Updated: October 15, 2026, 8:04 PM IST
| New Delhi
سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ہندو سماجی نظام سے اسلام یا کسی دوسرے غیر ہندو مذہب میں داخل ہونے والا شخص محض اپنی سابقہ ذات یا پسماندگی کی بنیاد پر نئے مذہب کی کسی تسلیم شدہ پسماندہ برادری کا رکن نہیں بن سکتا۔ عدالت نے مدراس ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس میں تمل ناڈو حکومت کے ۲۰۲۴ء کے حکم نامے کو غیر آئینی قرار دے کر منسوخ کردیا گیا تھا۔
سپرریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این
سپریم کورٹ نے جمعرات کو تمل ناڈو حکومت کی اپیل خارج کرتے ہوئے واضح کیا کہ مذہب تبدیل کرنے سے پہلے کسی شخص کی سماجی حیثیت خود بخود اس کے نئے مذہب میں کسی مخصوص پسماندہ برادری کی رکنیت کی بنیاد نہیں بن سکتی۔ جسٹس پرشانت کمار مشرا اور جسٹس شری چندرشیکھر پر مشتمل بنچ نے کہا کہ سابقہ سماجی نظام میں پائی جانے والی پسماندگی کو محض تبدیلیٔ مذہب کی بنیاد پر نئے سماجی نظام میں منتقل نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہندو سماجی نظام سے غیر ہندو سماجی نظام میں داخل ہونے والا شخص آئین کی دفعہ ۱۶ (۴) کے تحت صرف اپنی سابقہ ذات سے وابستہ سماجی پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن کے فوائد کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ بنچ کے مطابق، اسلام قبول کرنے سے کوئی شخص خود بخود تمل ناڈو کی فہرست میں شامل کسی مسلم پسماندہ برادری کا رکن نہیں بن جاتا۔ اس کے لیے متعلقہ برادری کی قانونی رکنیت اور مقررہ شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر رَد کرنے اور گیانیش کمار کے استعفے کے لئے وکلاء کا زبردست احتجاج
یہ مقدمہ تمل ناڈو حکومت کے ۹؍ مارچ ۲۰۲۴ء کے حکم نامے نمبر ۳۱؍ سے متعلق تھا۔ ریاستی حکومت نے تمل ناڈو بیک ورڈ کلاسیز کمیشن کی سفارش پر یہ حکم جاری کیا تھا، جس کے تحت پسماندہ طبقات، انتہائی پسماندہ طبقات، ڈی نوٹیفائیڈ کمیونٹیز اور درج فہرست ذاتوں سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد کو، جو اسلام قبول کرلیں، ریاست کی سات تسلیم شدہ مسلم پسماندہ برادریوں میں سے کسی ایک کے نام پر کمیونٹی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ حکومت کا استدلال تھا کہ سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ افراد کو صرف اس وجہ سے ریزرویشن کے فوائد سے محروم نہیں ہونا چاہیے کہ انہوں نے آئین کی دفعہ ۲۵؍ کے تحت اپنے مذہبی عقیدے اور مذہب پر عمل کرنے کے حق کا استعمال کرتے ہوئے اسلام قبول کیا ہے۔ ریاست کے مطابق، اس اقدام کا مقصد پہلے سے پسماندہ افراد کے لیے ریزرویشن کے فوائد برقرار رکھنا تھا۔ تاہم، سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت کا حکم کسی شخص کو ایسی برادری کا قانونی رکن قرار نہیں دے سکتا جس کی رکنیت کے لیے الگ شرائط مقرر ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: انکیتا کے والدین کا دہلی میں احتجاج، راہل اور پرینکا ملنے پہنچے
اس مقدمے کی ابتدا سمیر احمد کے معاملے سے ہوئی، جن کا پیدائشی نام پرم شیوم تھا۔ وہ تمل ناڈو کے ضلع تھوتھکڈی میں ایک ہندو خاندان میں پیدا ہوئے اور ۲۰۱۵ء میں اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام سمیر احمد رکھ لیا۔ انہوں نے مسلم لبائی برادری کا کمیونٹی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے درخواست دی، تاکہ متعلقہ پسماندہ طبقے کے تحت ریزرویشن کے فوائد حاصل کرسکیں۔ تاہم، تحصیلدار نے ان کی درخواست مسترد کردی۔ اس کے بعد سمیر احمد نے قانونی چارہ جوئی کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ تمل ناڈو بیک ورڈ کلاسیز کمیشن کی سفارش اور ریاستی حکومت کے حکم نامے کی روشنی میں انہیں مسلم لبائی برادری کا سرٹیفکیٹ دیا جانا چاہیے۔ مدراس ہائی کورٹ نے ۲۵؍ جون ۲۰۲۶ء کو ان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ محض اسلام قبول کرنے سے کوئی شخص مسلم لبائی یا کسی دوسری فہرست شدہ مسلم پسماندہ برادری کا رکن نہیں بن سکتا۔ ہائی کورٹ نے حکومت کے حکم نامے کو غیر آئینی قرار دے کر منسوخ کردیا تھا۔
تمل ناڈو حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ ریاست نے دوبارہ یہ مؤقف اختیار کیا کہ مذہب کی تبدیلی کے باعث کسی فرد کو سماجی اور تعلیمی پسماندگی کے لیے دستیاب فوائد سے محروم کرنا مناسب نہیں۔ تاہم، سپریم کورٹ نے ریاست کی دلیل قبول نہیں کی اور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کمیونٹی سرٹیفکیٹ کسی شخص کو نئی قانونی حیثیت عطا کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ پہلے سے موجود اور قانون کے مطابق ثابت شدہ حیثیت کی تصدیق کرتا ہے۔ اس لیے کوئی سرکاری حکم نامہ یا سرٹیفکیٹ آئینی شرائط کو تبدیل نہیں کرسکتا۔ مسلم لبائی، روؤتھر، مرکار اور دکنی مسلم جیسی تسلیم شدہ برادریوں کی رکنیت محض مذہبی عقیدے کی بنیاد پر حاصل نہیں کی جاسکتی، بلکہ اس کے لیے متعلقہ قانونی اور سماجی معیار پورے کرنا ضروری ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’بی جےپی کو زیادہ ووٹ دلانے کی کوشش کرونگا‘
بنچ نے آئین کے درج فہرست ذاتوں سے متعلق حکم نامے کے پیراگراف ۳؍ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ قانونی ڈھانچے کے تحت ہندو، سکھ یا بدھ مذہب کے علاوہ کسی دوسرے مذہب پر عمل کرنے والے شخص کو درج فہرست ذات کا رکن نہیں مانا جاسکتا۔ عدالت کے مطابق، اسلام یا کسی دوسرے ایسے مذہب کو قبول کرنے کے بعد سابقہ درج فہرست ذات کی حیثیت کی بنیاد پر ریزرویشن کا دعویٰ برقرار نہیں رہتا۔ عدالت نے دوبارہ ہندو مذہب اختیار کرنے کی صورت میں بھی خودکار طور پر سابقہ ریزرویشن حیثیت بحال ہونے سے انکار کیا۔ بنچ کے مطابق، ایسی صورت میں مجاز حکام کو حقائق کی بنیاد پر آزادانہ جائزہ لینا ہوگا کہ آیا متعلقہ شخص کی اصل سماجی شناخت واقعی بحال ہوئی ہے اور آیا وہ آئینی و قانونی شرائط پوری کرتا ہے۔ اس طرح سپریم کورٹ نے واضح کردیا کہ مذہبی تبدیلی، سابقہ ذات یا کسی سرکاری سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر کسی دوسرے پسماندہ طبقے میں خودکار شمولیت کا حق پیدا نہیں کرتی۔