ادیشہ کے کٹک میں واقع ایس سی بی میڈیکل کالج کے ٹراما کیئر سینٹر کے آئی سی یو میں پیر کی علی الصبح آگ لگنے سے کم از کم ۱۰؍مریض ہلاک ہو گئے۔ حادثے کے بعد کئی مریضوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ حکومت نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
EPAPER
Updated: March 16, 2026, 12:57 PM IST | Bhubaneswar
ادیشہ کے کٹک میں واقع ایس سی بی میڈیکل کالج کے ٹراما کیئر سینٹر کے آئی سی یو میں پیر کی علی الصبح آگ لگنے سے کم از کم ۱۰؍مریض ہلاک ہو گئے۔ حادثے کے بعد کئی مریضوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ حکومت نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
ادیشہ کے شہر کٹک میں واقع ایس سی بی میڈیکل کالج اور اسپتال کے ٹراما کیئر سینٹر کے آئی سی یو میں پیر کی صبح آگ لگنے سے کم از کم۱۰؍ مریض ہلاک ہو گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق آگ تقریباً ڈھائی بجے سے تین بجے کے درمیان لگی۔ اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور آگ بجھانے کیلئے کارروائی کرتے ہوئے اس پر قابو پا لیا۔ وزیر اعلیٰ ماجھی نے اس واقعے میں جان گنوانے والوں کے لواحقین کیلئے۲۵؍ لاکھ روپے کی امدادی رقم (ایکس گریشیا) کا اعلان بھی کیا۔ آگ لگنے کے بعد فائر فائٹرز اور اسپتال کے عملے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کئی مریضوں کو بچا کر محفوظ وارڈز میں منتقل کیا۔ رپورٹس کے مطابق بعض مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
VIDEO | Cuttack: A major fire erupted in an ICU in Odisha government-run SCB Medical College and Hospital here in the wee hours of Monday, leaving at least ten patients killed and eleven injured. More details awaited.
— Press Trust of India (@PTI_News) March 16, 2026
(Full video available on PTI Videos -… pic.twitter.com/WlyePmWHOQ
ادیشہ کے سابق وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر نوین پٹنائک نے بھی اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ کٹک کے ایس سی بی میڈیکل میں پیش آنے والا آگ کا واقعہ انتہائی دل دہلا دینے والا ہے۔ انہوں نے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ ساتھ ہی انہوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ حکام کے مطابق ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے والے ایس سی بی میڈیکل کالج و اسپتال کے ۲۳؍ملازمین کو دھوئیں سے سانس لینے سمیت دیگر صحتی مسائل کے باعث اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔ وزیر اعلیٰ ماجھی نے زیر علاج مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ سے ملاقات بھی کی اور انہیں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے محکمہ صحت اور اسپتال انتظامیہ کو ہدایت دی کہ تمام زخمی اور متاثرہ مریضوں کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
یہ بھی پڑھئے: نجی زمین پر قائم مسجد میں نماز پر پابندی ناقابل قبول: عدالت
ادیشہ کے گورنر ہری بابو کمبھمپتی نے بھی اس حادثے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ متاثرہ مریضوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کا علاج بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے۔ انہوں نے متاثرہ افراد کیلئے نیک تمناؤں اور جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔ کانگریس کی ایم ایل اے صوفیہ فردوس، جو اسپتال کا دورہ کرنے پہنچیں، نے اس واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے اور اس کے اسباب اور خامیوں کو جاننے کیلئے محدود مدت میں عدالتی سطح کی اعلیٰ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ میں آرایس ایس پر پابندی کی سفارش
اگرچہ آگ لگنے کی اصل وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے، تاہم، حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔ اس واقعے کے بعد وزیر اعلیٰ ماجھی نے عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کیلئے دو لاکھ روپے اور زخمیوں کیلئے پچاس ہزار روپے کی امدادی رقم کا اعلان کیا۔