئے حامیوں کا  جم غفیر موجود تھا جبکہ گھر کو رنگ برنگے قمقموں  سے سجایا گیاتھا۔گھر پہنچنے پر انہوں  نے جہاں  پرعزم  لہجے میں کہا کہ وہ نہ صرف الیکشن لڑیں گے بلکہ جیتیں گے وہیں  اس یقین کا بھی اظہار کیا کہ   اس بار اکھیلش یادو ہی وزیراعلیٰ بنیں گے۔  اپنے والد کے پارلیمانی حلقہ رامپور پہنچنے کے بعد عبداللہ اعظم نے کہا کہ اس مرتبہ انتخابات حکومت بمقابلہ عوام ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں انہیں بہت اذیتیں دی گئیں۔ اپنے والد کے تعلق سے عبداللہ  اعظم خان نے کہا کہ  جیل میں ان کی جان کو خطرہ ہے۔  سابق رکن اسمبلی عبداللہ اعظم نے  کہا ’’جتنا ظلم ہو سکتا تھا وہ کیا گیا۔ آج بھی میرے والد اعظم خان کی جان کو خطرہ ہے۔  ان کو کچھ بھی ہوا تو حکومت اور جیل انتظامیہ ذمہ دار ہوگی۔‘‘ عبداللہ اعظم نے اپنے گھر کے باہر پولیس کی تعیناتی پر بھی اعتراض کیا۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب لوگ گھر پر ملاقات کرنے بھی نہیں آسکتے۔  رام پور میں غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد پر بھی سوال  کھڑے کرتے ہوئے  انہوں نے کہا کہ موجودہ افسران کے رہتے غیر جانبدارانہ انتخابات ممکن نہیں، لہٰذا الیکشن کمیشن کواس کا نوٹس لینا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ ’’یہ انتخابات حکومت بمقابلہ عوام ہوں گے۔ ریاست میں نظم و نسق کی صورت حال ابتر ہے۔ پولیس امپور والوں کی ہڈیاں توڑنے اور بھینس اور بکری چوری کے الزام مین جیل بھیجنے کیلئے ہی ہے ۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ میں الیکشن لڑوں گا بھی اور جیتوں گا بھی۔ اعظم خان جو ۹؍ بار ایم ایل اے رہ چکے ہیں، ایسے مقدمات میں قید میں ہیں جن میں لوگوں کو پیشگی ضمانت مل جاتی ہے۔‘‘ انہوں  نے ریاست  کے  انتخابی منظر نامہ کے تعلق سے پرامید لہجے میں کہا کہ ’’اس بار اکھلیش یادو ہی ۲۰۰؍ فیصد وزیراعلیٰ بنیں گے۔‘‘
 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK