Inquilab Logo Happiest Places to Work

احمد آباد طیارہ حادثہ کے متاثرین کا مودی کو خط، سچ سامنے لانے کا مطالبہ

Updated: April 06, 2026, 10:54 AM IST | Ahmedabad

دردناک طیارہ حادثہ میں جان گنوانے والوں کے لواحقین کو تقریباً۱۰؍ ماہ گزرنے کے بعد بھی کئی سوالوں کے مکمل جواب نہیں مل سکے ہیں۔

The plane, which was heading to London, crashed on June 12, 2025. Photo: INN
۱۲؍ جون ۲۰۲۵ء کولندن جانے والا طیارہ حادثہ کا شکار ہوا تھا۔ تصویر: آئی این این

گجرات کے احمد آباد میں گزشتہ برس ہوئے دردناک طیارہ حادثہ میں جان گنوانے والوں کے لواحقین کو تقریباً۱۰؍ ماہ گزرنے کے بعد بھی کئی سوالوں کے مکمل جواب نہیں مل سکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان متاثرہ خاندانوں نے اب وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر ایئر انڈیا طیارہ حادثے کی مکمل حقیقت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہیں معاوضہ نہیں بلکہ سچ چاہئے۔ انہیں جاننا ہے کہ آخر وہ کون سی غلطی تھی جس نے ایک پل میں ۲۶۰؍ جانیں لے لیں۔ ایئر انڈیا طیارہ حادثے کے متاثرین کے سوگوار خاندانوں نے وزیراعظم کو خط لکھ کر کاک پٹ وائس ریکارڈر (سی وی آر) اور بلیک باکس ڈیٹا جاری کرنے کی اپیل کی ہے۔ ایئر انڈیا کی پرواز اے آئی۱۷۱؍ ((بوئنگ۷۸۷؍-۸؍ طیارہ) جو لندن جارہی تھی، ۱۲؍ جون۲۰۲۵ء کو سردار ولبھ بھائی پٹیل انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ٹیک آف کے کچھ دیر بعد ہی ایک میڈیکل کالج کے ہاسٹل گراؤنڈ میں گر کر تباہ ہو گئی تھی۔ حادثے کے بعد آگ لگنے کی وجہ سےجہاز میں سوار۲۴۲؍ میں سے۲۴۱؍لوگوں اور باقی وہاں موجود دیگر۱۹؍ افراد کی جان چلی گئی تھی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ڈنکن ڈونٹس کا ۲۰۲۶ء تک ہندوستان میں فرنچائز ختم کرنےکا فیصلہ، جانئے وجہ

متاثرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تفصیل عام نہیں کی جا سکتی تو کم از کم انہیں نجی طور پر اس کی معلومات دی جائے۔ متاثرین کے اہل خانہ کا خیال ہے کہ جب تک حقیقت سامنے نہیں آتی ان کا غم کم نہیں ہوگا۔ یہ صرف ایک تکنیکی مطالبہ نہیں ہے بلکہ جذباتی انصاف کی اپیل بھی ہے۔ اہل خانہ نے اپنے خط کی کاپیاں شہری ہوابازی حکام، اے اے آئی بی اور ڈی جی سی اے کے علاوہ گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل کو بھی بھیجی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ متاثرین اس معاملے کو سنجیدگی سے اٹھانا چاہتے ہیں اور حکومت سے ہر سطح پر شفافیت کی امید کر رہے ہیں۔ متوفیوں کے اہل خانہ کا خیال ہے کہ صرف بلیک باکس اور کاک پٹ وائس ریکارڈر ہی حادثے کی اصل وجہ بتا سکتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK