Inquilab Logo Happiest Places to Work

ناسک: اشوک کھرات کے بعد ایک اور جنسی اسکینڈل کا انکشاف، یوٹیوبر گرفتار

Updated: April 06, 2026, 11:51 AM IST | Nashik

یوٹیوبر ایرنڈے نے شکایت درج کرائی تھی کہ اس کا سابق ملازم اسے بلیک میل کررہا ہے، تاہم تفتیش میں  ایرنڈے ہی کیخلاف پختہ شواہد برآمد ہوگئے ہیں۔

 A message written on a wall against sexual violence. Photo: INN
ایک دیوار پر جنسی تشدد کیخلاف تحریر پیغام۔تصویر: آئی این این

یہاں اشوک کھرات جنسی اسکینڈل معاملے کی گونج ابھی تھمی بھی نہیں تھی کہ یوٹیوبر رویندر گنپت ایرنڈے سے جڑا ایک نیا چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ساتپور پولیس اسٹیشن میں ایرنڈے نے شکایت درج کرائی تھی کہ اس کا سابق ملازم آکاش بکرے اس کے فحش ویڈیوز وائرل کرنے کی دھمکی دے کر۱۲؍ لاکھ روپے کی بھتہ خوری کر رہا ہے۔ شکایت ملتے ہی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چار افراد کو گرفتار کر لیا، لیکن جیسے جیسے تفتیش آگے بڑھی، معاملہ برخلاف نکل آیا۔ 
گنپت ایرنڈے کی شکایت پر اسکے سابق ملزم اور دیگر تین کو حراست میں  لیا گیا تھا۔ تفتیش کے دوران ضبط کیے گئے موبائل فون، پین ڈرائیو، ٹیبلٹ اور میموری کارڈ سے تقریباً۱۲۱؍ قابلِ اعتراض ویڈیوز اور تصاویر برآمد ہوئی ہیں۔ یہ تمام ویڈیوز اور تصاویر خود رویندر ایرنڈے سے متعلق تھیں، جن میں مختلف خواتین کے ساتھ نامناسب مناظر ریکارڈ تھے۔ جب ان ڈیوائسز کی فارینسک جانچ کی گئی تو انکشاف ہوا کہ ایرنڈے خواتین کا جنسی استحصال کر رہا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’مسائل کی نشاندہی کر کے اس کا حل نکالیں ‘‘، تیجسوی یادو کی بہار حکومت کو نصیحت

ایک متاثرہ خاتون نے پولیس میں شکایت درج کرائی، جس میں اس نے الزام لگایا کہ ایرنڈے نے سرکاری نوکری دلانے کا جھانسہ دے کر اس کے ساتھ کئی بار جنسی زیادتی کی۔ یہ شرمناک واقعات مختلف ہوٹلوں میں پیش آئے۔ خاتون کی شکایت پر پولیس نے ایرنڈے کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ۶۹ (دھوکے سے جنسی تعلق)، آئی ٹی ایکٹ اور ایس سی/ایس ٹی مظالم کی روک تھام کے قانون کے تحت کیس درج کر لیا ہے۔ 
پولیس ذرائع کے مطابق، ایرنڈے، شہر کے ساورکر نگر میں ایک ٹریننگ سینٹر چلاتا تھا جو اس کی بیوی کے نام پر تھا، اور آکاش بکرے وہیں کام کرتا تھا۔ ملازمت سے نکالے جانے کے بعد بکرے دوبارہ ایرنڈے کے میڈیا ادارے سے جڑ گیا۔ دفتر کے کمپیوٹر میں ایک خفیہ فولڈر دیکھنے کے بعد اس نے ہارڈ ڈسک چوری کر لی اور بلیک میلنگ شروع کر دی۔ اس نے ایرنڈے کو کچھ نمونہ تصاویر بھیجیں اور ایڈوانس کے طور پر۱۰؍ ہزار روپے بھی وصول کیے۔ پولیس نے اس معاملے میں چار ملزمین کو حراست میں لے لیا ہے اور سب سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ پولیس نے دیگر ممکنہ متاثرہ خواتین سے اپیل کی ہے کہ وہ بلا خوف سامنے آئیں، ان کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر کاؤنسلنگ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ کھرات کیس کے بعد یہ دوسرا بڑا معاملہ ہے جس میں یوٹیوب اور میڈیا سے وابستہ افراد شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش گہرائی سے جاری ہے اور آئندہ مزید انکشافات ہو سکتے ہیں۔ فی الحال ایرنڈے سمیت تمام ملزمان پولیس حراست میں ہیں۔ ساتپور پولیس کے انچارج کے مطابق ڈیجیٹل شواہد کی جانچ کے ساتھ ساتھ دیگر متاثرین کی شناخت کے لئے ٹیم کام کر رہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK