دسمبر میں سڈنی کے مشہور بونڈی ساحل پر دہشت گردانہ حملے میں اپنی جان پر کھیل کر حملہ آور کو پکڑنے اور بے گناہوں کی جان بچانے والے احمد الاحمد کو اتوار کو آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان ایشیز سیریز کے پانچویں اور آخری ٹیسٹ میچ کے آغاز پر شاندار خراج تحسین پیش کیا گیا۔
سڈنی کرکٹ گراؤنڈ (ایس سی جی ) پر ۲؍ ہیرو احمدالاحمد اورعثمان خواجہ کی ملاقات۔ ایک نے اپنی جان پر کھیل کر معصوموں کی جان بچائی اور دوسرا مظلوموں کیلئے اس وقت بھی آواز بلند کرتا ہے جب آواز بلند کرنا آسان نہیں رہ گیاہے۔ تصویر: آئی این این
دسمبر میں سڈنی کے مشہور بونڈی ساحل پر دہشت گردانہ حملے میں اپنی جان پر کھیل کر حملہ آور کو پکڑنے اور بے گناہوں کی جان بچانے والے احمد الاحمد کو اتوار کو آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان ایشیز سیریز کے پانچویں اور آخری ٹیسٹ میچ کے آغاز پر شاندار خراج تحسین پیش کیا گیا۔ احمد الاحمد جو ’’بونڈی کے ہیرو‘‘ کے طور پردنیا بھر میں مشہور ہوگئے ہیں، اپنا دایاں ہاتھ سلنگ (پٹی) میں ڈالے سڈنی کرکٹ گراؤنڈ پر پہنچے تو اسٹیڈیم میں موجود ۴۸؍ ہزار افراد ان کے اعزاز میں کھڑے ہوگئے اور تالیاں بجا کر ان کا استقبال کیا۔
یاد رہے کہ ۴۳؍ سالکہ احمد الاحمد، جو شامی نژاد آسٹریلوی شہری ہیں، نے اس وقت حملہ آور کو پکڑ لیاتھا جب وہ معصوم افراد پر اندھادھند گولیاں برسا رہا تھا۔ اسٹیڈیم میں ان کے ساتھ ۱۴؍ سالہ کی چھایا دادون بھی تھیں جنہوں نے ۲؍ بچوں کو گولیاں سے بچانے کیلئے اپنے پیچھے چھپا لیاتھا۔ ان کے پیر میں گولی لگی تھی اور وہ بیساکھی لے کر پہنچی تھیں۔ جس وقت ان کیلئے تالیاں بج رہی تھیں ،اس وقت ان کے جذبات چہروں سے عیاں تھے۔