ہائی کورٹ میں عرضی گزاروں کا الزام۔ مداخلت کار نے بھی درختوں کو سیمنٹ کنکریٹ اور پیور بلاک سے پاک کرنے کےبی ایم سی کے دعوے کو گمراہ کن قراردیا۔
EPAPER
Updated: July 04, 2026, 4:28 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai
ہائی کورٹ میں عرضی گزاروں کا الزام۔ مداخلت کار نے بھی درختوں کو سیمنٹ کنکریٹ اور پیور بلاک سے پاک کرنے کےبی ایم سی کے دعوے کو گمراہ کن قراردیا۔
شہر اور مضافات میں سڑکوں کے کنارے درختوں کے تنوں پر پیور بلاک اور سیمنٹ کنکریٹ سے چبوترا بنانا ہی حادثات اور اموات کا سبب ہیں ۔ یہ الزام ہائی کورٹ میں عرضداشت گزاروں نے لگایا اہے۔ تاہم کورٹ کی ہدایت کے باوجود درختوں کے تنوں کو پیور بلاک اور سیمنٹ کنکریٹ سے پاک نہ کرنے کی اطلاع پر دو رکنی بنچ نے بی ایم سی کو عرضداشت گزار اور مداخلت کار کے مشورہ پر عمل کرنے اور اس تعلق سے کئے گئے سروے کی رپورٹ بی ایم سی کے علاوہ کورٹ میں داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔
دوران سماعت بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ کے جسٹس اجے گڈکری اور جسٹس کمل کاتھا کو درخواست گزار روہت جوشی نے بتایا کہ شہر اور مضافات میں درختوں کے تنوں کو سیمنٹ کنکریٹ اور پیور بلاک سے پاک کرنے کی ہدایت کے باوجود بی ایم سی اس پر مکمل طور پر عمل نہیں کررہی ہے - شہری انتظامیہ اس سلسلہ میں درختوں کی مضبوطی کا پتہ لگانے کے لئے اب تک نہ تو کوئی قدم اٹھایا ہے اور نہ ہی سروے کیا ہے۔
ایک بار پھر عدالت کو ممبئی اور تھانے میں درختوں کے تنوں کو سیمنٹ کنکریٹ اور پیور بلاک سے ڈھانکنے کے سبب نہ صرف درختوں کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاع دی گئی بلکہ ان کےکمزور ہونے سے شہر میں جابجا درخت گرنے کے علاوہ جانی و مالی نقصان ہونے کی بھی تفصیلات فراہم کی گئیں ۔ اسی طرح بی ایم سی کے ذریعہ شہر و اطراف کے اکثر و بیشتر درختوں کے تنوں کو سیمنٹ کنکریٹ اور پیور بلاک سے پاک کرنے کے دعوے کو گمراہ کن اور جھوٹا قرار دیا گیا ساتھ ہی اس معاملہ میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان تیار کرنے اور درختوں کے گرنے کے سبب فوت ہونے اور زخمی ہونے والے افرادکے اہل خانہ کو معاوضہ اور اہل خانہ میں سے کسی ایک فرد کو ملازمت دینے کی بھی اپیل کی گئی۔
مذکورہ معاملہ میں سماعت کے دوران سماجی کارکن ساگر اُگالے نے مداخلت کار کی حیثیت سے عدالت کو بتایا کہ کورٹ کے سابقہ حکم پر بی ایم سی کے گارڈن ڈپارٹمنٹ کے ہمراہ ہم نے شہر کے۷؍ وارڈوں میں مشترکہ معائنہ کیا تھا۔ مداخلت کار نے مزید کہا کہ شہر اور مضافات میں اب بھی درختوں کے تنوں کے گرد سیمنٹ کنکریٹ اور پیور بلاک موجود ہیں۔ جن وارڈوں میں درختوں کے تنوں کو پیور بلاک اور سیمنٹ کنکریٹ سے سے گھیرا گیا ہے، ان میں ملاڈ، فورٹ، سانتا کروز اور دہیسر میں ۳۵؍ سے زائد سڑکوں پر۸۳۲؍ درختوں کے ارد گرد اب بھی سیمنٹ کنکریٹ اور پیور بلاک کے چبوترے موجود ہیں ۔ یہی نہیں ان میں ۳۲۱؍ درختوں کے گرد پیور بلاک اور سیمنٹ کنکریٹ کو اکھاڑ تو دیا گیا ہے لیکن ملبہ ہٹایا نہیں گیا ہے جبکہ۴۷۱؍ درختوں کو اب بھی سیمنٹ کنکریٹ سے پاک نہیں کیا گیا ہے۔
مداخلت کار نے الزام لگایا گیا کہ بہت سے درختوں کے گرد پانی جذب ہونے اور جڑوں میں ہوا کی رسائی کا کوئی نظم نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے درخت کمزور ہوتے جارہے ہیں اسی لئے حادثات اور اموات کا سلسلہ بڑھتا جارہا ہے۔
عدالت نے مذکورہ تفصیلات کا جائزہ لینے کے بعد عرضداشت گزار اور مداخلت کار کو ہدایت دی کہ وہ اپنے سروے کے نتائج اور تجاویز بی ایم سی کے علاوہ عدالت میں بھی جمع کریں ۔ اس کے علاوہ کورٹ نے سروے کے طریقہ کار پر تفصیلی نوٹ جس میں درختوں کا ڈیٹا، تصاویر اور دیگر تفصیلات شامل ہوں، عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت کو۴؍ہفتوں کے لئے ملتوی کردیا۔