Updated: September 13, 2026, 3:02 PM IST
| New Delhi
ایک رپورٹ کے مطابق سیاسی پارٹیوں نے ۲۰۲۶ء انتخابات میں مجرمانہ مقدمات کے حامل امیدواروں کی تفصیل ظاہرکرنے سے گریز کیا،جبکہ عدالت عظمیٰ سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ وضاحت کریں کہ انہوں نے مجرمانہ مقدمات والے امیدواروں کو بغیر مقدمات والوں پر کیوں ترجیح دی۔
بڑی سیاسی جماعتوں، بشمول بھارتیہ جنتا پارٹی، کانگریس اور عام آدمی پارٹی، نے عدالت عظمیٰ کی ہدایت کے مطابق۲۰۲۶ء کے اسمبلی انتخابات کے لیے مجرمانہ مقدمات والے۱۹۱؍ امیدواروں کو کیوں منتخب کیا، اس کی وضاحت کرنے میں ناکام رہیں۔ غیر سرکاری تنظیم ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز نے جمعرات کو ایک تحقیق میں یہ بات کہی۔امیدواروں نے آسام، کیرالا، تمل ناڈو، مغربی بنگال اور پڈوچیری کے انتخابات میں حصہ لیا۔عدالت عظمیٰ کے قواعد کے تحت، جماعتوں کو فارم سی۷؍ شائع کرنا ہوتا ہے، جس میں وہ وضاحت کرتی ہیں کہ انہوں نے زیر التوا مجرمانہ مقدمات والے امیدواروں کو مجرمانہ پس منظر سے پاک امیدواروں پر کیوں ترجیح دی۔
یہ بھی پڑھئے: بلڈوزر کارروائی سے این ایس اے تک جسٹس اتل شری دھرن نے کئی قابل قدر فیصلے سنائے
بعد ازاں تنظیم نے پانچ ریاستوں اور ایک مرکزی زیر انتظام علاقے میں۵۱؍ بڑی سیاسی جماعتوں کے میدان میں اتارے گئے ۳۵۳۹؍ امیدواروں کے فارم سی۷؍ انکشافات کا تجزیہ کیا۔جن ۱۴۰۵؍امیدواروں نے اپنے انتخابی حلف ناموں میں مجرمانہ مقدمات کا اعتراف کیا تھا، ان میں سے جماعتوں نے۱۲۱۴؍، یعنی۸۶؍ فیصد کے فارم سی۷؍ انکشافات شائع کیے۔ تمل ناڈو میں غائب انکشافات کی سب سے زیادہ تعداد تھی۔ مجرمانہ مقدمات والے۴۷۳؍ امیدواروں میں سے جماعتوں نے۴۰۱؍ کے انکشافات شائع کیے۔مغربی بنگال میں۵۵۹؍ امیدواروں میں سے۵۵؍ انکشافات غائب تھے، جبکہ کیرالا میں۲۶۸؍ میں سے۲۷؍ غائب تھے۔ جبکہ آسام میں۶۶؍ امیدواروں میں سے۱۰؍ انکشافات غائب تھے۔
یہ بھی پڑھئے: سہارنپور مسجد کی شہادت پریوگی حکومت کو نوٹس
ساتھ ہی پڈوچیری میں غائب انکشافات کا سب سے زیادہ تناسب تھا، جہاں۳۹؍ میں سے۲۷؍ امیدواروں کے پاس فارم سی۷؍ کا انکشاف نہیں تھا۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے مجرمانہ مقدمات والے اپنے۳۰۲؍ امیدواروں میں سے آٹھ کے انکشافات شائع نہیں کیے۔ کانگریس نے اپنے۲۰۲؍ امیدواروں میں سے۱۳؍ کے انکشافات شائع نہیں کیے۔ترنمول کانگریس نے مجرمانہ مقدمات والے اپنے تمام۱۱۶؍ امیدواروں کے انکشافات شائع کیے۔
مزید برآں جو انکشافات شائع کیے گئے، ان میں جماعتوں نے اکثر مجرمانہ مقدمات والے امیدواروں کو منتخب کرنے کی ملتی جلتی وجوہات دیں۔ انہوں نے انہیں مقبول سماجی کارکن، نچلی سطح کے لیڈریا تجربہ کار سیاست دان قرار دیا، اور کہا کہ انہیں اپنے حلقوں کے ووٹروں میں مضبوط حمایت حاصل ہے۔