مظاہروں میں سرکاری املاک کے نقصان کی تلافی کیلئے انتظامیہ سرگرم

Updated: February 14, 2020, 2:13 PM IST | Agency | Lucknow

اترپردیش کی یوگی حکومت کی جانب سے پبلک پراپرٹی کے نقصانات کی تلافی مظاہرین سے کرنے کے اعلان کے دو ماہ بعد اب ایسا کرنے والا مظفر نگر پہلا ضلع ہوگا۔ انتظامیہ کا ۵۳؍ افراد سے ۲۳؍ لاکھ ۴۱؍ ہزار روپوں کی وصولی کا ہدف۔ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہونے کے باوجود اِس کارروائی پر انتظامیہ کی تنقید

مظاہروں میں سرکاری املاک کے نقصان کی تلافی کیلئے انتظامیہ سرگرم
مظفر نگر میں مظاہروں کے درمیان آتشزدگی کی واردات بھی ہوئی تھی ۔ تصویر : آئی این این

 لکھنؤ : شہریت ترمیمی قانون اور مجوزہ این آر سی اور این پی آر کے خلاف۲۰؍ دسمبر کو مظفر نگر میں ہونے والے احتجاج کے  دوران عوامی  املاک کے نقصانات کا تخمینہ لگا کرضلع انتظامیہ نے۵۳؍ افراد سے۲۳؍ لاکھ روپوں کے نقصانات کی تلافی کی کارروائی شروع کردی ہے۔
 ایک مہینے قبل مظفر نگر ضلع انتظامیہ نے۵۷؍ افرادکے خلاف احتجاج میں شامل ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے نوٹس جاری کیا تھا اوران سے سوال کیا  تھا کہ آخر ان سے۲۰؍ دسمبر کو احتجاج کے دوران  ہونے والے عوامی  املاک کے نقصانات کی تلافی کیوں نہ کی جائے؟انتظامیہ نے ان افراد کے نام نوٹس مقامی پولیس کی جانب سے سی سی ٹی وی فوٹیج اور حادثے کی ویڈیو کی مدد سے تیار کی گئی رپورٹ کی بنیا دپر جاری کیا تھا۔ 
 ریاست کی بی جے پی حکومت کی جانب سےپبلک پراپرٹی کے نقصانات کی تلافی مظاہرین سے کرنے کے اعلان  کے دو ماہ بعد اب ایسا کرنے والا مظفر نگر پہلا ضلع ہوگا۔وہیں مظاہرین کے نام ریکوری نوٹس جاری کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ نے  اس کیلئے الہ آباد ہائی کورٹ کے۲؍ دسمبر۲۰۱۰ءمیں محمد شجاع الدین بنام ریاست اترپردیش کے فیصلے کا حوالہ دیا ہے۔
 خیال رہے کہ ایک ماہ قبل انتظامیہ نے جن۵۷؍ افراد کے خلاف نوٹس جاری کیا تھا، ان میں سے۵۳؍ افراد نے یہ کہتے ہوئے اپنا جواب داخل کیا ہے کہ وہ اس تشدد میں ملوث نہیں تھے جبکہ تین افراد نے اپنا جواب نہیں دیا ہے۔ایس ڈی ایم (مظفر نگر)امیت سنگھ نے بتایا کہ جن افراد نے جواب داخل کیا تھا، ان کو ان کے تشدد میں ملوث ہونے کے شواہد دکھائے گئے ہیں۔
 مظفر نگر کے ایس ڈی ایم کے مطابق ’’ جن افراد کے نام  نوٹس جاری کیا گیا تھا، ان کے موقف کا سننے کے بعد اب تحصیل دار کو ایک نوٹس جاری کر کے یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ۵۳؍ افراد سے۲۳؍ لاکھ ۳۱؍ ہزار روپوں کی ریکوری کریں۔یہ پوری رقم ان تمام افراد کو مل کر دینی ہوگی۔‘‘ خیال رہے کہ ۵۷؍میں سے ۴؍ افراد کو عدم ثبوت کی بنیاد پرکلین چٹ دے دیا گیا ہے۔ان میں سے ایک نابالغ تھا اور دیگر کے تعلق سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ ان میں سے کئی سال قبل ایک شخص کی موت ہوچکی ہے۔ اس طرح کی باتیں بھی سامنے آئی تھیں کہ انتظامیہ کی جانب سے جاری کئے گئے ان نوٹسوں میں بعض نام ایسے بھی ہیں جو روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک ہیں۔ 
 ضلع انتظامیہ کے مطابق زیادہ تر نقصانات  منڈی کراسنگ کے سول لائن میں  ہوئے ہیں۔سول لائن میں اس ضمن میں ۳۰؍ معاملات درج کئے گئے ہیں۔سرکاری اورپرائیویٹ گاڑیوں سمیت تقریباً۲۱؍گاڑیوں کوبھی نقصان پہنچانے کاالزام عائد کیا گیا ہے جن میں سے کچھ گاڑیوں کو آگ کے حوالے کردینے کی بات بھی کہی گئی ہے۔ اس تعلق سے پولیس اور ایڈیشنل ریجنل ٹرانسپورٹ آفیسر نے کل ۲۳؍ لاکھ ۴۱؍ ہزار ۲۹۰؍ روپوں کے نقصانات کاتخمینہ لگایا تھا۔
 مظفر نگر کے سول لائن اور کوتوالی علاقے میں۲۰؍ دسمبر کو ہونےوالے احتجاجی مظاہرے کے دوران ایک شخص کی موت ہوگئی تھی جبکہ کچھ پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بات بھی کہی گئی تھی۔اس ضمن میں کل۴۵؍ ایف آئی آر درج کی گئی تھیں جن پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے اب تک۹۲؍ افراد کو گرفتار کیا  ہے۔خیال رہے کہ اس تعلق سے شروع ہی سے پولیس پر جانب داری کا الزام عائد کیا جارہا ہے بلکہ بعض معاملات میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام خود پولیس اہلکاروں پر ہی عائد کیاگیا ہے۔ اس تعلق سے سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز بھی جاری ہوئے ہیں لیکن انتظامیہ نے ان باتوں کا نوٹس نہیں لیا۔
 قابل ذکر ہے کہ مظفر نگر انتظامیہ کی جانب سے یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا جارہاہے جبکہ ریکوری نوٹس جاری کئے جانے کے سلسلے میں ایک عرضی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔۳۱؍ جنوری کو سپریم کورٹ میں جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس کے ایم جوزف کی بنچ نے عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ریاستی  حکومت کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا تھا کہ آخر عدالت  ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کی گئی ان  ریکوری نوٹسوں کو کیوں نہ رد کر دے؟عدالت  نےریاستی حکومت کو ۴؍ ہفتوں میں جواب داخل کرنے کی ہدایت دی  ہے۔
 عرضی گزار نیلوفر نے  الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے ضلع انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئی نوٹس  پر سوال اٹھا تے ہوئے کہا ہے کہ’’ نوٹس الہ آباد ہائی کورٹ کے ۲۰۱۰ء میں دئیے گئے  فیصلے پر مبنی ہے  جو کہ۲۰۰۹ء میں سپریم کورٹ کی جانب سے دیئے گئے فیصلے کے’رہنما اصولوں‘ کے خلاف ہے۔ان ہدایتوں کی۲۰۱۸ء     میں دوبارہ تصدیق کی گئی تھی۔ان کے مطابق ’’اس میں تضاد یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے ۲۰۰۹ء کے اپنے فیصلے میں نقصانات کا تخمینہ اور قصورواروں سے تلافی کی ذمہ داری ریاستوں کے ہائی کورٹ کو سونپی تھی جبکہ الہ آباد ہائی کورٹ نے۲۰۱۰ء میں  ہدایات جاری کرتے ہوئے  کہا تھا کہ ریاستی حکومت کوتلافی کی کارروائی کی ذمہ داری لینے دیںجو کہ کافی مضر ثابت ہورہا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK