بھائندر کے اندوہناک حادثہ کے بعد دیگر جگہوں پر بھی درخت گرنے کے واقعات۔ مکان کا بڑا حصہ منہدم ہوگیا۔ میونسپل کارپوریشن کی اپوزیشن لیڈر سیّدآفرین مظفر حسین نے میونسپل کمشنر کو مکتوب دے کر متاثرین کو فوری معاوضہ دینے اورخاطی افسران اور ٹھیکیداروں کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
موٹرسائیکل پرناریل کا درخت گرنے کے بعد کا منظر۔ تصویر: آئی این این
یہاں کچھ دن قبل بارش کے دوران ناریل کا درخت گرنے سے ایک موٹرسائیکل سوار شدید زخمی ہوگیا تھا۔ اس کی دورانِ علاج موت ہو گئی۔ اس واقعے کی وجہ سے علاقے میں گہرے دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے اور خطرناک درختوں کے حوالے سے میونسپل کارپوریشن کے کئے گئے اقدامات پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ مہلوک کا نام راہل پاٹل (۳۳) ہے جو بھائندر مغرب کے موردھا گاؤں کا رہائشی تھا اور میرا بھائندر کے سابق ڈپٹی میئر اشوک پاٹل کا بیٹا تھا۔ منگل کو جب راہل پاٹل موٹر سائیکل پر جا رہا تھا تو اچانک ایک ناریل کا درخت اس پر گر گیا۔ اس حادثے میں اس کی ریڑھ کی ہڈی پر شدید چوٹ آئی تھی۔ اس کے بعد اس کا آپریشن کیا گیا اور وہ اسپتال کے انتہائی نگہداشت والے وارڈ (آئی سی یو ) میں زیرعلاج تھا لیکن جمعہ کو علاج کے دوران وہ زندگی کی جنگ ہار گیا۔
پچھلے ایک ہفتے سے شہر میں ہلکی بونداباندی ہو رہی ہے اور ابھی تک شدید بارش نہیں ہوئی، اس کے باوجود مختلف علاقوں میں درخت گرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ مقامی شہریوں کا الزام ہے کہ خطرناک درختوں کا بروقت سروے اور ان کی کٹائی نہ ہونے کی وجہ سے ایسے حادثات پیش آ رہے ہیں۔ درخت گرنے سے ایک نوجوان کی جان جانے پر میونسپل کارپوریشن کے طریقہ کار کے خلاف شدید غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اور خطرناک درختوں پر فوری کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
بھائندر مغرب میں ابھینو کالج کے قریب اور اندر لوک علاقے میں سونم کلاسک عمارت کے پاس درخت سڑک پر آ گرے۔ وہیں گھوڑبندر گاؤں میں ایک مکان پر بھاری درخت گرنے سے اس کا بڑا حصہ منہدم ہو گیا اور غریب خاندان کا بھاری نقصان ہوا۔
میرابھائندر میونسپل کارپوریشن میں اپوزیشن لیڈر سید آفرین مظفر حسین نے میونسپل کمشنر کو مکتوب دے کر متاثرین کو فوری معاوضہ دینے اورخاطی افسران اور ٹھیکیداروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ آفرین سیّد نے اپنے مکتوب میں محکمہ باغات اور شجر کاری کی شدید لاپروائی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ انہوں کا کہنا ہے کہ مانسون سے قبل خطرناک اور کمزوردرختوں کی شاخوں کو تراشنا میونسپل کارپوریشن کی بنیادی ذمہ داری تھی مگر متعلقہ محکمے اور ٹھیکیداروں نے اس میں کوتاہی کی۔