۹۸؍ ویں اکیڈمی ایوارڈز کے ریڈ کارپٹ پر اس سال فلمی ستاروں نے سیاسی اور انسانی پیغامات کے ذریعے توجہ حاصل کی۔ کئی اداکاروں اور فلم سازوں نے غزہ میں جنگ بندی، فلسطینی عوام کی حمایت اور ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کا اظہار کیا۔
EPAPER
Updated: March 16, 2026, 2:24 PM IST | Los Angeles
۹۸؍ ویں اکیڈمی ایوارڈز کے ریڈ کارپٹ پر اس سال فلمی ستاروں نے سیاسی اور انسانی پیغامات کے ذریعے توجہ حاصل کی۔ کئی اداکاروں اور فلم سازوں نے غزہ میں جنگ بندی، فلسطینی عوام کی حمایت اور ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کا اظہار کیا۔
لاس اینجلس میں منعقد ہونے والے ۹۸؍ ویں اکیڈمی ایوارڈز میں اس بار فلمی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ سیاسی اور انسانی پیغامات بھی نمایاں رہے۔ ریڈ کارپٹ پر کئی اداکاروں اور فلم سازوں نے غزہ میں جنگ بندی، فلسطینی عوام کی حمایت اور ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کا اظہار کیا۔ تقریب میں شرکت کرنے والے کئی فنکاروں نے اپنے لباس پر Artists 4 Ceasefire (آرٹسٹس فار سیز فائر) کے سرخ رنگ کے پن پہن رکھے تھے۔ یہ بیج اس مہم کی علامت ہے جس کے ذریعے تخلیقی برادری کے افراد غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
The team behind the Palestinian drama ‘The Voice of Hind Rajab’ arrive at the #Oscars sporting pins calling for a permanent ceasefire.pic.twitter.com/YJQdmyMTWA
— Pop Base (@PopBase) March 15, 2026
Javier Bardem کا واضح پیغام
ہسپانوی اداکار ہاویئر بارڈیم نے تقریب میں خاص توجہ حاصل کی۔ انہوں نے ریڈ کارپٹ پر No a la Guerra (جنگ نہیں) لکھا ہوا پن پہنا۔ یہ وہی پیغام ہے جو انہوں نے ۲۰۰۳ء میں عراق جنگ کے خلاف مظاہروں کے دوران بھی استعمال کیا تھا۔
بارڈیم نے اس کے ساتھ ’’حنظلہ‘‘ Handala کا پن بھی پہنا، جو معروف فلسطینی کارٹونسٹ Naji al-Ali کی تخلیق کردہ علامت ہے۔ یہ کردار فلسطینی عوام کی جدوجہد اور مزاحمت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
جب بارڈیم نے اسٹیج پر بیسٹ انٹرنیشنل فیچر فلم کا ایوارڈ پیش کیا تو انہوں نے واضح الفاظ میں کہا: آزاد فلسطین.... جنگ نہیں۔‘‘ ان کے اس بیان پر ہال میں موجود حاضرین نے زور دار تالیاں بجائیں۔ اس دوران بالی ووڈ اور ہالی ووڈ اداکارہ پرینکا چوپڑہ بھی ان کے ساتھ کھڑی تھیں۔
بعد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بارڈیم نے کہا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور ان کے مطابق طاقتور حکومتوں کی پالیسیوں نے خطے میں تشدد کو بڑھایا ہے۔
Javier Bardem revives his 2003 Iraq War protest pin at the 2026 #Oscars to condemn the current war in Iran. pic.twitter.com/MnYmTMLQER
— The Hollywood Reporter (@THR) March 15, 2026
Charithra Chandran کا جنگ بندی کا مطالبہ
برطانوی اداکارہ چرترا چندرن بھی ان فنکاروں میں شامل تھیں جنہوں نے Artists 4 Ceasefire پن پہنا۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’’ ہم صرف ایک چیز کا مطالبہ کر رہے ہیں — غزہ میں فوری جنگ بندی۔ مجھے خوشی ہے کہ میرے پاس ایک پلیٹ فارم ہے اور میں اسے انسانی مسئلے کے لیے استعمال کر سکتی ہوں۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’عالمی خبروں کا سلسلہ بہت تیزی سے بدل جاتا ہے لیکن غزہ اور مغربی کنارے کے لوگ اب بھی شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔‘‘
Charithra Chandran explains why it was important for her to wear an ‘Artists4Ceasefire’ pin at the #Oscars
— The Hollywood Reporter (@THR) March 15, 2026
Watch the Oscars LIVE on ABC pic.twitter.com/syPfOvFfdE
فلم The Voice of Hind Rajab کی ٹیم کا احتجاج
فلسطینی ڈرامہ The Voice of Hind Rajab کی ٹیم بھی آسکر تقریب میں جنگ بندی کے مطالبے کے ساتھ پہنچی۔ یہ فلم بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کی نامزدگی حاصل کرنے والی فلموں میں شامل تھی۔ فلم کی کہانی غزہ میں جنگ کے دوران پانچ سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کی موت اور اسے بچانے کی کوشش کرنے والے امدادی کارکنوں کی جدوجہد کے گرد گھومتی ہے۔ریڈ کارپٹ پر فلم کی کاسٹ نے بھی Artists 4 Ceasefire پن پہن کر فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
Suja Kalyani کا عالمی جنگوں پر بیان
فلم کی اداکارہ سجا کلیانی نے کہا کہ یہ علامت صرف ایک خطے کے لیے نہیں بلکہ دنیا بھر میں جاری تشدد کے خلاف احتجاج ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ آج بھی بمباری جاری ہے۔ تباہی اور نقل مکانی صرف ایک جگہ نہیں بلکہ کئی علاقوں میں ہو رہی ہے۔ فلسطین، لبنان اور ایران سمیت کئی خطے متاثر ہو رہے ہیں۔ ہم مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ‘‘
Clara Khoury کا انسانی پیغام
اسی فلم کی اسرائیلی اداکارہ کلارا خوری نے بھی اس پیغام کو وسیع تر انسانی مسئلے سے جوڑا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ دنیا بھر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ ہم سب انسان ہیں اور نفرت ایک کینسر کی طرح ہے۔ حکومتوں کو ایک دوسرے کو تسلیم کرنا چاہیے اور ہر جگہ ہونے والے ظلم کا جواب دینا چاہیے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: آسکر ۲۰۲۶ء: ’’ون بیٹل آفٹر اَندر‘‘ ۶؍ ایوارڈز کے ساتھ بہترین فلم
فلسطینی اداکار Motasem Malhees تقریب میں کیوں نہ آ سکے؟
فلم ’’دی وائس آف ہند رجب‘‘ کے ایک اور اداکار معتز ملحیس آسکر تقریب میں شرکت نہیں کر سکے۔انہوں نے بتایا کہ وہ امریکہ کی سفری پابندیوں کی وجہ سے لاس اینجلس نہیں جا سکے۔ ان کے مطابق فلسطینی اتھاریٹی کے سفری دستاویزات رکھنے والوں پر عائد پابندیوں کے باعث ان کا سفر ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے انسٹاگرام پر لکھا کہ ’’ یہ تکلیف دہ ہے، لیکن حقیقت یہی ہے۔ آپ پاسپورٹ کو روک سکتے ہیں، مگر آواز کو نہیں روک سکتے۔ ‘‘
“No to war and Free Palestine” #Oscars pic.twitter.com/YR6g6QDHPR
— State of Palestine (@Palestine_UN) March 16, 2026
آسکر ۲۰۲۶ء میں سیاسی پیغامات کی جھلک
اس سال کے اکیڈمی ایوارڈز نے یہ بھی ظاہر کیا کہ ہالی ووڈ کے کئی فنکار فلمی پلیٹ فارم کو انسانی اور سیاسی مسائل کے اظہار کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ریڈ کارپٹ پر نظر آنے والے پن اور علامتیں اس بات کی علامت تھیں کہ فنکار غزہ میں جنگ بندی، فلسطینی عوام کے حقوق اور خطے میں جاری جنگوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔