• Thu, 08 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیویارک: میئر ظہران ممدانی کا عملی اقدام، پل کے متنازع ’ابھار‘ کی مرمت کی

Updated: January 07, 2026, 6:03 PM IST | New York

نیویارک سٹی کے پہلے جنوب ایشیائی میئر ظہران ممدانی نے ڈیلنسی اسٹریٹ پر واقع ایک بدنام زمانہ ’’رکاوٹ‘‘ (بمپ، یاڈ ابھار) کی مرمت میں خود حصہ لیا۔ اس اقدام نے شہریوں میں مثبت ردِعمل پیدا کیا اور سوشل میڈیا پر انہیں عملی میئر کے طور پر سراہا گیا۔

Zohran Mamdani. Picture: X
ظہران ممدانی۔ تصویر: ایکس

ظہران ممدانی نیو یارک سٹی کے پہلے میئر ہیں جنہوں نے نئے سال کی شام بال ڈراپ کے بعد ایک سب وے اسٹیشن کے اندر منعقدہ نجی تقریب میں قرآنِ مجید پر حلف لیا۔ جنوب ایشیائی پس منظر کے پہلے میئر کے طور پر وہ مسلسل تاریخی سنگِ میل قائم کر رہے ہیں، اور ۳۴؍  سالہ سیاستدان اکثر عوامی توجہ اور سوشل میڈیا پر وائرل رہتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک اور واقعہ نے انہیں عوام کے مزید قریب کر دیا۔ منگل (امریکی وقت) کو ڈیلنسی اسٹریٹ پر میئر کی عوامی موجودگی نے انٹرنیٹ پر خاصی گفتگو چھیڑ دی۔ شہریوں نے ایک طویل عرصے سے نظرانداز کئے گئے مسئلہ، ’’سڑک پر موجود ایک خطرناک بمپ یا ابھار)کو درست کرنے پر میئر کی تعریف کی، جس نے سائیکل سواروں اور پیدل چلنے والوں کو برسوں سے پریشان کر رکھا تھا۔ میئر ممدانی کو محکمہ ٹرانسپورٹیشن کے عملے کے ساتھ مل کر عملی کام کرتے دیکھا گیا۔ وہ خود بیلچہ تھامے ولیمزبرگ پل پر ڈامر پھیلا رہے تھے۔ پل کے مین ہٹن سائیڈ کے قریب وقع ابھار طویل عرصے سے شہریوں کیلئے مشکل اور خطرناک ثابت ہو رہا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران میں کریک ڈاؤن پر ٹرمپ کی سپریم لیڈر کو قتل کی دھمکی: امریکی سینیٹر

 

اس موقع پر میئر نے بتایا کہ ان کی انتظامیہ کا ہدف پل سے بووری تک ڈیلنسی اسٹریٹ کے ۷۰؍ ملین ڈالر کے منصوبے کو ازسرِنو ڈیزائن کرنا ہے۔ ٹرانسپورٹیشن کمشنر مائیک فلن کے مطابق اس منصوبے سے پیدل چلنے والوں کیلئے زیادہ جگہ اور سائیکل کیلئے بہتر راستے فراہم کئےجائیں گے۔ اگرچہ کچھ شہریوں کے نزدیک اس ’’ابھار‘‘ کا خاتمہ غیرضروری یا حتیٰ کہ ایک پرانی یاد کے خاتمے جیسا محسوس ہوا، لیکن اکثریت نے اس اقدام کو سراہا۔ ٹرانسپورٹیشن الٹرنیٹِوز کے ایک عہدیدار نے اسے شہریوں کیلئے ’’ہمارا سپر باؤل‘‘ قرار دیا۔ دوسری جانب، بعض افراد نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ یہ رکاوٹ ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی تھی۔ایکس پر صارفین نے میئر کے اس عملی قدم کو بھرپور داد دی۔ کئی پوسٹس میں کہا گیا کہ برسوں سے درپیش ایک چھوٹے مگر تکلیف دہ مسئلے کو فوری طور پر حل کرنا شہری زندگی کے معیار کو براہِ راست بہتر بنانے کے مترادف ہے۔ کچھ نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ایسے ہی ’’چھوٹے مگر ٹھوس‘‘ کام عوام کا اعتماد بحال کرتے ہیں۔
مجموعی طور پر، یہ واقعہ اس بات کی مثال بن گیا کہ بڑے وژن کے ساتھ ساتھ روزمرہ شہری مسائل پر توجہ دینا کس طرح عوامی اعتماد اور پذیرائی کا باعث بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK