• Thu, 22 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

اڈانی کے شیئروں میں گراوٹ کا سلسلہ بدستور جاری

Updated: February 07, 2023, 12:20 PM IST | Mumbai

؍ ۱۲دنوں میں ۶۰؍ فیصد گرنے کے بعد پیر کو کمپنی کے شیئر وں میں اور بھی گراوٹ آئی لیکن ’ اڈانی پورٹس‘کی عمدہ کارکردگی کے سبب شام ہونے تک نقصان کا سلسلہ قابو میں آیا

At present, it is difficult to say where Gautam Adani`s decline will end (file photo).
فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ گوتم اڈانی کا تنزل کہا ںجا کر رکے گا( فائل فوٹو)

ملک بھر میں صنعتکار گوتم اڈانی کے شیئر مارکیٹ گھوٹالے کے خلاف احتجاج ہو رہے ہیں۔ پارلیمنٹ میں بھی اس معاملے پر ہنگامہ ہو رہا ہے ۔ حکومت نے تو اب تک اس معاملے میں کسی بھی طرح کی جانچ کا حکم یا اشارہ نہیں دیا ہے لیکن  اسٹاک مارکیٹ میں  اڈانی کی کمپنیوں کی حالت خستہ ہوتی جا رہی ہے۔  ۲۴؍ جنوری کے بعد سے  ۵؍ فروری تک اڈانی کے شیئروں میں  ۶۰؍ فیصد تک کی گراوٹ آ چکی تھی۔ پیر کے روز یعنی ۱۳؍ ویں دن بھی یہ گراوٹ جاری رہی لیکن شام ہونے تک کسی طرح   اس کی تلافی بھی ہو گئی۔ 
 یاد رہے کہ گزشتہ ۲۴؍ جنوری کو امریکہ کی   انویسٹ منٹ ریسرچ فرم ’ہنڈن برگ‘ نے ایک رپورٹ شائع کی تھی کہ گوتم  اڈانی کا بیشتر کاروبار جعلسازی پر مبنی ہے یعنی ان کی کئی کمپنیاں ایسی ہیں جو صرف کاغذ پر ہیں ، زمین پر ان کا وجود ہی نہیں ہے۔  اس کے بعد سے اسٹاک مارکیٹ میں بھگدڑ مچی ہوئی ہے۔   لوگ اڈانی کی کمپنیوں سے اپنا پیسہ نکال رہے ہیں اور  ان کی کمپنیوں کے شیئر مسلسل گر رہے ہیں۔  حتیٰ کہ ۱۲؍ دنوں میں یہ شیئر  ۶۰؍ فیصد تک گر گئے۔ واضح رہے کہ سنیچر اور اتوار کو مارکیٹ بند رہتا ہے اس لحاظ سے یہ گراوٹ جمعہ ہی کو آگئی تھی۔  یعنی ۱۰؍ دنوں کے اندر ہی کمپنی کی یہ حالت ہو گئی تھی۔ پیر کی صبح جب  اسٹاک مارکیٹ کھلا تو  گوتم اڈانی کی اصل کمپنی ’ اڈانی انٹرپرائز‘  کے شیئروں میں ۵؍ فیصد کی گراوٹ آگئی تھی۔ اس کی وجہ سے مارکیٹ میں افراتفری مچ گئی اور لوگ اپنے شیئر بیچنے لگے۔ لیکن شام ہوتے ہوتے حالات نے کروٹ لی اور اڈانی کے شیئر پھر اوپر آئے۔  
 اڈانی پورٹس نے سہار ا دیا
 صبح اڈانی انٹر پرائز  میں آنے والی گراوٹ کا اثر اڈانی کی دیگر کمپنیوں پر بھی پڑا  اور سب سے زیادہ خراب حالت اڈانی ٹرانس مشن کی رہی جس کے شیئروں میں ۱۰؍ فیصد کی گراوٹ  آئی۔ اس کے علاوہ اڈانی گرین، اڈانی پاور، اڈانی ویلمر  کے شیئر  میں ۵۔ ۵؍ فیصد کی کمی آئی۔ لیکن جیسے جیسے کاروبار آگے بڑھا  ویسے ویسے  اڈانی انٹرپرائز کی کارکردگی کسی حدتک بہتر ہوتی گئی  اور بازار بند ہونے تک اس کی گراوٹ ۵؍ فیصد سے گھٹ کر ۲ء۰۵؍ فیصد رہ گئی۔ لیکن کمپنی کو اگر کسی نے سہارا دیا ہے تو وہ ہے ’اڈانی پورٹس‘ جس کے شیئر کے داموں میں ۸ء۶۳؍ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔  اس سے کمپنی کا نقصان کسی طرح مستحکم نظر آیا یعنی اس میں اضافہ نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ گوتم اڈانی کے ذریعے حال ہی میں خریدی گئی  این ڈی ٹی وی انڈیا کے شیئروں کے دام بھی ۲ء۴۲؍ فیصد بڑھ گئے۔  یاد رہے کہ این ڈی ٹی وی کی خریداری بھی ماہرین کی نظر میں متنازع تھی۔  اس کے ساتھ اے سی سی ۱ء۹۷؍ فیصد اور امبوجا سیمنٹ  ۰ء۹۱؍ فیصد اضافے کے ساتھ مضبوط ہوئے۔  اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ مجموعی طور پر گوتم اڈانی کیلئے  شیئر مارکیٹ کا(ہنڈن برگ رپورٹ کے بعد) ۱۳؍ واں دن  اطمینان بخش رہا لیکن یہ صرف ایک یا ۲؍ کمپنیوں کے دم   پر ہے ۔ ان کی باقی کمپنیوں کا تنزل برقرار ہے۔  پیر کے دن کو اس لئے بہتر کہا جائے کہ ۱۲؍ دنوں میں آنے والی ۶۰؍ فیصد گراوٹ ۱۳؍ ویں دن ۵۵؍ فیصد رہ گئی لیکن منگل کو  اندازہ ہو جائے گا کہ کمپنی کے آنے والے دن کیسے ہوں گے۔  مجموعی طور پر پیر کو شیئر مارکیٹ میں ۳۳۴؍ پوائنٹ کی گراوٹ آئی  اور  سینسیکس  ۶۰۵۰۶؍ پر بند ہوا۔ 
 اڈانی کے بونڈ قابل اعتماد نہیں
  اڈانی کے شیئروں کی گراوٹ تو ایک طرف اب عالمی سطح پر اس کی ساکھ بھی بچانا مشکل ہو گیا ہے کیونکہ کئی اہم بینکوں نے  اڈانی کے بونڈ کو ناقابل اعتماد قرار دیدیا ہے۔ پیر کو برٹش لینڈر اسٹینڈرڈ  چارٹرڈ بینک نے قرض کے عوض اڈانی کمپنی کے بونڈز کو  قبول کرنا بند کر دیا ہے۔  اس سے قبل سٹی گروپ اور کریڈٹ لوئس بینک بھی یہ فیصلہ کر چکے ہیں۔  واضح رہے کہ بینک جب صارفین کو قرض دیتے ہیں تو بدلے میں کوئی چیز گروی رکھتے ہیں۔ گروی رکھنے کیلئے جو چیزیں قابل قبول ہوتی ہیں ان میں مضبوط کمپنیوں کے شیئر بھی ہوتے ہیں۔جب بینک کو لگتا ہے کہ کوئی کمپنی کسی بھی وقت ڈوب سکتی ہے تو وہ اس کے بونڈ ( شیئر سے متعلق معاہدہ)  قبول کرنا بند کر دیتا ہے۔  کل تک دنیا کے تیسرے اور ایشیا کے  سب سے کامیاب صنعتکار اڈانی کی کمپنیوں کے بونڈ ۲؍ ہفتے سے بھی کم عرصے میں ناقابل قبول ہوچکے ہیں۔ پیر کو اڈانی دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں ۲۱؍ ویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔ حالانکہ یہ ان کی ترقی ہے کیونکہ جمعہ کو مارکیٹ بند ہونے سے پہلے وہ ۲۲؍ ویں نمبر پر تھے۔ 

adani Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK