• Tue, 15 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مغربی بنگال حکومت نے ۲۵۲ مدارس کو بند کرنے کا حکم جاری کیا، مبینہ ضابطہ جاتی خلاف ورزیوں پر کارروائی

Updated: September 15, 2026, 7:05 PM IST | Kolkata

بندش کا سامنا کرنے والے ۲۵۲ مدارس، کلاس روم کی جگہ، طلبہ اور اساتذہ کی کم از کم تعداد اور معیاری ریاستی اسکول کے معیاری نصاب کی پابندی سے متعلق قواعد کی عدم تعمیل کے مرتکب پائے گئے۔ حکام نے کہا کہ دیگر ۱۰۰ اداروں کے خلاف کارروائی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا وجہ بتاؤ نوٹسہز پر ان کے جوابات کو تسلی بخش سمجھا جاتا ہے یا نہیں۔ یہ نوٹسیز جولائی میں غیر امداد یافتہ مدارس کے اجازت نامے اور ضابطہ جاتی تعمیل کی تصدیق کیلئے کئے گئے ایک سروے کے بعد جاری کئے گئے ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

مغربی بنگال کی بی جے پی حکومت نے ایک سروے میں انتظامی ضوابط کی مبینہ خلاف ورزیوں کے انکشاف کے بعد ریاست میں فعال ۲۵۲ غیر امداد یافتہ مدارس کو بند کرنے کا حکم دیا ہے اور تقریباً ۱۰۰ دیگر مدارس کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کئے ہیں۔ دی انڈین ایکسپریس کے مطابق، جن مدارس پر بند ہونے کی تلوار لٹک رہی ہیں ان میں سے ۴۵ مدارس مالدہ ضلع میں، ۳۷ مدارس اتر دیناج پور ضلع میں اور جنوبی ۲۴ پرگنہ، مرشد آباد اور نادیہ میں واقع ۲۵-۲۵ مدارس شامل ہیں۔ 

رپورٹ کے مطابق، بندش کا سامنا کرنے والے ۲۵۲ مدارس، کلاس روم کی جگہ، طلبہ اور اساتذہ کی کم از کم تعداد اور معیاری ریاستی اسکول کے معیاری نصاب کی پابندی سے متعلق قواعد کی عدم تعمیل کے مرتکب پائے گئے۔ حکام نے کہا کہ دیگر ۱۰۰ اداروں کے خلاف کارروائی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا وجہ بتاؤ نوٹسہز پر ان کے جوابات کو تسلی بخش سمجھا جاتا ہے یا نہیں۔ یہ نوٹسیز جولائی میں غیر امداد یافتہ مدارس کے اجازت نامے اور ضابطہ جاتی تعمیل کی تصدیق کیلئے کئے گئے ایک سروے کے بعد جاری کئے گئے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: بہار سیلاب : کمیونٹی کچن ۸۸؍ لاکھ ۵۴؍ ہزار افراد کوکھانا فراہم کررہے ہیں

ریاستی وزیر برائے اقلیتی امور و مدرسہ تعلیم کھودی رام توڈو نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ مدرسے کے طلبہ جدید، مرکزی دھارے کی تعلیم حاصل کریں اور دوسرے اسکولوں کے طلبہ کے شانہ بشانہ کامیاب ہوں۔ بی جے پی کی بنگال یونٹ کے سربراہ سمک بھٹاچاریہ نے کہا کہ یہ سروے پہلے کرایا جانا چاہئے تھا۔ انہوں نے بائیں بازو کے سابق وزیر اعلیٰ بدھ دیب بھٹاچاریہ کی جانب سے بعض مدارس کے کام کاج کے بارے میں ماضی میں اٹھائے گئے سوالات کا حوالہ دیا، جن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس وقت سیاسی دباؤ کے تحت انہیں مسترد کر دیا گیا تھا۔

وزارتِ پنچایتی راج کے ریاستی وزیر دلیپ گھوش نے دعویٰ کیا کہ ”ملک دشمن سرگرمیوں“ میں ملوث افراد ماضی میں مدارس میں مقیم پائے گئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قواعد کی پاسداری کرنے والے اداروں کو کام جاری رکھنے کی اجازت دی جائے گی لیکن غیر منظم اضافے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھئے: کولکاتا:۵۰؍ واں کتاب میلہ، وندے ماترم کا۱۵۰؍ سالہ جشن، اسرائیل تھیم ملک

ترنمول کانگریس کے ایم ایل اے کنال گھوش نے معاملے کو اس انداز میں پیش کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تمام مدارس کے بارے میں عمومی رائے قائم کرنا غیر منصفانہ ہے۔ انہوں نے مجموعی طور پر تعلیمی نظام کو نشانہ بنانے والے بیانیوں کے خلاف خبردار کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK