Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممبئی - پونے ’مسنگ لنک‘ کیا ہے اور اس کی ضرورت کیوں تھی؟

Updated: April 29, 2026, 12:42 PM IST | Agency | Pune

کھپولی سے لوناولہ کے درمیان گھاٹ سیکشن کا حصہ ٹریفک جام ، خطرناک موڑوں ،حادثات اور لینڈسلائیڈنگ کیلئے جانا جاتا ہے۔ اس راستے کو بائی پاس کرنے اور سفر کو محفوظ بنانےکیلئے پہاڑوں کو کاٹ کر راستہ بنایا گیاہے۔ یکم مئی کو افتتاح ہوگا۔

Deputy Chief Minister Eknath Shinde Inspected The ‘Missing Link’ On Monday. Photo: PTI
نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندےنے پیر کو ’مسنگ لنک‘ کامعائنہ کیاتھا ۔ تصویر: پی ٹی آئی
  اگر آپ نے ممبئی-پونے ایکسپریس وے پر سفر کیا ہے تو آپ کھپولی اور لوناولہ کے درمیان گھاٹ سیکشن پر ٹریفک جام سے بخوبی واقف ہوں گے۔ یہ حصہ اپنے خطرناک موڑوں، سست رفتاری اور آئے دن حادثات (خاص طور پر بارش کے موسم کے دوران لینڈ سلائیڈنگ) کیلئے جانا جاتا ہے۔ اس خطرناک راستے کو بائی پاس کرنے اور سفر کو محفوظ بنانے کیلئےپہاڑوں کو کاٹ کر ’مسنگ لنک‘ تعمیر کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ پیر کو نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے نے اس کے تعمیراتی کام کا معائنہ کیاتھا اور اس کا افتتاح یکم مئی کو وزیراعلیٰ دیویندرفرنویس کریں گے۔
اس کا شمار دنیا کی سب سے کشادہ سرنگوں میں ہوتا  ہے
یہ منصوبہ جدید انجینئرنگ کی بہترین مثال ہے۔ اسے تیز ہواؤں، موسلادھار بارش اور مشکل جغرافیائی حالات پر قابو پاتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ اس کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:
لمبائی اور اونچائی: اس منصوبے کی کل لمبائی تقریباً۱۰ء۵؍ کلومیٹرہے۔
ٹائیگر ویلی بریج: اس میں ٹائیگر ویلی پر ہائی ٹیک ٹیکنالوجی کے ساتھ بنایا گیا۱۸۲؍ میٹر اونچا کیبل والا پل شامل ہے۔
بڑی سرنگوں کا نیٹ ورک: اس منصوبے میں ۸ء۹۲؍ کلومیٹر اور۱ء۷۵؍ کلومیٹر طویل  ۲؍ بڑی سرنگیں شامل ہیں۔ ۲۳ء۷۵؍  میٹر کی چوڑائی کے ساتھ  یہ دنیا میں سب سے کشادہ سرنگوں میں شمار ہوتی ہیں ۔ ان میں سے ایک سرنگ براہ راست لوناولہ جھیل کے نیچے سے گزرتی ہے۔
عوام کو کیا فائدہ ہوگا؟
گاڑی والوں کاسفر تیز رفتار ہوگا: یہ راستہ شروع ہونے  سے ممبئی سے پونے کا فاصلہ تقریباً ۶؍ کلومیٹر کم ہو جائے گا  جس سے مسافروں کو پورے ۳۰؍ منٹ بچیں گے۔
حادثات کو روکا جائے گا: گھاٹ سیکشن کے خطرناک اورپرپیچ راستے سے نجات ملے گی  جس سے سڑک حادثات میں نمایاں کمی کی توقع ہے۔
کوئی اضافی ٹول نہیں: مسافروں کیلئے سب سے بڑی راحت یہ ہے کہ انہیں اس ہائی ٹیک روٹ پر سفر کرنے کیلئے مزید رقم خرچ نہیں کرنی پڑے گی کیونکہ یہاں سے گزرنے کیلئے کوئی اضافی ٹول نہیں لیا جائے گا۔
ایندھن کی بچت: ہموار ڈرائیو اور ٹریفک میں نہ پھنسنے کی وجہ سے گاڑیوں کے ایندھن کی کھپت بھی کم ہو جائے گی۔
 
 
معیشت کو فروغ ملے گا: بہتر رابطے سے تجارت اور لاجسٹکس کے شعبوں کو براہ راست فائدہ پہنچےگا۔
  ابتدائی طور پرکن گاڑیوں کوترجیح دی جائے گی
انتظامیہ سے ملی معلومات کے مطابق حفاظتی  انتظامات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نئے ’مسنگ لنک‘ روٹ پر ابتدائی طور پر صرف کاروں اور بسوں جیسی ہلکی گاڑیوں کو ترجیح دی جائے گی۔نیوز۱۸؍ کی خبر کے مطابق  بھاری گاڑیوں اور ٹرکوں کو پرانے راستے (گھاٹ سیکشن) کی جانب ہی موڑا جاسکتا ہے۔
 
 
لاکھوں مسافروں کو فائدہ ہوگا
ممبئی-پونے ایکسپریس وے جو ملک کی مصروف ترین شاہراہوں میں سے ایک ہے، اس منصوبے کے بعد پوری طرح سے تبدیل ہو جائے گی۔ یکم مئی سے شروع ہونے والا یہ راستہ لاکھوں مسافروں کیلئے نہ صرف تیز رفتار بلکہ انتہائی محفوظ اور آسان بھی ثابت ہونے کی امید ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK