جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بعد ایسا محسوس ہوا جیسے نئی روحانی کیفیت حاصل ہوئی ہے

Updated: November 21, 2020, 7:15 AM IST | Saeed Ahmed Khan/ Iqbal Ansari | Mumbai

چوتیس ہفتے بعد مسجد میں نمازجمعہ کی ادائیگی پر کئی مصلیان کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں ۔بہت سے مصلیان‌ جگہ بھرجانے کے اندیشے سے کافی پہلے مسجد پہنچے۔ احتیاطی تدابیر پرعملدرآمد کیا گیا۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 بائیس مارچ سے لاک ڈاؤن کے بعد ۲۰؍ نومبر کو وہ پہلا جمعہ تھا جب مسجدیں کھلنے کے بعد اللہ کے بندوں نے شہر و مضافات میں اپنے رب کے گھر میں ‌ جمعہ کی نماز باجماعت ادا کی ورنہ اس سے قبل تک جمعہ ہی نہیں ،شب برأت ، رمضان المبارک ،تراویح ،شب قدر حتیٰ کہ عیدین کی نماز بھی بدرجہ مجبوری گھروں میں ادا کی۔ اب تقریباً ۳۴؍ ہفتے بعد پہلی مرتبہ مسجد میں ‌ جمعہ کی نماز ادا کرنے پر مصلیان کی خوشی کی کوئی حد نہیں تھی۔ بہت سے مصلیان تو جگہ بھرجانے کے اندیشے سے پہلے ہی مسجد پہنچ گئے تھے۔اس دوران انہوں نے حکومت کی گائیڈ لائن کے مطابق احتیاطی تدابیر پر عمل کرکے احساس ذمہ داری کا ثبوت بھی دیا۔ مصلیان سے ان کے تاثرات معلوم کرنے پر ان کی کیفیت مختلف تھی ۔ 
میرے پاس خوشی ظاہرکرنے کیلئے الفاظ نہیں ہیں 
 جماعت سے نماز کا حددرجہ پابندی سے اہتمامِ کرنے والے بزرگ مصلی محمد افتخار انصاری کی آنکھیں تاثر ظاہر کرنے سے قبل چھلک پڑیں ، پھر گویا ہوئے کہ میرے پاس خوشی ظاہر کرنے کے لئے الفاظ نہیں ہیں ، کبھی سوچا نہیں تھا کہ زندگی میں ایسے حالات کا بھی سامنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے پھر یہ بھی کہا کہ اب بھی الگ الگ جگہوں کے حالات سن کر ڈرلگتا ہے کہ کہیں پہلے جیسے لاک ڈاؤن کے حالات پھر نہ پیدا ہوجائیں اور پھر جماعت کے اہتمام اور مسجد کی حاضری سے محرومی ہوجائے۔ 
 نوجوان نمازی عمران محمد رفیق شاہ نے کہا کہ جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بعد ایسا محسوس ہوا جیسے نئی روحانی کیفیت حاصل ہوئی ہے ۔اب تک جمعہ کی جگہ ظہرکی نماز پڑھتے تھے لیکن اللہ پاک نے رحم کیا ہے ۔خدا کرے یہ بیماری ختم ہوجائے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آج میں ‌ پہلے ہی مسجد‌پہنچ گیا کہ کہیں ‌ جگہ بھر نہ جائے۔
 محمد صدیق تاراپور والا نے کہا کہ نماز جمعہ کی صفیں باندھنے پر یہ محسوس ہوا کہ اللہ نے اپنے گھر میں ‌ حاضری کی ہماری محرومی کو عافیت میں ‌ بدل دیا ہے۔اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ نمازوں کی ادائیگی کے‌ تئیں ‌ اپنی غفلت سے سچی توبہ کریں اور پنجوقتہ نمازوں کی پابندی کرنے والے بن جائیں ۔ 
 شمیم خان نے کہا کہ۸؍ ماہ سے مسجد میں ‌ جمعہ کی ادائیگی سے محرومی پر شدید اضطرابی کیفیت تھی، اللہ نے ہم کمزوروں ‌ پر رحم فرماکر اسے روحانی سکون میں ‌بدل دیا ہے۔ اس موقع پر ہم نے بطور خاص یہ دعا کی کہ مولا آئندہ ایسے حالات سے ہماری حفاظت فرما جب آپ کے گھر کے دروازے بھی ہم پر بند کردیئے جائیں ۔
گائیڈ لائن کے مطابق ہر ممکن احتیاط برتی گئی
 قدیم و سیع و عریض حمیدیہ مسجد کے انتظامی امور کے نگراں محمد عثمان نے بتایا کہ گائیڈ لائن کے مطابق ہر ممکن احتیاط برتی گئی اور اسی احتیاط کا نتیجہ تھا کہ حوض کو بھی خالی کروادیا گیا تھا لیکن وضو کا پانی وافر مقدار میں جمع کیا گیا تاکہ مصلیان کو وضو کے لئے پریشانی نہ ہو۔اس کے علاوہ صاف صفائی پر خصوصی توجہ دی گئی۔

 جامع مسجد اہل حدیث مومن پورہ کے خطیب و امام مولانا محمد اسلم‌ صیاد نے کہا کہ طویل عرصے بعد جمعہ کی نماز ادا کرنے والے مصلیان کا ذوق قابل دید تھا۔ تقریباً ۸؍ ماہ بعد جمعہ میں مسجد پہلے کی طرح آباد ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی اذان سے لے کر خطبہ اور نماز تک متعدد مرتبہ گائیڈ لائن کی یاددہانی کروائی گئی، سنت اور نوافل گھر پر ادا کرنے، وضو گھر سے کرکے آنے، ماسک لگانے اور مسجد میں زیادہ دیر نہ بیٹھنے کی اپیل پر سبھی مصلیان نے لبیک کہا اور اپنی جانب سے عملی تعاون پیش کیا۔
 جامع مسجد اہل حدیث میں بھی دو جماعت ادا کی گئی۔ 
تھرمل گن سے ٹیمپریچر کی پیمائش اور ماسک کی تقسیم
  مدن پورہ کی سنی بڑی مسجد انتظامیہ کمیٹی کے جنرل سیکریٹری رئیس احمد انصاری کے مطابق مسجد کے گیٹ پر عملہ اور رضاکاروں نے مصلیان کو حکومت کی ہدایات کی یاددہانی کروائی اور خوشی کی بات یہ ہے کہ مسجد میں جگہ بھر جانے کے بعد حسب سابق لوگوں نے مسجد کے باہر سڑک پر بھی سوشل دسٹینسنگ قائم رکھتے ہوئے نماز ادا کی اور پولیس اہلکاروں نے خود بھی اس کی نگرانی کی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ سب سے اہم سماجی فاصلہ قائم رکھنا تھا ، مصلیان نے اس پر پوری طرح عمل کیا جس سے آئندہ کے لئے اطمینان حاصل ہوا ۔

 ہانڈی والی مسجد(چور بازار) کے خطیب و امام مولانا اعجاز احمد کشمیری نے کہا کہ حقیقی معنوں میں ہمارے پاس اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے لئے الفاظ نہیں ہیں کہ اس نے اپنی رحمت کے صدقے اپنے بندوں پر مسجدوں کے دروازے کھول دیئے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مصلیان کے باڈی ٹیمپریچر چیکنگ اور سینیٹائزر کا بھی اہتمام کیا گیا اور بھیڑ بھاڑ سے بچنے کے لئے لاک ڈاؤن کے بعد مسجدیں کھلنے کے پہلے جمعہ میں تین جماعتیں کی گئیں جبکہ عام طور پر دو جماعتیں کی جاتی تھیں ۔
  مالونی کی انجمن جامع مسجد کے صدر اجمل خان‌ کے مطابق مسجد میں ‌ داخلے سے قبل دروازے پر مصلیان کو سینیٹائزر لگانے اور ماسک تقسیم کرنے کا اہتمام کیا گیا۔ جو‌ مصلیان بغیر ماسک لگائے آئے تھے، انہیں ماسک لگا کر ہی اندر جانے دیا گیا اور تھرمل گن سے باڈی ٹیمپریچر کی پیمائش بھی کی گئی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ۱۶؍نومبر کو مسجد کھلنے کے وقت ہی گیٹ پر اور اندر’ نوماسک نو انٹری‘ کا پمفلٹ چسپاں کیا گیا ہے۔
  فائن ٹچ(ممبئی سینٹرل) اور اشرفی مسجد(دو ٹانکی) میں بھی تین جماعتوں کا اہتمام کیا گیا۔ یہاں کے ذمہ داران کے مطابق ایک سے زائد جماعتوں کے اہتمام کی وجہ مصلیان کی سہولت اور حکومت کی گائیڈ لائن پر عمل کرتے ہوئے حفاظت کے ساتھ عبادت کرنا اور بھیڑ بھاڑ سے بچنا تھا۔میراروڈ نیانگرکی ریڈیئنٹ مسجد میں بھی ۲؍جماعتوں کا اہتمام کیا گیا۔
ممبرا جامع مسجد میں بھیڑ بھاڑسے بچنے کیلئے ۲؍ جماعتوں کا اہتمام  

ممبرا ریلوے اسٹیشن کے سامنے واقع سنی جامع مسجد میں جمعہ کی ۲؍ جماعتیں ( دوپہر ڈیڑھ بجے اور سوا دو بجے) اداکی گئیں تاکہ بھیڑ ہونے سے اور روڈ پر نماز ادا کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ممبرا جامع مسجد کے مین گیٹ پر نوٹس بورڈ لگا کر ماسک لگانے ، محفوظ فاصلہ برقرار رکھنےنیز معمر اور کمسن بچوں کو مسجد نہ آنے کی درخواست کی گئی ۔
 جامع مسجد منتظمین میں شامل سید سلیم نے بتایا کہ ’’بھیڑ بھاڑسے بچنے کیلئے سیڑھیوں کے سامنے اور حوض کےاطراف کے حصہ میں کسی نمازی کو بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے البتہ مسجد میں جگہ پُر ہو جانے پر جو نمازی بچ گئے تھے، انہیں دوسری جماعت ( سوا دو بجے) میں شرکت کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔‘‘ممبرا بازار میں واقع مسجد و مدرسہ رحمہ میں بھی سبھی نمازیوں کو سینیٹائزر کا استعمال کرنے کے بعد مسجد میں داخل ہونے کی درخواست کی گئی اور نماز یوں سے ماسک لازمی طور پر لگانے کی بھی اپیل کی گئی۔