نیویارک سٹی کے پہلے جنوب ایشیائی میئر ظہران ممدانی نے ڈیلنسی اسٹریٹ پر واقع ایک بدنام زمانہ ’’رکاوٹ‘‘ (بمپ، یاڈ ابھار) کی مرمت میں خود حصہ لیا۔ اس اقدام نے شہریوں میں مثبت ردِعمل پیدا کیا اور سوشل میڈیا پر انہیں عملی میئر کے طور پر سراہا گیا۔
EPAPER
Updated: January 07, 2026, 6:03 PM IST | New York
نیویارک سٹی کے پہلے جنوب ایشیائی میئر ظہران ممدانی نے ڈیلنسی اسٹریٹ پر واقع ایک بدنام زمانہ ’’رکاوٹ‘‘ (بمپ، یاڈ ابھار) کی مرمت میں خود حصہ لیا۔ اس اقدام نے شہریوں میں مثبت ردِعمل پیدا کیا اور سوشل میڈیا پر انہیں عملی میئر کے طور پر سراہا گیا۔
ظہران ممدانی نیو یارک سٹی کے پہلے میئر ہیں جنہوں نے نئے سال کی شام بال ڈراپ کے بعد ایک سب وے اسٹیشن کے اندر منعقدہ نجی تقریب میں قرآنِ مجید پر حلف لیا۔ جنوب ایشیائی پس منظر کے پہلے میئر کے طور پر وہ مسلسل تاریخی سنگِ میل قائم کر رہے ہیں، اور ۳۴؍ سالہ سیاستدان اکثر عوامی توجہ اور سوشل میڈیا پر وائرل رہتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک اور واقعہ نے انہیں عوام کے مزید قریب کر دیا۔ منگل (امریکی وقت) کو ڈیلنسی اسٹریٹ پر میئر کی عوامی موجودگی نے انٹرنیٹ پر خاصی گفتگو چھیڑ دی۔ شہریوں نے ایک طویل عرصے سے نظرانداز کئے گئے مسئلہ، ’’سڑک پر موجود ایک خطرناک بمپ یا ابھار)کو درست کرنے پر میئر کی تعریف کی، جس نے سائیکل سواروں اور پیدل چلنے والوں کو برسوں سے پریشان کر رکھا تھا۔ میئر ممدانی کو محکمہ ٹرانسپورٹیشن کے عملے کے ساتھ مل کر عملی کام کرتے دیکھا گیا۔ وہ خود بیلچہ تھامے ولیمزبرگ پل پر ڈامر پھیلا رہے تھے۔ پل کے مین ہٹن سائیڈ کے قریب وقع ابھار طویل عرصے سے شہریوں کیلئے مشکل اور خطرناک ثابت ہو رہا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران میں کریک ڈاؤن پر ٹرمپ کی سپریم لیڈر کو قتل کی دھمکی: امریکی سینیٹر
Literally in 6 days has already made my life better than Eric Adams did in 4 years lmao https://t.co/dKv6IFpJpW
— Rick Paulas (@rick_paulas) January 6, 2026
Any biker on this route knows that bump was ridiculous. Happy he’s fixing it https://t.co/DaDEADhxLH
— Greg Folsom (@JustGregFolsom) January 6, 2026
I think this is awesome because this is something only someone who lives and experiences the city would do. Man of the people. This is what city funds should do instead of idk… paying for police brutality settlements and sexual harassment lawsuits https://t.co/zro9uqdkwk
— cass (@Casaraptor) January 7, 2026
It seems so silly but this is the shit that makes people believe in government again 🔥 https://t.co/3AkAeAQgIV
— SemiStableBi (@dmcleod28) January 7, 2026
اس موقع پر میئر نے بتایا کہ ان کی انتظامیہ کا ہدف پل سے بووری تک ڈیلنسی اسٹریٹ کے ۷۰؍ ملین ڈالر کے منصوبے کو ازسرِنو ڈیزائن کرنا ہے۔ ٹرانسپورٹیشن کمشنر مائیک فلن کے مطابق اس منصوبے سے پیدل چلنے والوں کیلئے زیادہ جگہ اور سائیکل کیلئے بہتر راستے فراہم کئےجائیں گے۔ اگرچہ کچھ شہریوں کے نزدیک اس ’’ابھار‘‘ کا خاتمہ غیرضروری یا حتیٰ کہ ایک پرانی یاد کے خاتمے جیسا محسوس ہوا، لیکن اکثریت نے اس اقدام کو سراہا۔ ٹرانسپورٹیشن الٹرنیٹِوز کے ایک عہدیدار نے اسے شہریوں کیلئے ’’ہمارا سپر باؤل‘‘ قرار دیا۔ دوسری جانب، بعض افراد نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ یہ رکاوٹ ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی تھی۔ایکس پر صارفین نے میئر کے اس عملی قدم کو بھرپور داد دی۔ کئی پوسٹس میں کہا گیا کہ برسوں سے درپیش ایک چھوٹے مگر تکلیف دہ مسئلے کو فوری طور پر حل کرنا شہری زندگی کے معیار کو براہِ راست بہتر بنانے کے مترادف ہے۔ کچھ نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ایسے ہی ’’چھوٹے مگر ٹھوس‘‘ کام عوام کا اعتماد بحال کرتے ہیں۔
مجموعی طور پر، یہ واقعہ اس بات کی مثال بن گیا کہ بڑے وژن کے ساتھ ساتھ روزمرہ شہری مسائل پر توجہ دینا کس طرح عوامی اعتماد اور پذیرائی کا باعث بن سکتا ہے۔