Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئی ای اے کا ایندھن بچانے کا منصوبہ: ہندوستان کا ’جفت-طاق‘ ماڈل بین الاقوامی سطح پر لاگو کرنے پر غور

Updated: March 25, 2026, 10:05 PM IST | Paris

’جفت-طاق‘ ماڈل کو سب سے پہلے دہلی میں سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے دور میں اپنایا گیا تھا۔ اس کے تحت طاق (odd) اور جفت (even) نمبر پلیٹس والی گاڑیوں کو متبادل دنوں میں استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی تاکہ ٹریفک کے ہجوم اور آلودگی کو کم کیا جاسکے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ فوجی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے تعطل کے چلتے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران، انٹرنیشنل اینرجی ایجنسی (آئی ای اے) نے عالمی سطح پر ایندھن کی بچت کو فروغ دینے کیلئے ہنگامی حکمتِ عملی وضع کی ہے۔ اس منصوبے کی کچھ سفارشات کا موازنہ ہندوستان کے سابقہ `جفت-طاق‘ (odd-even) ٹریفک منصوبے سے کیا جا رہا ہے۔

آئی ای اے کے ذریعے جاری کی گئی”اینرجی پلے بک“ میں گھر سے کام، فضائی سفر میں کمی، کار پولنگ اور کم ایندھن استعمال کرنے کے سخت طریقے شامل ہیں۔ ان کا مقصد سپلائی پر دباؤ برقرار رہنے کی صورت میں ممالک کو ایندھن کی ممکنہ قلت سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کا نیا اتحاد پلان، ہرمز محدود کھولا، خطے میں طاقت کا نیا توازن

ایندھن کی طلب کم کرنے کے اہم اقدامات

آئی ای اے کے ذریعے پیش کی گئی نمایاں ترین تجاویز میں ملازمین کو ہفتے میں تین دن تک گھر سے کام کرنے کی ترغیب دینا شامل ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس تجویز پر عمل درآمد سے مسافروں کی نقل و حمل سے ہونے والی تیل کی کھپت میں ۲ سے ۶ فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔ اس منصوبے میں ہوائی پروازوں کی تعداد کم کرنے، شاہراہوں پر رفتار کی حد گھٹانے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کو فروغ دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق، رفتار کی حد میں تقریباً چھ میل فی گھنٹہ کی کمی کرنے سے فی گاڑی ایندھن کی کھپت میں ۵ سے ۱۰ فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔ ڈرائیوروں کو ایندھن بچانے والی عادات اپنانے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے، جن میں ٹائروں کا پریشر برقرار رکھنا، ایئر کنڈیشننگ کا محدود استعمال اور گاڑی کی رفتار اچانک تیز کرنے سے گریز کرنا شامل ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’خلیجی ممالک کے انتباہ نے ٹرمپ کو مذاکرات پرمجبور کیا‘‘

ہندوستان کا ’جفت-طاق‘ ماڈل نمایاں

اس منصوبے میں ایک سفارش ایسی بھی ہے جو ہندوستان میں اپنائے گئے’جفت-طاق‘ ماڈل کی ہو بہو عکاسی کرتی ہے۔ اس ماڈل کو سب سے پہلے دہلی میں سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے دور میں نافذ کیا گیا تھا۔ اس نظام کے تحت طاق (odd) اور جفت (even) نمبر پلیٹس والی گاڑیوں کو متبادل دنوں میں استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی تاکہ ٹریفک کے ہجوم اور آلودگی کو کم کیا جاسکے۔ آئی ای اے اب یہ تجویز دے رہی ہے کہ توانائی کے بحران کے دوران ایندھن کی طلب کو کم کرنے کیلئے اسی طرح کا طریقہ کار مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

عوامی ردِعمل اور تنقید

ایندھن کی شدید قلت کو روکنے کی ایجنسی کی کوشش کے باوجود، سوشل میڈیا پر ان تجاویز کے خلاف سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ بہت سے صارفین نے ان اقدامات کا موازنہ کووڈ-۱۹ کے لاک ڈاؤن کے دوران عائد کی گئی پابندیوں سے کیا اور روزمرہ کی زندگی پر ممکنہ حدود کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔ کچھ سوشل میڈیا صارفین نے دلیل دی کہ عالمی سپلائی میں تعطل کا بوجھ عام شہریوں پر نہیں ڈالنا چاہئے۔ دیگر کئی صارفین نے طلب کی بنیاد پر لگائی جانے والی پابندیوں کی افادیت پر سوال اٹھایا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران: ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے۲؍ ملین ڈالر وصول کرنے کے دعوے بے بنیاد

آئی ای اے نے واضح کیا کہ ان رہنما سفارشات کا نفاذ ابھی لازمی نہیں ہے۔ صورتحال کے مزید خراب ہونے کی صورت میں ہی ان تجاویز کو لاگو کرنے پر غور کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK