امبرناتھ میونسپل کونسل کے نائب صدر سداشیو پاٹل کاجنرل باڈی میٹنگ میں شرمناک بیان۔
EPAPER
Updated: July 04, 2026, 4:22 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan
امبرناتھ میونسپل کونسل کے نائب صدر سداشیو پاٹل کاجنرل باڈی میٹنگ میں شرمناک بیان۔
سیاست میں اخلاقی گراوٹ اور عوامی نمائندوں کی غیر ذمہ داری کا ایک ایسا چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے جس نے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ امبرناتھ میونسپل کونسل کی جنرل باڈی میٹنگ کے دوران ’مہایوتی‘ سے تعلق رکھنے والے نائب صدر سداشیو پاٹل نے کھلے عام بدعنوانی اور چوری کی وکالت کرتے ہوئے ایک انتہائی متنازع بیان دے ڈالا۔ سدا شیو پاٹل کا کہنا تھا کہ ’’بدعنوانی اور چوری ہونی چاہیے بس اس میں کمیشن کا فیصد کم ہونا چاہیے۔ ‘‘ایک ذمہ دار آئینی عہدے پر بیٹھے شخص کی اس ہٹ دھرمی اور بے شرمی پر مبنی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اپوزیشن اور عوام کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق امبرناتھ میونسپل کونسل کی جنرل باڈی میٹنگ جاری تھی جہاں ترقیاتی کاموں اور فنڈ کے حوالے سے بحث ہو رہی تھی۔ اسی دوران ہاؤس کے ایک رکن کی جانب سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (اجیت پوار) کے سینئرلیڈر اور میونسپل کونسل کے نائب صدر سداشیو پاٹل اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے اور براہ راست چوری چکاری کی حمایت شروع کر دی۔ انہوں نے مائیک پر کہا کہ بدعنوانی اور چوری ہلاکت خیز حد تک نہیں بلکہ ایک حد میں ہونی چاہیے۔ بدعنوانی تو ہونی ہی چاہیے، لیکن اس کا فیصد بالکل کم ہونا چاہیے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب سداشیو پاٹل یہ نازیبا اور غیر قانونی گفتگو کر رہے تھے تو ان کے برابر میں بیٹھی میونسپل کونسل کی صدر تیجسوی کرنجولے نے صورتحال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے انہیں ٹوکا اور خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ صدر نے دھیمی آواز میں پاٹل سے کہا کہ خاموش رہیے آپ کیا بول رہے ہیں ؟ سامنے میڈیا اور صحافی بیٹھے ہوئے ہیں۔ لیکن صدر کی اس تنبیہ کا پاٹل پر کوئی اثر نہیں ہوا اور انہوں نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہاں موجود صحافیوں کی طرف اشارہ کرکے الٹا سوال داغ دیا کہ۔ کیا میں کچھ غلط بول رہا ہوں ؟ آپ سب بھی تو سچائی جانتے ہیں۔ اس واقعہ کا ویڈیو منظر عام پر آتے ہی امبرناتھ شہر کے شہریوں اور ٹیکس دہندگان میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ عوام کی خون پسینے کی کمائی کو یہ لیڈران اپنی جاگیر سمجھ کر لوٹ رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ چوری کرو، لیکن تھوڑی کرو کا یہ نیا سیاسی فلسفہ جمہوریت کے لئے ایک تازیانہ ہے۔