مگر ویسٹرن اور سینٹرل ریلویز میں مجموعی خدمات میں کوئی اضافہ نہیں، یہ جنرل سروسیز میں تخفیف سے کیا جائے گا جو عام مسافروں کی حق تلفی کے مترادف ہے۔عام مسافروں کو دشواری ہوگی۔
اے سی لوکل باندرہ سے گزر رہی ہے۔ تصویر، انقلاب:آشیش راجے
آج بروز پیر۲۶؍ جنوری سے ویسٹرن ریلوے میں۱۲؍اے سی لوکل کا اضافہ کرنے کا ویسٹرن ریلوے انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے۔ اس کے بعد ویسٹرن ریلوے میں اے سی لوکل کی تعداد بڑھ کر۱۲۱؍ ہوجائے گی۔ اسی طرح سینٹرل ریلوے میں ہاربر لائن پر واشی ، پنویل اور سی ایس ایم ٹی کے درمیان۱۴؍اے سی خدمات کا اضافہ کیا جارہا ہےمگر اہم بات یہ ہے کہ یہ اضافہ جنرل ٹرینیں کم کرکے کیا جائے گا۔ الگ سے ٹرینیں نہیں بڑھائی جائیں گی۔ مطلب ویسٹرن ریلوے میں چلائی جانے والی مجموعی ایک ہزار ۴۰۶؍ سروسیز میں سے ہی انہیں اے سی میں تبدیل کیا جائے گا ،اس لئے مجموعی سروسیز میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
ویسٹرن ریلوے انتظامیہ نے مسافروں کی جانب سے مطالبے کا حوالہ دیا ہے کہ اسے پورا کیا جارہا ہے جبکہ یہ نہیں واضح کیا گیا کہ جنرل سروسیز کم کرنے سے عام مسافروں کو جو دشواری ہوگی، اسے کس طرح حل کیا جائے گا۔ اس لئے کہ ٹرینیں کم کرنے سے جنرل کٹیگری کے مسافروں کو دقت ہوگی۔یہ تفصیلات ویسٹرن ریلوے کے چیف پی آر او ونیت ابھیشیک نے نمائندہ انقلاب کو بتائیں۔
ہاربر لائنوں پر پنویل واشی سے
سی ایس ایم ٹی کے درمیان ۱۴؍اے سی سروسیز
سینٹرل ریلوے انتظامیہ کی جانب سے ۲۶؍ جنوری سے۱۴؍ نان اے سی خدمات کو اے سی لوکل میں ہاربر لائنز پر تبدیل کیا جارہا ہے ۔اس کا نظام الاوقات کچھ اس طرح ہوگا۔ دن میں پہلی اے سی سروس واشی اسٹیشن سے علی الصباح ۴؍ بجکر ۱۵؍ منٹ وڈالا کے لئے روانہ ہوگی اور ڈاؤن ٹرین کی واپسی وڈالا سے صبح۵؍ بج کر۶؍ منٹ پرپنویل کے لئے ہوگی۔ اسی طرح بقیہ اے سی لوکل ہوں گی۔ اس کے ساتھ ہی سینٹرل ریلوے پر اے سی لوکل ٹرین خدمات کی کل تعداد بڑھ کر اب ۹۴؍ ہو جائے گی (مین لائن پر۸۰؍ اور ہاربر لائن پر۱۴؍) تاہم، سینٹرل ریلوے پر مضافاتی ٹرین خدمات کی کل تعداد ایک ہزار۸۲۰؍ خدمات ہی رہے گی، مجموعی خدمات میں کوئی اضافہ نہیں کیا جارہا ہے۔ اس طرح یہ کہا جارہا ہے کہ یہ عام مسافروں کی حق تلفی کرتے ہوئے تبدیلی لائی جارہی ہے۔
مسافروں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی ہاربر اور ٹرانس ہاربر لائنوں پر اے سی لوکل ٹرینوں کو متعارف کرانے کی متعدد کوششیں کی گئی تھیں لیکن انہیں ہاربر لائن پر پزیرائی نہ ہونے کی وجہ سے ایک یا دو سال کے اندر سروس کو ختم کردینا پڑا تھا۔
اس پر سینٹرل ریلوے کے حکام نے کہا کہ مسافروں کی طرف سے مطالبہ کئے جانے کے بعد نئے سرے سے خدمات کو دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔پہلے ٹرانس ہاربر لائن (تھانے- واشی/ نیرول-پنویل) سیکشن پر۳۱؍ جنوری۲۰۲۰ء (ٹرانس ہاربر کوریڈور پر باقاعدہ خدمات شروع ہوئیں) اور مسافروں کی جانب سے پزیرائی نہ کئے جانے پر۲۰؍ مارچ۲۰۲۰ء سے بند کردی گئیں۔ پھر۷؍ اکتوبر۲۰۲۱ء سے ٹرانس ہاربر لائن پر اے سی خدمات بحال کی گئیں۔
اس کے بعد۳؍ جنوری۲۰۲۲ء کو ٹرانس ہاربر لائن سے اے سی خدمات واپس لے لی گئیں۔ اس کے بعد ایس ایم ٹی گوریگاؤں سیکشن پر متعارف کرایا گیا۔ بعد میں وہاں سے بھی واپس لے لیا گیا۔ اس کے بعد سے ایس ایم ٹی گوریگاؤں کے درمیان نان اے سی لوکل کو ہاربر لائن پر توسیع دی گئی۔
اب پھر۲۶؍ جنوری۲۰۲۶ء( سی ایس ایم ٹی پنویل ہاربر لائن) پر۱۴؍ اے سی خدمات شروع کی جارہی ہیں۔ دیکھنا ہوگا کہ مسافروں کی جانب سے کس قدر پزیرائی کی جاتی ہے؟یہ پہلے جیسا ہی حشر ہوتا ہے اور پھر اے سی سروسیز بند کرنے کی نوبت آتی ہے۔