Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲۵؍ دن میں بکنگ لینے کے بعد بھی ایجنسیاں سلنڈر فراہم کرنے میں ناکام

Updated: March 26, 2026, 12:36 AM IST | Mumbai

شکایت کرنے پر مزید ایک ہفتہ انتظار کرنے یا پھر خود ہی گیس ایجنسیوں پر جا کر سلنڈر لینے کے لئے مجبور کیا جارہا ہے۔ شہرو اطراف کے کئی علاقوں میں گیس کی قلت سے شہری پریشان اور ایجنسیوں پر لمبی قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور

Such queues outside gas agencies are common these days.
گیس ایجنسیوں کے باہر ایسی قطاریں ان دنوں عام ہیں

ایک طرف حکومت رسوئی گیس سلنڈروں کی قلت سے انکار کررہی ہے جبکہ دوسری طرف شہری ۲۵؍ دنوں کے بعد بکنگ کرنے کے باوجود گیس سلنڈروں کی  ڈیلیوری  نہ  ہونے سےپریشان ہیں ۔ یہی نہیں ایجنسیوں سے جب اس ضمن میں استفسار کیا جاتا ہے تو وہ گیس اسٹاک کی کمی کا جواز پیش کرتی ہیں اور بکنگ کرنے کے بعد مزیدچار پانچ دن بعد ڈیلیوری دینے کی بات کرتے ہیں۔  
 عروس البلاد ممبئی میں ہی نہیں بلکہ تھانے اور نوی ممبئی میں بھی حکومت کی یقین دہانی اور گیس کی قلت نہ ہونے کے دعوؤں کے باوجود گیس کیلئے  ہنوز شہریوں کو اچانک گیس ختم ہونے اور ۲۵؍ دن کے دیئے گئے وقفہ کے سبب مختلف ایجنسیوں پر لمبی قطار میں کھڑا ہونا پڑ رہا ہے۔بائیکلہ ،ناگپاڑہ اور دادر کے علاوہ تھانے اور نوی ممبئی میں رہائش پذیر اکثر مکینوں نے نامہ نگار کو بتایا کہ ۲۵؍ دنوں کے بعد کی گئی بکنگ اور دی گئی تاریخ کے باوجود گیس سلنڈر کی ڈیلیوری نہیں ہورہی ہے جبکہ ایجنسی کے ذمہ داران جہاں سلنڈرکا اسٹاک کم ہونے کے سبب وقت پر ڈیلیوری نہیں کرپانے کا جواز پیش کررہے ہیں ۔   دوسری طرف طے شدہ تاریخ کے بعد گیس نہ ملنے پر سلنڈ ر لے کر ایجنسی پہنچنے اورلمبی قطار میں کھڑے رہنے پرکہیں سلنڈر دے دیا جارہا ہےتو کہیںانکار کر دیا جارہے۔ اس کے باوجود مجبوراً بیشتر مکین ایجنسیوں کی بد عنوانیوں اور تساہلی کے سبب بذات خود سلنڈرحاصل کرنے کیلئے لمبی قطار میں کھڑے ہونے کے ساتھ اسےڈھونےپربھی مجبور ہیں ۔
 اس ضمن میں مدنپورہ سانکلی اسٹریٹ کی رہنےوالی خاتون روبینہ ندیم خان نےبتایا کہ ۱۵؍ فروری کو گیس بک کرنے پر ایجنسی نے میسیج کیا کہ ۲۵؍ دن بعد ۲۰؍ مارچ کو بکنگ لی جائے گی اور دوسرے دن سلنڈر مل جائے گا۔خاتون نے مزید کہا کہ ’’۲۰؍ مارچ کو بکنگ تو لے لی گئی لیکن بروز منگل ۲۴؍ مارچ تک ڈیلیوری نہیں کی گئی تو میں نے اپنے بیٹے کو کماٹی پورہ ۱۳؍ ویں گلی میں واقع انوکل گیس ایجنسی میںبھیجا جہاں مزید ایک ہفتے کے درمیان سلنڈر فراہم کرنے کی اطلاع دی گئی ۔ جب میرے بیٹے نے فوری طور پر سلنڈر دینےکی درخواست کی تو سلنڈر لے کر ایجنسی آنے پر سلنڈر دیئے جانے کی اطلاع دی گئی۔ مجبوراً میرے بیٹے کو سلنڈر ڈھو کر لے جانا اور لانا پڑا  ۔‘‘
 اسی طرح دادر میں رہائش پذیر سنتوش بامنے نے ایچ پی گیس ایجنسی میں گیس ختم ہونے پر بکنگ لینے اور سلنڈر دینے کی درخواست کی تو قلت کا حوالہ دیتے ہوئے سلنڈر دینے سے انکار کر دیا گیاجس کی وجہ سے سنتوش کے علاوہ دیگر صارفین ایجنسی کے ملازمین اور اس کے ذمہ دار سے جھگڑا کرنے لگےلیکن دیگر مقامی لوگوں نے مداخلت کرکے معاملہ کو رفع دفع کیا ۔ یہی نہیں تھانے اور نوی ممبئی کے شہری بھی مذکورہ مسائل سے دو چار ہیں ۔ تھانے کے مہاگیری علاقے میں اور نوی ممبئی کے سانپڑا علاقے میں واقع ایجنسیوں پر لوگ اچانک گیس ختم ہونے یا جنگ کے سبب عنقریب سلنڈر نہ ملنے کے خطرے کے پیش نظرخالی سلنڈر کے ساتھ لمبی قطار لگا کر گیس حاصل کرنے کی جد جہد کرتے نظر آئے ۔
 اس دوران  ایجنسیوں کے ۲۵؍ دن سے قبل گیس کی بکنگ کے بغیر سلنڈر نہ دینے پر جب ہاتھا پائی کی نوبت آگئی تو پولیس کو مداخلت کرنی پڑی ۔ تاہم پولیس نے جن کو فوری سلنڈر دیا جاسکتاتھا ، انہیں ان کی بکنگ کے مطابق ، پن نمبروں کا اعلان کرکے سلنڈر دیا گیا جبکہ تھانے اور نوی ممبئی شہری انتظامیہ کے افسران نے اس ضمن میں ایک اعلان جاری کرتے ہوئے شہریوں کو یقین دلایا کہ گیس کی قلت نہیں ہے اور یہ کہ ۲۵؍ دنوں کے وقفہ سے بکنگ بھی لی جائے گی اور سلنڈر بھی فراہم کیا جائے گا ۔ دوسری جانب ایجنسی کے ملازمین اور ذمہ دار بار بار سلنڈر کا اسٹاک کم ہونے اور ملنے کا جواز پیش کر رہے ہیں ۔ قابل ذکر ہے کہ حکومت اور اس کے متعلقہ اداروں کی یقین دہانیوں اور در پیش مسائل کا کب تک شہریوں کوسامنا کرنا پڑے گا ، اس تعلق سے ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا  ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK