Inquilab Logo Happiest Places to Work

جوہر یونیورسٹی کو مرادآباد کمشنر کے بعد ہائی کورٹ سے بھی راحت

Updated: July 28, 2026, 7:57 AM IST | Hamidullah Siddiqui | Lucknow

عدالت نے جوہر ٹرسٹ کی جانب سے دائر رِٹ پٹیشن کو نمٹاتے ہوئے عرضی گزاروں کو ہدایت دی کہ وہ تین ہفتوں میں اپنی نمائندگی متعلقہ رجسٹرار کے سامنے پیش کریں

At this time, not only Rampur and UP, but the entire country`s eyes are on Johar University.
اِس وقت صرف رام پور اور یوپی نہیں بلکہ پورے ملک کی نگاہیں جوہر یونیورسٹی پر ہیں

سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق کابینی وزیر محمد اعظم خان کے ڈریم پروجیکٹ ’محمد علی جوہر یونیورسٹی‘ کو فی الحال جزوی راحت ملی ہے۔ ایک طرف مرادآباد کے کمشنر نے رامپور ضلع مجسٹریٹ کے اس حکم پر روک لگا دی ہے جس میں یونیورسٹی کی  ۴۰؍ میں سے ۳۸؍ عمارتوں کو منہدم کرنے کا حکم دیا گیا تھا، تو دوسری جانب الٰہ آباد ہائی کورٹ نے مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ کی جانب سے دائر رِٹ پٹیشن نمٹاتے ہوئے درخواست گزاروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ تین ہفتوں کے اندر اپنی نمائندگی متعلقہ رجسٹرار کے سامنے پیش کریں، جہاں قانونی طریقۂ کار کے مطابق معاملے پر فیصلہ کیا جائے گا۔
 رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اترپردیش نگر منصوبہ بندی و ترقی ایکٹ، ۱۹۷۳ء کی دفعہ  ۲۷؍(۱) کے تحت کارروائی کرتے ہوئے دستاویزات کے جائزے کے بعد یونیورسٹی کی  ۴۰؍ میں سے ۳۸؍ عمارتوں کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے انہیں منہدم کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔اس  انہدامی حکم کے بعد یونیورسٹی کے باہر بڑی تعداد میں طلبہ جمع ہوگئے اور انہوں نے احتجاج شروع کردیا۔ اس دوران مرادآباد کے کمشنر کے سامنے مجوزہ کارروائی پرروک کی عرضی پیش کی گئی جس کے بعد کمشنر نے مداخلت کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا۔ واضح رہے کہ اس پر مرادآباد ڈویژنل کمشنر کورٹ میں ۲۸؍ جولائی کو سماعت ہوگی۔
  اس کے ساتھ اس معاملے سے متعلق الٰہ آباد ہائی کورٹ میں مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ اور ایک دیگر کی جانب سے دائر رِٹ پٹیشن پر بھی سماعت ہوئی۔ جسٹس سوربھ شیام شمشیری نے درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ ایچ این سنگھ اور ریاست کی جانب سے ایڈیشنل چیف اسٹینڈنگ کونسل کی جانب سے پیش کئے گئے دلائل سننے کے بعد پیر کو عرضی نمٹا دی۔ سماعت کے دوران ریاستی حکومت نے اعتراض کیا کہ درخواست ایسے شخص کے ذریعے دائر کی گئی ہے جو نہ تو یونیورسٹی کا رجسٹرار ہے، نہ ہی کوئی مجاز عہدیدار۔ سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار محمد یوسف ایک کاروباری شخص ہیں اور ان کی جانب سے دائر کی گئی عرضی کو یونیورسٹی کی باضابطہ درخواست نہیں مانا جا سکتا۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ درخواست کی قانونی حیثیت اور اختیارِ سماعت سے متعلق اعتراضات پر پہلے متعلقہ انتظامی اتھاریٹی کو غور کرنا چاہئے۔ اسی لئے عدالت نے مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ کو ہدایت دی کہ وہ تین ہفتوں کے اندر اپنی نمائندگی رجسٹرار کے سامنے پیش کرے۔ رجسٹرار فریقین کو سننے اور متعلقہ عدالتی فیصلوں و قانونی دفعات کی روشنی میں ابتدائی طور پر اس معاملے کا فیصلہ کریں  گے۔
  ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر عدالتی مداخلت مناسب نہیں، اسلئے درخواست گزاروں کو رجسٹرار سے رجوع کرنے کی آزادی دیتے ہوئے رِٹ پٹیشن نمٹا دی گئی۔ اس طرح جوہر یونیورسٹی کو ایک ہی دن میں دو اہم قانونی راحتیں حاصل ہوئی ہیں۔ ایک جانب  ۳۸؍ عمارتوں کے انہدام پر فی الحال روک لگ گئی ہے، جبکہ دوسری جانب ہائی کورٹ نے بھی معاملے کو انتظامی سطح پر قانونی طریقۂ کار کے مطابق نمٹانے کی ہدایت دے دی ہے، جس کے بعد آئندہ کارروائی رجسٹرار کے فیصلے اور انتظامی عمل پر منحصر ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK