اڈانی گروپ کوجھٹکا، کمپنیوں کے حصص میں بڑی گراوٹ

Updated: June 15, 2021, 1:01 PM IST | Agency | New Delhi

’سیبی ‘کے ذریعے ۳؍ غیر ملکی سرمایہ کار کمپنیوں کے۴۳۵۰۰؍ کروڑ روپےکی مالیت کے کھا تے منجمد کئے جانے کی اطلاعات پر ایک دن میں کروڑوں کا نقصان

 Adani Group Chairman Gautam Adani.Picture:INN
اڈانی گروپ کے چیئر مین گوتم اڈانی۔۔تصویر :آئی این این

: گزشتہ ایک سال کے دوران اڈانی گروپ کے مالک گوتم اڈانی کی دولت میں تیزی سے اضافہ ہوا اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں ریلائنس انڈسٹری کےچیئر مین مکیش امبانی  سے محض ایک  پائیدان پیچھے رہے ہیں۔ ان کے اثاثوں کی مالیت میں مسلسل اضافہ کی شرح سےقیاس لگایا جارہا تھا کہ وہ جلد ہی امبانی کوپیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔ اب گوتم اڈانی کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔
  شئیر بازار میں پیر کو ان کی کمپنیوں کے حصص میں بڑی گراوٹ درج کی گئی۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کے سبب گوتم اڈانی کو محض ایک دن میں ہی اء۴۳؍ لاکھ روپے کی مالیت کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔  پیر کو اڈانی گروپ کی گھریلو  شیئر بازار میں درج شدہ ۶؍ کمپنیوں کے حصص میں ۵؍فیصد سے ۲۲؍ فیصد کی گراوٹ  درج کی گئی۔ دوران کاروبار اڈانی ا نٹر پرائزز کے شیئرز میں۲۲؍ فیصد کی تنزلی پر جاپہنچےتھے لیکن کاروبارکے اختتام تک یہ ۵ء۸۴؍ فیصد کی گراوٹ  کے ساتھ بند ہوئے۔ اسی طرح اڈانی پورٹ۹ء۶۸؍ فیصد، اڈانی ٹرانسمیشن اور اڈانی ٹوٹل گیس۵؍ فیصد اور اڈانی پاور کے شیئرز۴ء۹۹؍ فیصد کی تنزلی پر بند ہوئے۔
پورا  معاملہ کیا ہے
 دراصل، پیر کی صبح سے ہی یہ خبریں گردش میں تھیں کہ مارکیٹ ریگولیٹر’ سیبی ‘ نے اڈانی گروپ سے وابستہ ایسی ۳؍ غیر ملکی کمپنیوں کی نشاندہی کی ہے جن کے فرضی ہونے کا امکان ہے۔ ان کمپنیوں کے نام البولا انوسیمنٹ فنڈ، کریسٹا فنڈ اوراے پی ایم سی انویسمنٹ فنڈ ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ تینوں کمپنیاں مارریشیس کی راجدھانی پورٹ لوئس کے ایک ہی پتے پر رجسٹرڈ ہیں،  ان کی ویب سائٹ  بھی نہیں ہے۔ اس  بنا پر سیبی نے ان تینوں کمپنیوں کے شیئرز کے اکائونٹس کو منجمد کرکے  مزیدجانچ شروع کردی ہے۔
  نیشنل سیکوریٹی ڈیپازیٹر لمٹیڈ( این ایس ڈی ایل) کے مطابق اڈانی گروپ میں ان تینوں غیر ملکی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کی مجموعی رقم ۴۳۵۰۰؍ کروڑ روپے تک ہے۔ ان کے مالک اور دیگر اہم معلومات کے سلسلے میں‘سیبی ‘کے پاس کو کوئی اطلاع نہیں تھی۔ اس لئے ان پر منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کارروائی کی گئی ۔  یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس میں اڈانی گروپ کا کچھ معاملہ نہیں ہے لیکن ان کمپنیوں  کے اڈانی گروپ سے وابستہ ہونے کی وجہ سے اس کے زیادہ تر شیئروں میں گراوٹ  آئی ہے۔
  ذرائع کے مطابق سیبی نے ۲۰۱۹ء میں منی لانڈرنگ  کے قدغن لگانے لئے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے’ کے وائی سی‘( ان کی شناخت سے متعلق معلومات کو ۲۰۲۰ء تک مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس کی خلاف ورزی پرایسی کمپنیوںکے  ڈی میٹ اکائونٹ منجمد کئے جانے کاالتزام ہے۔ سیبی نے مذکورہ کمپنیوں کے خلاف ۲۰۲۰ء میں جانچ شروع کی  اور اس پرتفتیش جاری ہے  ۔
  واضح رہے کہ گزشتہ ایک سال میں اڈانی گروپ کے شئیرز میں کئی گنا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ اڈانی ٹرانسمیشن میں۶۹۹؍ فیصد ، اڈانی ٹول گیس میں۳۴۹؍ فیصد ، اڈانی انٹرپرائزز میں ۹۷۲؍فیصد اور اڈانی گرین میں ۲۵۴، اڈانی پورٹس اور اڈانی پاور کے حصص میں بالترتیب ۱۴۷؍ فیصد ۲۹۵؍ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK