Updated: August 13, 2026, 9:02 PM IST
| Ahmedabad
احمد آباد میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور انسانی ہمدردی کی منفرد مثال سامنے آئی ہے، جہاں طبی عدم مطابقت کے باعث اپنے شوہروں کو براہِ راست گردہ عطیہ نہ کر سکنے والی ایک ہندو اور ایک مسلم خاتون نے ایک دوسرے کے شوہروں کو گردے عطیہ کیے۔ اس ’کڈنی سویپ‘ کے ذریعے ۹؍ جولائی کو دونوں مریضوں کی بیک وقت کامیاب پیوند کاری کی گئی۔ اسٹرلنگ اسپتال کے مطابق یہ اس کی پہلی کڈنی سویپ ٹرانسپلانٹ تھی۔
علامتی تصویر: آئی این این
احمد آباد میں طبی عدم مطابقت کے باعث اپنے اپنے شوہروں کو براہِ راست گردہ عطیہ نہ کر سکنے والی ایک ہندو اور ایک مسلم خاتون نے ایک دوسرے کے شوہروں کو اپنے گردے عطیہ کئے۔ اس منفرد گردہ تبادلہ ’کڈنی سویپ‘ کے ذریعے دونوں مریضوں کی بیک وقت گردے کی پیوند کاری کی گئی۔ اسٹرلنگ اسپتال کے مطابق ۹؍ جولائی کو احمد آباد کے ۴۵؍ سالہ ہندو شخص اور ادے پور کے ۴۲؍ سالہ مسلم شخص کو دونوں خواتین کے گردے کامیابی سے منتقل کئے گئے۔ دونوں مریض گردے کی دائمی بیماری اور گردوں کے آخری مرحلے کے مرض میں مبتلا تھے، تاہم طبی عدم مطابقت کے باعث ان کے رشتہ دار براہِ راست گردہ عطیہ کرنے کے اہل نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھئے: سورت میں ۱۲۵؍ کروڑ روپے کی سائبر دھوکہ دہی کا پردہ فاش، مزید چار ملزمین گرفتار
اس صورتِ حال کے بعد دونوں خاندانوں نے ’کڈنی سویپ‘ یعنی باہمی طور پر گردوں کے تبادلے کے امکان پر غور کیا۔ ڈاکٹروں نے دونوں مریضوں اور عطیہ دہندگان کے طبی اسکین کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ ایک خاندان کی خاتون دوسرے مریض کو، جبکہ دوسرے خاندان کی خاتون پہلے مریض کو گردہ عطیہ کرنے کیلئے موزوں ہے۔ دونوں خاندانوں کی مکمل کونسلنگ کے بعد انہوں نے اس طریقۂ کار پر رضامندی ظاہر کی۔ اسٹرلنگ اسپتال نے اسے اپنی نوعیت کی پہلی ’کڈنی سویپ ٹرانسپلانٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ہمدردی، اعتماد، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور انسانی جان بچانے کے مشترکہ جذبے کی مثال ہے۔
اسپتال کے کلینیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سدھیر مراد نے کہا کہ گردے کا تبادلہ ان مریضوں کے لیے زندگی کا دوسرا موقع فراہم کرتا ہے جنہیں طبی عدم مطابقت کے باعث رضامند عطیہ دہندہ براہِ راست گردہ نہیں دے سکتا۔ انہوں نے عطیہ دہندگان اور دونوں خاندانوں کی ہمدردی، اعتماد اور باہمی ہم آہنگی کو اس کامیابی کا اہم پہلو قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ۵۸؍ لاکھ کنبی ریکارڈ میں ۳۷؍ لاکھ پرانے ہیں جنکے سرٹیفکیٹ جاری ہو چکے ہیں
اسپتال کے مطابق دونوں مریض پیوند کاری کے بعد تیزی سے صحت یاب ہوئے۔ ڈسچارج کے وقت ان کے سیرم کریاٹینین کی سطح بالترتیب ۲۶ء۱؍ اور ۳۰ء۱؍ ملی گرام فی ڈیسی لیٹر تھی، جو گردوں کے بہتر ابتدائی افعال کی نشاندہی کرتی ہے۔ پیوند کاری میں شامل چاروں افراد کو ۱۸؍ جولائی کو اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔ پیوند کاری کا عمل ڈاکٹر سونل دلال، ڈاکٹر جاوید وکیل، ڈاکٹر کیتن شکلا، ڈاکٹر ہمانشو پٹیل اور ڈاکٹر بھاوِن مہتالیہ کی سربراہی میں کثیر شعبہ جاتی طبی ٹیم نے انجام دیا، جبکہ ٹرانسپلانٹ کوآرڈینیٹر راحل شاہ نے بھی معاونت کی۔