سینٹرل ریلوےمیں خصوصی لوکل ٹرینوں کا اضافہ

Updated: July 02, 2020, 10:34 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

لاک ڈاؤن کےدوران۱۵؍جون سے شروع کی گئی خصوصی لوکل ٹرینوں کی خدمات میں یکم جولائی سے۱۵۰؍سروسیز کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ اس سےسینٹرل ریلوےمیں ایمرجنسی عملہ کے لئے چلائی جانےوالی ٹرینوں کی مجموعی تعداد اب۳۵۰؍ہوگئی ہیں۔

Local Train - Pic : INN
لوکل ٹرین ۔ تصویر : آئی این این

لاک ڈاؤن کےدوران۱۵؍جون سے شروع کی گئی خصوصی لوکل ٹرینوں کی خدمات میں یکم جولائی  سے۱۵۰؍سروسیز کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ اس سےسینٹرل ریلوےمیں ایمرجنسی عملہ کے لئے چلائی جانےوالی ٹرینوں کی مجموعی تعداد اب۳۵۰؍ہوگئی ہیں۔ یہ ٹرینیں سی ایس ٹی سے کرجت کسارا اور تھانے سیکشن کےساتھ ہاربر لائن پر چلائی جائیں گی ۔ یہ تمام ٹرینیں فاسٹ ہوں گی اور اہم اسٹیشنوں پر ہی رکیں گی۔
  ان۱۵۰؍ٹرین خدمات میں ۱۰؍ہزار۵۰۰؍مسافروں کیلئے سفر کی گنجائش ہوگی۔لاک ڈاؤن کےسبب سماجی دوری کا خاص خیال رکھا جارہا ہے چنانچہ محض۷۰۰؍مسافروں کی ہی ایک ٹرین میں گنجائش رہتی ہے جبکہ عام دنوں میں ایک ٹرین میں ۱۲۰۰؍مسافروں کی گنجائش ہوتی تھی۔ ان ٹرینوں میں سینٹرل ریلوے کے جی ایس ٹی انکم ٹیکس ڈاک و  تارمحکمے ،  بامبے پورٹ ٹرسٹ، نیشنلائزڈ بینک ،  عدالت میں خدمات دینےوالا عملہ اور راج بھون میں کام کرنےوالا عملہ سفر کرے گا۔
  ان ملازمین کی سہولت کے لئے مرکزی حکومت کی جانب سےریاستی حکومت کو مکتوب روانہ کیا گیاتھا اس کےبعد ریلوے سے صلاح ومشورہ کےبعد سروسیز بڑھائی گئیں۔ ان خصوصی لوکل ٹرینوں میں عام مسافروں کی سفرکی بالکل اجازت نہیں ہوگی۔ 
 ٹرین خدمات بڑھائےجانے سے ویسٹرن ریلوے میں ۲۰۲؍اور سینٹرل ریلوےمیں ۳۵۰؍ہوگئی ہے اور مجموعی طور پر تقریباً۲؍لاکھ مسافروں کے لئے سفر کی گنجائش پیدا ہوگئی ہے۔ 
عام مسافروں کے لئے ٹرینیں شروع کرنے کا مطالبہ
  عام مسافروں کی جانب سے متعدد مرتبہ یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ لوکل ٹرینیں احتیاطی تدابیر کو ملحوظ رکھتےہوئے شروع کی جائیں لیکن اب تک ریاستی حکومت کی جانب سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ البتہ اب یہ کہا جارہا ہے کہ اگرمرکزی حکومت اجازت دےگی توٹرینیں شروع کی جاسکتی ہیں جبکہ مرکزی حکومت نے حالات کے لحاظ سے فیصلہ کرنےکااختیارریاستوں کودیاہے۔ چنانچہ دیکھنا ہوگا کہ ریاستی حکومت عام مسافروں کے لئے لوکل ٹرینیں شروع کرنےکے لئے کب ہری جھنڈی دکھاتی ہے اور کب سے لائف لائن پٹریوں پر دوڑناشروع کرتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK