Inquilab Logo Happiest Places to Work

توانائی کے بعد کھاد کا بحران، دنیا کے غذائی نظام کوشدید خطرہ

Updated: March 20, 2026, 11:52 AM IST | New Delhi

ایشیائی ممالک خلیجی خطے سے آنے والی کھاد پر انحصار کرتے ہیں،آبنائے ہرمز بند ہونے سے سپلائی تھم گئی ہے ۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

تجارتی زراعت میں اچھی پیداوار کے  لئے کھاد بہت ضروری ہے۔ ایشیائی ممالک خلیجی خطے سے آنے والی کھاد پر انحصار کرتے ہیں۔ ہندوستان کو۳؍یوریا پلانٹس اور دنیا کے دیگر ممالک کو بھی پیداوار کم کرنی پڑی ہے۔امریکہ-اسرائیل-ایران جنگ اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں خلل کی وجہ سے جہاں تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، وہیں اب کھاد (فرٹیلائیزر) کی سپلائی میں رکاوٹ کے سبب دنیا بھر میں خوراک کی پیداوار متاثر ہوسکتی ہے۔ اس سے عالمی غذائی تحفظ پربڑا بحران پیدا ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ۲؍ مارچ کو ایران کے آئی آر جی سی کے کمانڈر انچیف کے سینئر مشیر ابراہیم جباری کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتیں ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئیں۔سی دوران اب خلیجی ممالک سے عالمی سطح پر بھیجے جانے والے یوریا اور دیگر کھادوں کی سپلائی متاثر ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: وزیراعظم مودی: فرانس، عمان اور کئی ممالک کے لیڈروں سے مشرق وسطیٰ پر تبادلہ خیال

اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی کل یوریا کے کاروبار کا تقریباً نصف حصہ اسی خطے سے آبنائے ہرمز کے ذریعہ برآمد ہوتا ہے۔ گیس کی سپلائی اور شپنگ میں رکاوٹوں کی وجہ سے خلیجی خطے اور دیگر جگہوں پر متعدد کھاد پلانٹس کو پیداوار کم کرنا یا بند کرنا پڑا ہے۔قطر اینرجی نے بھی دنیا کے سب سے بڑے یوریا پلانٹ میں پیداوار روک دی۔ اس کی وجہ سے ہندوستان کو ۳؍یوریا پلانٹس اور دنیا کے دیگر ممالک کو بھی پیداوارکم کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ یہ بحران ایسے وقت میں آیا ہے جب شمالی نصف کرہ میں بوائی کا موسم (وسط فروری تا مئی) چل رہا ہے۔ تجارتی زراعت میں اچھی پیداوار کے لیے کھاد بہت ضروری ہوتی ہے۔ ایشیائی ممالک خلیجی خطے سے آنے والی کھاد پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ ایشیا کو خلیج خطے سے ۳۵؍ فیصد یوریا، ۵۳؍فیصد سلفر اور ۶۴؍ فیصد امونیا برآمد ہوتی ہے۔ ہندوستان، برازیل اور چین جیسے بڑے زرعی پیدا کنندگان خاص طور پر ان سپلائیز پر منحصر ہیں اور یہ متاثر ہوں گے۔ ملک میں ویسے ہی گیس کی شدید قلت ہے اور اب یوریا کی کمی سے کسانوں میں افراتفری مچ سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK