Inquilab Logo Happiest Places to Work

راجیہ سبھا میں راگھو چڈھا نے ’’ڈبہ بند جوس‘‘ کے صحت پر اثرات کی بحث چھیڑی

Updated: March 25, 2026, 9:00 PM IST | New Delhi

راگھو چڈھا نے پارلیمنٹ میں پیک شدہ مشروبات کی گمراہ کن برانڈنگ پر سوال اٹھایا، سخت لیبلنگ قوانین کا مطالبہ۔

Photo: X
تصویر: ایکس

راگھو چڈھا نے راجیہ سبھا میں ایک اہم اور عوامی صحت سے جڑے مسئلے کو اٹھاتے ہوئے ہندوستان کی پیک شدہ مشروبات کی صنعت، خاص طور پر پھلوں کے نام پر فروخت ہونے والے ڈرنکس، پر سخت سوالات کھڑے کئے ہیں۔ ایوان بالا میں خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں دستیاب کئی مشروبات کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے جیسے وہ صحت بخش ’’فروٹ جوس‘‘ ہوں، حالانکہ حقیقت میں وہ بڑی حد تک شوگر سیرپ، کنسنٹریٹ اور اضافی کیمیکلز پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق، یہ رجحان نہ صرف صارفین کو گمراہ کرتا ہے بلکہ طویل مدتی صحت کیلئے بھی خطرناک ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کانگریس کو۲۴؍ اکبر روڈ پر واقع دفتر خالی کرنے کا نوٹس، سیاسی انتقام کا الزام

چڈھا نے خاص طور پر بصری مارکیٹنگ کے طریقوں کو نشانہ بنایا، جہاں پیکیجنگ پر تازہ پھلوں کی دلکش تصاویر دکھائی جاتی ہیں، جبکہ اصل اجزاء اور شوگر کی مقدار باریک حروف میں چھپا دی جاتی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’آپ کو لگتا ہے کہ آپ فروٹ جوس پی رہے ہیں؟ دوبارہ سوچیں۔‘‘ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ ایسے گمراہ کن ہتھکنڈوں کو روکنے کیلئے کیا عملی اقدامات کئے جا رہے ہیں، اور کیا واضح اور لازمی فرنٹ آف پیک لیبلنگ متعارف کرائی جائے گی تاکہ صارفین فوری طور پر جان سکیں کہ وہ کیا خرید رہے ہیں۔
حالیہ برسوں میں، ہندوستان میں موٹاپے اور ذیابیطس کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے، اور صحت کے ماہرین بارہا پروسیسڈ فوڈ اور شوگر سے بھرپور مشروبات کو اس کا بڑا سبب قرار دیتے رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) بھی بارہا میٹھے مشروبات کے استعمال میں کمی پر زور دے چکا ہے۔
چڈھا کی مداخلت ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) پہلے ہی لیبلنگ کے قوانین کو سخت بنانے پر غور کر رہی ہے، اور امکان ہے کہ آنے والے مہینوں میں پیکیجنگ اور اشتہارات کے حوالے سے نئی گائیڈ لائنز سامنے آئیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’اعظم خان پر فرضی مقدمہ ، عرفان اور رما کانت کو سیاسی رنجش کے تحت جیل بھیجا گیا ‘‘

پارلیمنٹ میں اٹھائے گئے اہم مسائل اور ان کی عوامی اہمیت
(۱) گمراہ کن برانڈنگ اور اشتہارات
چڈھا نے واضح کیا کہ کمپنیاں پھلوں کی تصاویر اور ’’ہیلدی‘‘ دعوؤں کے ذریعے صارفین کو دھوکہ دیتی ہیں۔قانون بننے کے بعد سچائی سامنے آنے سے لوگ بہتر اور باخبر فیصلے کر سکیں گے۔
(۲) شوگر کی زیادہ مقدار کو چھپانا
انہوں نے نشاندہی کی کہ کئی مشروبات میں شوگر بہت زیادہ ہوتی ہے مگر اسے نمایاں طور پر ظاہر نہیں کیا جاتا۔ قانون بننے کے بعد واضح معلومات سے ذیابیطس اور موٹاپے جیسے مسائل کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
(۳) فرنٹ آف پیک لیبلنگ کی ضرورت
چڈھا نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت پیکٹ کے سامنے واضح وارننگ یا معلومات لازمی کرے گی۔ قانون بننے کے بعد صارفین کو فوری اور آسانی سے سمجھ آنے والی معلومات ملے گی، خاص طور پر کم تعلیم یافتہ افراد کے لیے۔
(۴) اصلی جوس اور مصنوعی مشروبات میں فرق
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حقیقی فروٹ جوس اور کنسنٹریٹ/شوگر والے ڈرنکس کے درمیان واضح فرق ہونا چاہیے۔ قانون بننے کے بعد صارفین کو اصل غذائیت اور جعلی متبادل کے درمیان فرق معلوم ہوگا۔
(۵) بچوں پر منفی اثرات
انہوں نے خبردار کیا کہ یہ مارکیٹنگ خاص طور پر بچوں کو متاثر کرتی ہے، جو ان مشروبات کو صحت بخش سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔ قانون بننے کے بعد فائدہ یہ ہوگا کہ بہتر ضابطے بچوں کی صحت کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوں گے۔

(۶) ریگولیٹری نگرانی کی کمی
چڈھا نے حکومت سے پوچھا کہ کیا موجودہ قوانین کافی ہیں یا مزید سختی کی ضرورت ہے۔ مضبوط قوانین مارکیٹ میں شفافیت اور جوابدہی بڑھائیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: گھر میں نماز پر پابندی کے خلاف فیصلہ سنانے والے الہ آباد ہائی کورٹ کے جج کا روسٹر تبدیل کردیا گیا

یہ معاملہ محض ایک تجارتی بحث نہیں بلکہ عوامی صحت، صارفین کے حقوق اور شفافیت سے جڑا ہوا ایک بڑا سوال ہے۔ راگھو چڈھا کی یہ مداخلت اس سمت میں ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے جہاں صارفین کو وہی دکھایا جائے جو حقیقت میں موجود ہے نہ کہ صرف ایک خوبصورت پیکٹ پر چھپی تصویر۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK