این سی پی (شردپوار) کے رکن اسمبلی نے میڈیا سے کہا کہ مین ہول میں گرکر فوت ہونے والے اسلم شیخ کے گھر والے کارروائی سے مطمئن نہیں ہیں ۔ میئرریتوتاوڑے نے بھی اظہارِ تعزیت کیا۔
EPAPER
Updated: July 04, 2026, 4:26 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
این سی پی (شردپوار) کے رکن اسمبلی نے میڈیا سے کہا کہ مین ہول میں گرکر فوت ہونے والے اسلم شیخ کے گھر والے کارروائی سے مطمئن نہیں ہیں ۔ میئرریتوتاوڑے نے بھی اظہارِ تعزیت کیا۔
جمعرات کو ساکی ناکہ میں ایک کھلے مین ہول میں گرنے سے ۵۵؍سالہ اسلم اسحٰق شیخ کی موت ہوگئی تھی جس کے بعد ممبئی کی میئر ریتوتاوڑے نے اہل خانہ سے ملاقات کی اور اظہارِ تعزیت کیا۔ جمعہ کو این سی پی (شردپوار) کے رکن اسمبلی روہت پوار نے بھی ان سے ملاقات کی۔ دریں اثناء اس معاملے میں ۴؍ میونسپل افسران پر کارروائی کے تعلق سے متوفی کے گھر والوں نے سوال کیا ہے کہ کارروائی ہمیشہ چھوٹے افسروں پر کیوں ہوتی ہے، سینئر افسران کو کیوں چھوڑ دیا جاتا ہے۔
جمعہ کو این سی پی (شرد پوار) کے رکن اسمبلی روہت پوار نے متوفی اسلم شیخ کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور اس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ ان اہلِ خانہ کو کسی بھی سیاستداں پر بھروسہ نہیں ہے اور وہ اس حادثہ سے غمگین ہونے کے ساتھ سخت ناراض بھی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب انہوں نے ان افراد سے ملاقات کی تو انہوں نے سوال اٹھایا کہ سینئر سرکاری افسران کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی، ہمیشہ چھوٹے موٹے افسروں پر ہی کیوں کارروائی کی جاتی ہے۔
کسی بھی مین ہول کوکھلا نہ چھوڑا جائے: متوفی کی بیوہ
اسلم شیخ کی بیوہ نے اپنے شوہر کی موت کیلئے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے لیکن زار و قطار روتے ہوئے انہوں نے انتہائی نرم لہجے میں مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی مین ہول کو کھلا نہ چھوڑا جائے تاکہ مزید کوئی قیمتی جان تلف نہ ہو اور دیگر کسی کو اس طرح کی اذیت سے نہ گزرنا پڑے اور ان کی طرح کسی کا اپنا جان سے ہاتھ نہ دھو بیٹھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی ایم سی کو اس طرح کا جو بھی کام کرنا ہے، وہ بارش سے قبل کرلیں اور خصوصیت سے اس کام پر ایسے افراد کو مامور کریں جو صرف اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی مین ہول کھلا نہ رہ جائے۔
اسلم شیخ کی بہن نے سوال اٹھایا کہ ہر سال مین ہول میں گرنے سے اموات کیوں ہورہی ہے اور ان واقعات سے ٹھیکیدار سبق کیوں نہیں سیکھتے، کیا کسی بڑے سیاستداں کے گھر سے اس طرح کسی کی جان جانے پر ہی انہیں سمجھ آئے گا؟ انہوں نے اپنے بھائی کے اہلِ خانہ کے لئے معاوضہ کے ساتھ ان کی بیوہ کیلئے سرکاری ملازمت کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ حادثہ کے وقت اسلم شیخ فون پر بات کرتے ہوئے جارہے تھے اور یہاں کام پر مامور ۲؍ مزدور راہگیروں کو زبانی وہاں آنے سے منع کررہے تھے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ جب مرمت یا دیگر کسی کام کیلئے مین ہول کو کھولا جاتا ہے تو اس کے چاروں طرف گھیرابندی کردی جاتی ہے تاکہ کوئی اس میں گرنہ جائے اور یہاں کوئی آڑ نہیں لگائی گئی تھی جس سے راہگیروں کو آگے خطرہ ہونے کا علم ہوسکے۔ جس وقت یہ کام کیا جارہا تھا سڑک پر پانی بھرا تھا اس لئے بھی آسانی سے گڑھے کا علم نہیں ہوسکتا تھا۔
اسلم شیخ اپنے گھر کے تنہا کمانے والے تھے
اسلم شیخ ساکی ناکہ کے یادو نگر کے رہنے والے تھے اور حادثہ کے وقت وہ اپنے گھر لوٹ رہے تھے۔ حادثہ صبح تقریباً ساڑھے ۱۰؍ بجے پیش آیا اور مین ہول میں پانی کا بہاؤ بہت تیز تھا جس کی وجہ سے ان کی لاش کو ساکی ناکہ میں مین ہول سے تقریباً ایک کلو میٹر دور واقع ایس جے اسٹوڈیو کے قریب اسٹارم واٹر ڈرین کے آئوٹ فال سے باہر نکالا جاسکا۔
ان کے پسماندگان میں ۲۱؍ سالہ بیٹا علی اکبر، اہلیہ انجمن (۵۰) اور بڑی بیٹی شبنم (۲۴) ہیں۔ اسلم شیخ اپنے گھر کے تنہا کمانے والے تھے۔
واضح رہے کہ میونسپل کمشنر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اشوینی بھیڈے نے بی ایم سی افسران کی ایک میٹنگ لی تھی جس میں انہیں موسم باراں کی آمد سے قبل تمام مین ہول پر ترجیحی طور پر ’سیفٹی گرل (حفاظتی جالیاں )‘ نصب کرنے کی ہدایت دی تھی۔ یہ میٹنگ ۲۰؍ مئی کو لی گئی تھی اور مانسون سے متعلق کاموں کو پورا کرنے کی آخری تاریخ ۳۱؍ مئی ہوتی ہے۔ اس حادثہ کے بعد انہوں نے ایل وارڈ کےافسران کو معطل کردیا ہے اورمتعلقہ ٹھیکیدار کو بلیک لسٹ کرنےکا بھی حکم دیا ہے۔
شہرومضافات میں مین ہول کی تعداد
سڑکوں کو سیمنٹ کنکریٹ کا بنانے کیلئے ۴؍ ہزار ۴۴۶؍ مین ہول کھولے گئے تھے جن میں سے زیادہ تر کو مانسون سے قبل بند کردیا گیا ہے۔ ایل وارڈ میں ۷۵؍ مین ہول کھولے گئے تھے۔ برسات شروع ہونے کے بعد بھی ۴؍ مین ہول بند نہیں کئے گئےتھے۔ ان چاروں پر کام جاری تھا جن میں سے ایک میں اسلم شیخ گر کر فوت ہوگئے۔
ممبئی میں کُل ایک لاکھ ۳؍ ہزار ۹۲۶؍ مین ہول ہیں اور ۹۶؍ ہزار ۳۸۳؍ مین ہول پر حفاظتی جالیاں لگائی جاچکی ہیں۔ ۱۸۰۰؍ مین ہول ایسے ہیں جو سڑک کے نیچے دب کر غائب ہوگئے ہیں اور انہیں تلاش نہیں کیا جاسکا ہے۔