مقفل کی گئی لال بارہ دری مسجد کے قریب ہنومان چالیسا کا پاٹھ اور گنگا جل کا چھڑکاؤ،انتظامیہ نے نماز پڑھنے اوراس کیلئے انسانی زنجیر بنانے والےطلبہ کو نقض امن کا نوٹس دیا
EPAPER
Updated: February 24, 2026, 11:25 PM IST | Lucknow
مقفل کی گئی لال بارہ دری مسجد کے قریب ہنومان چالیسا کا پاٹھ اور گنگا جل کا چھڑکاؤ،انتظامیہ نے نماز پڑھنے اوراس کیلئے انسانی زنجیر بنانے والےطلبہ کو نقض امن کا نوٹس دیا
لکھنؤ یوینورسٹی میں واقع اکلوتی مسجدکے مقفل کئے جانے کے بعدتالہ کھولنے کیلئے مسلم طلبہ کے احتجاج میں ہندوطلبہ کی شرکت اور مسجد کے باہر کھلی جگہ پر باجماعت نماز کے وقت ہندو طلبہ کے ذریعہ انسانی زنجیر بنانے سے ہندومسلم اتحاد کا جو پیغام عام ہوا تھا ،اس کے اثر کو زائل کرنے کیلئےپہلے پیر کو پھر منگل کو اے بی وی پی اور دیگر بھگواتنظیموں کے کارکنوں جم کر ہنگامہ آرائی کی۔ دوسری طرف انتظامیہ نے لال بارہ دری عمارت میں واقع مسجد کے باہر نماز پڑھنےاور نما زکے دوران انسانی زنجیر بنانے والے طلبہ کو نقض امن کا نوٹس دیا ہے۔ البتہ منگل کو ہنومان چالیسا کا پاٹھ اور گنگا جل کا چھڑکاؤ کرنےوالوں کے خلاف اس خبر کے لکھے جانے تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔
کیمپس میں اے بی وی پی کی ہنگامہ آرائی
منگل کو اے بی وی پی کے کارکنوں نے گاندھی کے مجسمہ کے سامنے ہنومان چالیساکا پاٹھ کیا جبکہ اُس جگہ بھی جہاں اتوار کو باجماعت نماز ہوئی تھی، گنگا جل کا چھڑکاؤ کرنے کے بعد ہنومان چالیسا پڑھنے کی کوشش کی گئی مگر اس سے پہلے ہی پولیس نے انہیں طاقت کا استعمال کرتے ہوئے وہاں سے ہٹا دیا اوربسوں میں بھر کہیں اور منتقل کردیا۔فی الحال حالات کشیدہ ہیںاور موقع پر پولیس فورس تعینات ہے۔ اس بیچ یونیورسٹی انتظامیہ نے منگل کو پھر صفائی پیش کی کہ لال بارہ دری کو بند کرنے کا فیصلہ مکمل طور پر حفاظتی بنیادوں پر کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اتوار کو جب اچانک لال بارہ دری عمارت اور اس میں واقع مسجد کو تالا لگادیاگیاتو مسلم طلبہ نے اس کے خلاف احتجاج کیا۔اس احتجاج میں ایس یو آئی، سماجوادی چھاتر سبھا اور آئیسا کے غیر مسلم طلبہ بھی ان کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے رہے ، مسجد بند ہونے پر ہونے کے ساتھ کھلے میں افطار کی اور پھر مسلم طلبہ کیلئے کھلی جگہ میں ہی باجماعت نماز کا نظم کرتے ہوئے خود انسانی زنجیر بنا کر کھڑے ہوگئے تھے۔ اس کے خلاف پیر سے ہی اے بی وی پی کارکنان احتجاج کررہے ہیں۔ پیر کو یہاں مذہبی نعرے لگاکر ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی جبکہ منگل کو اے بی وی پی کے طلبہ ہنومان چالیسا پڑھنے پہنچ گئے۔
نماز پڑھنے اور انسانی زنجیر بنانے والوں کو نوٹس
اے سی پی دفتر نے اتوار کو نماز پڑھنے اور امن میں خلل ڈالنے کے الزام میں ۱۳؍طلبہ کو نوٹس دیاہے ۔حسن گنج تھانہ کی رپورٹ کی بنیاد پر جاری کئے گئے نوٹس میں سبھی طلبہ کو ۵۰؍ہزار روپےکا ذاتی مچلکہ اور ۵۰-۵۰؍ہزار کے ۲؍ضمانتدار آئندہ ایک سال تک نقض امن کا باعث نہ بننے کی گارنٹی کے طور پر پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ جن طلبہ کو نوٹس جاری کیا گیا ہے وہ پرنس پرکاش ، احمد رضا، شبھم کھروار ، توقیر غازی ، نونیت یادو، پریم پرکاش یادو، شیوا جی یادو، پرسنن شکلا، پرنس کمار، اکشے کمار ، ابھیشیک شریواستو ، کانچی سنگھ اور محمد ایاز حسن ہیں۔
یونیورسٹی انتظامیہ پر فرقہ وارایت کا سہارا لینے کا الزام
این ایس یو آئی کے لیڈر احمد رضا نے الزام عائد کیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ اپنی حرکت پر پردہ ڈالنے کیلئےفرقہ واریت کا سہارا لے رہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اب اے بی وی پی و دیگر تنظیموں کے کارکنان سرگرم ہوگئے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت اور بی جے پی ریاستی صدر پنکج ترپاٹھی کے دورے کے بعد ہی اچانک مسجد بندکی گئی ہے ۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ مسلم طلبہ کونماز کی ادائیگی سے محروم نہیں کیا جاسکتا ، عمارت اگر مخدوش ہے تومتبادل جگہ دی جائے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کی صفائی
چیف پراکٹر پروفیسر راکیش دویدی منگل کو حالات کو قابو میں کرنے کی کوشش کرتے نظر آئے ۔انہوں نے بتایا کہ بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے کارکنان نے کیمپس میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انہیں روک دیا۔یونیورسٹی ترجمان کے مطابق کیمپس میں واقع لال بارہ دری کو انتہائی خستہ حال قرار دیا گیا ہے، عمارت کے باہر انتباہی بورڈ نصب کر دیئے گئے ہیں اورمحکمہ آثار قدیمہ سے مرمت کے سلسلے میں رابطہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فیصلہ مکمل طور پر حفاظتی بنیادوں پر کیا گیا ہے اور اس کا کسی بھی طبقے سے کوئی تعلق نہیں۔ دوسری طر ف کانگریس نے تنازع کیلئے ریاستی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا اور سماج میں زہر گھولنے کا الزام عائد کیا۔