Updated: October 16, 2026, 8:00 PM IST
| Ahmedabad
گجرات وی ایچ پی کے ترجمان ہتیندر سنگھ راجپوت نے اس اعلان کا دفاع کیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ”عام طور پر، بجرنگ دل، جو وی ایچ پی کا یوتھ ونگ ہے، احمد آباد میں گربا پروگراموں کا دورہ کرتا ہے اور منتظمین سے ملاقات کرکے ان سے غیر ہندوؤں کے پنڈال میں داخلے کو روکنے کا کہتا ہے۔“ انہوں نے کہا کہ رضاکار بعض اوقات ایسے پروگراموں میں شریک مردوں کو تلک لگاتے ہیں اور جن افراد کو وہ مشکوک سمجھتے ہیں انہیں باہر نکال دیتے ہیں۔
احمدآباد میں گربا پروگرام میں لوک گلوکار آدتیہ گڑھوی کی پرفارمنس کے دوران مسلمانوں اور دیگر غیر ہندوؤں کو باہر نکل جانے کا حکم دیئے جانے کے بعد گجرات میں تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ اسٹیج سے اینکر اور ریڈیو جاکی آکاش ترویدی کی جانب سے کئے جانے والے اس اعلان پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
یہ واقعہ بدھ کے روز شیلا روڈ پر واقع ساوانا پارٹی پلاٹ میں منعقدہ ”رنگ مورلا فیچرنگ آدتیہ گڑھوی“ نامی تقریب میں پیش آیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک ویڈیو میں ترویدی کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے: ”کسی بھی ’ودھرمی‘ (غیر ہندو) اور مسلمان سے عاجزانہ گزارش ہے کہ وہ گراؤنڈ سے باہر چلے جائیں۔ وشو ہندو پریشد سناتن دھرم کے تحفظ کیلئے یہاں پہنچ گئی ہے۔“ انہوں نے ایک ہیلپ لائن نمبر کا بھی اعلان کیا اور شرکاء پر زور دیا کہ وہ اپنے ارد گرد دیکھیں اور ایسے افراد کی اطلاع دیں جنہیں وہ مشکوک سمجھتے ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: اسلام قبول کرنے سے مسلم پسماندہ طبقے کا ریزرویشن نہیں ملے گا: سپریم کورٹ
وی ایچ پی نے اس اقدام کا دفاع کیا
گجرات وی ایچ پی کے ترجمان ہتیندر سنگھ راجپوت نے اس اعلان کا دفاع کیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ”عام طور پر، بجرنگ دل، جو وی ایچ پی کا یوتھ ونگ ہے، احمد آباد میں گربا پروگراموں کا دورہ کرتا ہے اور منتظمین سے ملاقات کر کے ان سے غیر ہندوؤں کے پنڈال میں داخلے کو روکنے کا کہتا ہے۔“ انہوں نے کہا کہ رضاکار بعض اوقات ایسے پروگراموں میں شریک مردوں کو تلک لگاتے ہیں اور جن افراد کو وہ مشکوک سمجھتے ہیں انہیں باہر نکال دیتے ہیں۔ راجپوت کے مطابق، بجرنگ دل کے رضاکاروں نے ’رنگ مورلا‘ پروگرام کا دورہ کیا تھا اور یہ درخواست کی تھی، جس کے بعد اسٹیج سے یہ اعلان کیا گیا۔ اس ویڈیو پر آن لائن کڑی تنقید کی گئی، جہاں صارفین نے مذہب کی بنیاد پر ایک عوامی تہوار کے اجتماع سے لوگوں کو خارج کرنے پر سوالات اٹھائے۔
یہ بھی پڑھئے: ’شہریت کا فیصلہ کرنا الیکشن کمیشن آف انڈیا کا کام نہیں‘
گڑھوی کا لاتعلقی کا اظہار
مشہور گانے ’کھلاسی‘ (Khalasi) سے شہرت پانے والے گڑھوی نے انسٹاگرام پر ایک بیان میں کہا کہ یہ اعلان ان کے خیالات کی عکاسی نہیں کرتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک گروہ نے ان سے یا ان کی ٹیم سے مشورہ کئے بغیر بیک اسٹیج کے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ انہوں نے لکھا، ”پروگرام میں جو کچھ ہوا وہ میرا کیا دھرا نہیں تھا اور نہ ہی یہ میرا پیغام تھا۔ لوگوں کے ایک گروہ نے بیک اسٹیج پر قبضہ کر لیا اور میرے پلیٹ فارم کو ایک ایسی چیز کیلئے استعمال کیا جو میں کبھی نہیں کروں گا۔“ انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم اور اینکر سے اس بارے میں نہ کوئی مشورہ کیا گیا تھا اور نہ ہی وہ اس میں شامل تھے۔
گڑھوی نے کہا، ”گربا نے کبھی کسی سے اس کی ذات یا خاندانی نام (surname) نہیں پوچھا۔“ انہوں نے مزید کہا کہ تمام مذاہب کے لوگ نسلوں سے شانہ بشانہ گربا کھیلتے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”جو کوئی بھی ماں کیلئے محبت اور احترام کے ساتھ گربا میں آتا ہے، وہ میرے دائرے میں خوش آمدید ہے۔ یہ سیاست نہیں ہے۔“ انہوں نے امن و امان کے نظام پر اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ضروری کارروائی کی جائے گی۔