Inquilab Logo Happiest Places to Work

سرکاری یقین دہانیوں کے باوجود رسوئی گیس کیلئے ہاہا کار برقرار

Updated: March 16, 2026, 11:47 AM IST | New Delhi

انتظامیہ نے چھاپہ مار کر ۸۸؍ سلنڈر برآمد کئے، راجستھان میں ایل این جی کابھی بحران، ہریانہ میں  پیٹرول پمپ مالکان کو ضرورت سے زیادہ تیل نہ دینے کی ہدایت۔

People can be seen queuing outside the agency in Ranchi. Photo: INN.
رانچی میں لوگوں کو ایجنسی کے باہر قطار میں دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این۔

حکومت کے اس دعوے اور یقین دہانی کے باوجود کہ ملک میں  رسوئی گیس کی کوئی کمی نہیں   ہے، ایل پی جی سلنڈر کے حصول کیلئے ہاہاکار کی کیفیت برقرار ہے۔ بکنگ کے باوجود سلنڈر نہ ملنے پر لوگوں  کا گیس ایجنسی کے دفتروں   پر پہنچنے اور وہاں لمبی لمبی قطاریں  لگ جانے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ کانپور میں  صبح ۹؍ بجے گیس ایجنسی نے ’’آج گیس نہیں ملے گی‘‘ کا بورڈ لگایا تو ہنگامہ مچ گیا۔ پولیس کوموقع پر پہنچ کر حالات کو سنبھالنا پڑا۔ اُدھر لکھنؤ کے ابھینندن ریزارٹ پر چھاپہ مار کرانتظامیہ نے ۸۸؍ سلنڈر ضبط اور ریزارٹ مالک سمیت ۵؍ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی ہے۔ 
راجستھان میں ایل پی جی کے ساتھ سی این جی کا بحران
راجستھان میں بھی لوگ ایل پی جی کیلئے پریشان ہیں۔ گھروں میں چولہے تک نہیں جل پا رہے ہیں۔ گیس ایجنسیوں   کے باہر لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ اس بیچ یہاں  ایل پی جی کے ساتھ ہی سی این جی کا بھی بحران نظر آرہاہے۔ آٹو رکشوں کی ایک ایک کلومیٹر لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔ اَلور کے راج گڑھ قصبے میں لوگ اتوار کو جَیف گیس ایجنسی سے سلنڈر لینے پہنچے لیکن صبح۱۰؍ بجے تک دفتر نہ کھلنے پر برہم ہوکر لوگوں نے ریلوے اسٹیشن سے الور جانے والی سڑک کو جام کر دیا۔ 
بہار میں  صبح ۴؍ بجے سے قطاریں 
بہار میں سلنڈر لینے کیلئے لوگ صبح سویرے ہی گیس ایجنسیوں کے باہر قطاروں میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پٹنہ کے بِہٹا میں صبح ۴؍ بجے سے گیس ایجنسی کے باہر لمبی لائنیں دیکھی گئیں۔ داناپور اور بگہا میں گیس سلنڈر آنے کے باوجود تقسیم نہ کیے جانے پر ناراض لوگوں نے سڑکیں بند کر دیں۔ بہار میں نئے گیس کنکشن پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ گیس ایجنسیاں نہ صرف نئے کنکشن نہیں دے رہی ہیں بلکہ جن صارفین کے پاس ایک سلنڈر ہے انہیں دوسرا سلنڈر بھی فراہم نہیں کیا جا رہا۔ 

یہ بھی پڑھئے: پی این جی صارفین کے لیے بڑا جھٹکا، اب ایل پی سی سلنڈرنہیں رکھ سکیں گے

لکڑی اور کوئلے کی مانگ میں اضافہ
سلنڈروں کی کمی کا اثر اب بازار پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ گیس دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے لکڑی اور کوئلے کی مانگ بڑھ گئی ہے، جس کے باعث ان کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انڈکشن چولہوں کی قیمتیں بھی تقریباً ۵؍گنا تک بڑھ گئی ہیں۔ بہار کی طرح مدھیہ پردیش، اتر پردیش، پنجاب-چنڈی گڑھ، ہریانہ اور راجستھان سمیت کئی ریاستوں میں گیس سلنڈر کیلئے صبح سے ہی گیس ایجنسیوں اور گوداموں کے باہر قطاریں لگ رہی ہیں۔ 
گیس سلنڈر بلیک مارکیٹنگ
ایل پی جی بحران کے باعث گیس سلنڈروں کی بلیک مارکیٹنگ بڑھ گئی ہے۔ ۹۵۰؍ روپے میں ملنے والا گھریلو گیس سلنڈر بلیک میں ۵۳۰۰؍ روپے تک اور۲؍ہزار روپے کا کمرشیل سلنڈر۵؍ہزار روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ 
ہریانہ میں پٹرول اور ڈیزل کی سپلائی پر بھی نظر
ہریانہ میں گیس سلنڈر کی قلت کے درمیان اچانک ڈیزل کی مانگ بھی بڑھ گئی ہے۔ پٹرول پمپوں پر معمول سے زیادہ ڈیزل فروخت ہو رہا ہے کیونکہ صارفین ایران جنگ کی وجہ سے لاحق اندیشوں  کے پیش نظر ضرورت سے زیادہ ڈیزل خرید کر ذخیرہ کر رہے ہیں۔ انتظامیہ نے پٹرول اور ڈیزل کی سپلائی پر نظر رکھنا شروع کر دی ہے۔ محکمہ خوراک و شہری رسد نے تمام پیٹرول پمپ مالکان کو ہدایت دی ہے کہ پیٹرول، ڈیزل اور سی این جی کی مناسب سپلائی یقینی بنائیں اور کسی صارف کو ضرورت سے زیادہ ایندھن نہ دیں۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ لوگ غیر ضروری طور پر ایندھن ذخیرہ کر رہے ہیں جس سے سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے پمپ مالکان اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایندھن صرف معمول کی ضرورت کے مطابق ہی فراہم کیا جائے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK