Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ کو سخت ترین صورتحال کا سامنا: بورڈ آف پیس کے نمائندے کا اظہار تشویش

Updated: March 25, 2026, 10:04 PM IST

بورڈ آف پیش کے نمائندے نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کو سخت ترین صورتحال کا سامنا ہے، جبکہ دیگر نمائندے کا کہنا ہے کہ امداد کی رسائی بہتر بنانے کیلئے مزید کوشش درکار ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

 اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پیس بورڈ میں غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے نکولے ملادینوف نے فلسطین پر کہاکہ’’ پہلے مرحلے پر عمل درآمد کے ذریعے نمایاں بہتری کے باوجود، غزہ کی صورتحال بہت، بہت مشکل ہے۔صحت کا نظام تباہی کی حالت میں ہے۔ کوئی فعال معیشت موجود نہیں ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی انہوں نے تین ترجیحات کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ،رفح کراسنگ کھلا رہنا چاہیے اور مزید لوگوں کو غزہ کے اندر اور باہر جانے کی اجازت دی جانی چاہئے، اور اس میں کسی بھی قسم کی پابندی، دوسرے مرحلے پر عمل درآمد میں رکاوٹ بنے گی۔ اس کے علاوہ انسانی امداد کے تعلق سے انہوں نے امدادی ٹرکوں کی تعداد میں اضافے کا مطالبہ کیا۔ساتھ ہی عارضی رہائش کا مسئلہ تیزی سے حل کرنے کابھی مطالبہ کیا، انہوں نے کہا کہ ۲۰؍ لاکھ سے زیادہ لوگوں کو غیر انسانی حالات میں زندہ رہنے کیلئے نہیں چھوڑا جاسکتا۔ ملادینوف نے جنگ بندی معاہدے پر مکمل عمل درآمد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ،’’ اگر ہم اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان امن کو آگے بڑھانے کے بارے میں سنجیدہ ہیں، تو ہمیں اس منصوبے پر عمل درآمد کے بارے میں بھی اتنا ہی سنجیدہ ہونا ہوگا۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: صدر ٹرمپ سے زیادہ ایران پر یقین: سابق سربراہ سی آئی اے

بعد ازاں امریکہ نے منگل کو تسلیم کیا کہ غزہ میں انسانی امداد کی کوششیں اب بھی ناکافی ہیں، اور خبردار کیا کہ امداد کی رسائی میں نمایاں خامیاں برقرار ہیں۔امریکی مندوب مائیک والٹز نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا، ’’یقینی طور پر، مزید کام کی ضرورت ہے۔ ہمیں ابھی طویل سفر طے کرنا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے امداد کی فراہمی میں معنی خیز پیش رفت کا بھی حوالہ دیا۔ساتھ ہی انہوں نےکہا کہ ’’ اس خطے میں رہنے والوں کو صاف ستھری، زیادہ پائیدار رہائش اور صحت کی خدمات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ’’ واشنگٹن غزہ کے اندر اور اس تک انسانی رسائی کو مضبوط بنانے کے لیے روزانہ اپنے اسرائیلی ہم منصبوں اور اس ادارے کے دیگر شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔‘‘والٹز نے کہا کہ’’ امریکہ نے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر گزشتہ ۱۶؍ہفتوں کے دوران ہر ہفتے ۴؍ہزار سے زائد ٹرکوں پر انسانی امداد اور دیگر ضروری اشیاء کی آمد کو ممکن بنایا،‘‘ لیکن انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ تعداد حال ہی میں کم ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فرانسسکا البانیز کا اسرائیل پر ’تشدد کی پالیسی‘ اپنانے کا الزام؛ عالمی بےحسی نےمظالم کی راہ ہموار کی

انہوں نے کئی علاقائی ریاستوں کی جانب سے ۷؍ارب ڈالر سے زائد امداد کے وعدوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان شراکت کو ’’حقیقی کوشش، حقیقی رقم‘‘ قرار دیا۔والٹز نے مقبوضہ مغربی کنارے پر خدشات کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا،’’صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکہ مغربی کنارے کے الحاق کا مخالف ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK