پلے آف میں پہنچنے کی اپنی امیدوں کوزندہ رکھنے کیلئے سپر جائنٹز کو بڑے فرق سے ہرانے کے ساتھ دیگر میچوں پر انحصار کرنا ہوگا۔
EPAPER
Updated: May 23, 2026, 1:14 PM IST | Lucknow
پلے آف میں پہنچنے کی اپنی امیدوں کوزندہ رکھنے کیلئے سپر جائنٹز کو بڑے فرق سے ہرانے کے ساتھ دیگر میچوں پر انحصار کرنا ہوگا۔
مسلسل ۶؍ میچوں میں شکست سے دوچار پنجاب کنگز کی ٹیم کو اس مایوسی کو بھلا کرآئی پی ایل کے پلے آف میں جگہ بنانے کی اپنی کمزورامیدوں کو زندہ رکھنے کیلئے سنیچر کو یہاں ہونے والے میچ میں لکھنؤ سپر جائنٹس کے خلاف بڑی جیت درج کرنی ہوگی۔ پنجاب نے اپنے ابتدائی۶؍ میچ جیتے تھے لیکن ۲۵؍ اپریل کو دہلی کیپٹلز کے خلاف ریکارڈ ۲۶۵؍رنوں کا ہدف حاصل کرنے کے بعد سے اس کی مہم ڈرامائی طور پر پٹری سے اتر گئی۔
یہ بھی پڑھئے: ایم ایس دھونی کا ہر آئی پی ایل سیزن کھیلنے کا سلسلہ ٹوٹ گیا
پچھلی بار کی رنر اپ ٹیم پنجاب کنگز پہلے ۷؍ میچوں میں ۶؍ جیت کے ساتھ خطابی مقابلے کی اصل دعویدار لگ رہی تھی لیکن مسلسل۶؍ شکستوں کے باعث اس کے پلے آف میں پہنچنے کی امیدیں ماند پڑ گئی ہیں۔ اب پانچویں نمبر پر موجود پنجاب کو نہ صرف سنیچر کو یہاں اپنے آخری لیگ میچ میں لکھنؤ کو ہرانا ہوگا بلکہ پلے آف میں جگہ بنانے کیلئے اتوار کوہونے والے ۲؍ میچوں کے نتائج پر بھی انحصار کرنا ہوگا۔ شریاس ایر کی قیادت والی ٹیم چاہے گی کہ راجستھان رائلز اور کولکاتا نائٹ رائیڈرز دونوں ہی اپنے اپنے میچ ہار جائیں۔ اگر راجستھان رائلز ممبئی کو ہرا دیتی ہے تو پنجاب کی امیدیں باضابطہ طور پر ختم ہو جائیں گی جبکہ اگر کولکاتا دہلی کیپٹلز کو ہرا دیتی ہے تو معاملہ نیٹ رن ریٹ پر آ کر رک سکتا ہے۔ پنجاب کا نیٹ رن ریٹ کے کے آر سے تھوڑا بہتر ہے۔ لیکن اگر مگر کی نوبت آنے سے پہلے پنجاب کو طویل عرصے سے چلی آ رہی خراب کارکردگی کے بعد اپنے فارم کو دوبارہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ٹاپ آرڈر کے بلے باز پریانش آریہ، پربھ سمرن سنگھ اور کوپر کونولی سیزن کی شروعات کی طرح جارحانہ انداز میں نہیں کھیل پا رہے ہیں۔ پریانش نے اپنی پچھلی ۷؍ اننگز میں صرف ایک نصف سنچری بنائی ہے۔ پربھ سمرن بھی اپنی کارکردگی میں تسلسل لانے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھی اپنی پچھلی ۵؍ اننگز میں صرف ایک نصف سنچری لگائی ہے۔ کونولی اچھی شروعات کو بڑے اسکور میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ کپتان ایر کی کارکردگی بھی اس دوران اچھی نہیں رہی۔ وہ ۶؍ میچوں میں صرف ایک بار ہی ۵۰؍ رن کا ہندسہ عبور کر پائے ہیں۔ ٹیم کا مڈل آرڈر بھی نہیں چل پا رہا ہے جبکہ اس کی فیلڈنگ بھی کافی خراب رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فرینچ اوپن ۲۰۲۶ء میں ثانیہ مرزا کا دھماکہ دار کردار
جہاں تک لکھنؤ سپر جائنٹز کا سوال ہے تو اس سیزن میں اس کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ وہ پچھلے ۱۰؍ میچوں میں صرف ۲؍ جیت حاصل کرنے کے بعد پلے آف کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہے۔ لکھنؤنے اپنے ہوم گراؤنڈ پر حال ہی میں بنگلور اور چنئی کو ہرایا تھا اور اس کی ٹیم اسی سے ترغیب لینے کی کوشش کرے گی۔ پچھلے کچھ میچوں میں لکھنؤ کیلئے سب سے مثبت پہلو ٹاپ آرڈر میں مچل مارش اور جوش انگلس کی آسٹریلوی جوڑی کی شاندار کارکردگی رہی ہے۔ اگر ایل ایس جی کو گھریلو شائقین کے سامنے اپنی مہم کا مثبت اختتام کرنا ہے تو ان دونوں کا کردار اہم ہوگا۔ کپتان رشبھ پنت نے اس سیزن میں صرف ایک نصف سنچری لگائی ہے۔ وہ بھی اس سیزن کا اختتام شاندار طریقے سے کرنا چاہیں گے۔ گیند بازی کے شعبے میں یہ دیکھنا ہوگا کہ تجربہ کار تیز گیند باز محمد سمیع پچھلے میچ میں غیر حاضر رہنے کے بعد واپسی کرتے ہیں یا نہیں۔