این سی پی (شرد) کے رکن اسمبلی نے کہا پہلے بتایا گیا کہ طیارے کا بلیک باکس جل گیا ہے جبکہ رپورٹ میں درج ہے کہ بلیک پاکس محفوظ ہے
EPAPER
Updated: March 18, 2026, 12:38 AM IST | Mumbai
این سی پی (شرد) کے رکن اسمبلی نے کہا پہلے بتایا گیا کہ طیارے کا بلیک باکس جل گیا ہے جبکہ رپورٹ میں درج ہے کہ بلیک پاکس محفوظ ہے
این سی پی (شرد) کے رکن اسمبلی روہت پوار نے ایک بار پھر اپنے چاچا اورسابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی حادثاتی موت پر سوال اٹھایا ہے۔انہوں نے حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے بلیک باکس کے تعلق سے کچھ نئے دعوے کئے ہیں۔ ساتھ ہی تحقیقات کے عمل پر سنگین شکوک ظاہر کئے ہیں۔ روہت پوار نے سوال اٹھایا کہ جب رپورٹس کے مطابق بلیک باکس محفوظ حالت میں تھا تو پھر یہ کیوں کہا گیا کہ وہ آگ میں جل کر تباہ ہو گیا۔ انہوں نے اس تضاد پر وضاحت طلب کی۔ انہوں نے اس معاملے میں وی ایس آر کمپنی اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سیول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) کی رپورٹ پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے ممکنہ سازش کے خدشے کا اظہار کیا۔
روہت پوار نے ٹویٹ کیا کہ مرکزی وزیر برائے شہری ہوا بازی کے بیان کو مبہم اور گمراہ کن ہیں۔ جب تحقیقات شفاف اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے تو پھر بلیک باکس سے متعلق متضاد معلومات کیوں دی جا رہی ہے؟ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ احمد آباد حادثے سے متعلق معلومات طلب کرنے والی امریکی ایجنسی کو یہ تفصیلات کیوں فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔ روہت پوار نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے کو کانگریس اور انڈیا اتحاد کے ساتھ مل کر پارلیمنٹ میں بھرپور طریقے سے اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے اس سے قبل جاری کردہ حادثاتی رپورٹ میں بھی کئی خامیوں کی نشاندہی کی تھی۔ ان کے مطابق ایک ماہ میں تیار کی گئی رپورٹ میں بنیادی غلطیاں موجود ہیں، جیسے بارامتی کو ضلع کے طور پر درج کرنا اور میونسپل کونسل کو میونسپل کارپوریشن قرار دینا۔ انہوں نے طیارے کی حرکت سے متعلق تضادات کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ ایک رپورٹ میں طیارے کے دائیں جانب جھکنے کا ذکر ہے جبکہ ایئرکرافٹ انویسٹی گیشن بیورو (اے آئی بی) کی رپورٹ میں بائیں جانب جھکنے کا ذکر کیا گیا ہے، جوکہ غلط ہے۔
مزید برآں رپورٹ میں طیارے کے درختوں سے ٹکرانے کا ذکر کیا گیا ہے جب کہ جائے حادثہ پر صرف جھاڑیاں موجود تھیں اور اس طرح کی کوئی ٹکر نہیں ہوئی۔ روہت پوار کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ محض رسمی طور پر تیار کی گئی معلوم ہوتی ہے جس میں حقائق پر مکمل توجہ نہیں دی گئی۔ بلیک باکس کے معاملے پر سوال اٹھانے کے بعد انہوں نے تحقیقات کے عمل پر اپنی تنقید مزید تیز کر دی ہے۔