ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے قریبی مشیروں نے ٹرمپ کے ذریعے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے پر پچھتاوے کا اظہار کیا ہے، ان کا خیال ہے کہ انتظامیہ نے ایران کی فوجی طاقت اور مزاحمت کی صلاحیت کا اندازہ لگانے میں غلطی کردی۔
EPAPER
Updated: March 17, 2026, 10:09 PM IST | Washington
ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے قریبی مشیروں نے ٹرمپ کے ذریعے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے پر پچھتاوے کا اظہار کیا ہے، ان کا خیال ہے کہ انتظامیہ نے ایران کی فوجی طاقت اور مزاحمت کی صلاحیت کا اندازہ لگانے میں غلطی کردی۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے قریبی مشیروں کے ذریعے ان کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے پر مبینہ طور پر پچھتاوا ظاہر کیا جا رہا ہے۔ خبر رساں ادارے ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی ٹیم کے کئی سینئر ارکان کو اب خدشہ ہے کہ انتظامیہ نے ایرانی قیادت کی مزاحمت کی صلاحیت او جنگ کی ر ممکنہ طوالت کے خطرات کو کم سمجھا تھا۔ذرائع کے مطابق متعدد اعلیٰ حکام نے اسرائیل کے ساتھ مل کر فوجی مہم شروع کرنے سے قبل احتیاط یا مزید وقت دینے کا مشورہ دیا تھا تاہم ٹرمپ نے ان خدشات کو نظر انداز کر دیا۔ ایک ذریعے کے مطابق صدر نے اپنے مشیروں سے کہا تھا کہ ’’میں بس یہ کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکی بحری جہاز میں آگ، ایران جنگ میں سیکڑوں ملاح متاثر
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ ایران پر گزشتہ حملوں اور وینزویلا میں نکولس مادورو کے مبینہ اغوا جیسی کامیابیوں سے اتنا پراعتماد ہو گئے تھے کہ انہوں نے زمینی فوج اتارے بغیر ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کو آسان سمجھ لیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اب نام نہاد’’ ایسکلیشن ٹریپ‘‘ یعنی کشیدگی بڑھنے کے جال میں پھنس سکتی ہے جہاں فوجی طور پر مضبوط فریق اسٹریٹجک فوائد کم ہونے کے باوجود اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لیے حملے جاری رکھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔یہ تنازع اب آہستہ آہستہ آبنائے ہرمز پر مرکوز ہو گیا ہے جو عالمی تیل کی سپلائی کا اہم راستہ ہے۔ ایرانی دھمکیوں اور حملوں کی وجہ سے اس آبی گزرگاہ پر آمد ورفت متاثر ہوئی ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔بعد ازاں ایک سینئر امریکی اہلکار کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایرانی مداخلت نے ٹرمپ کا مؤقف مزید سخت کر دیا ہے اور وہ اس مہم کو جاری رکھنے کے لیے پہلے سے زیادہ پرعزم ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کے ساتھ جاری تنازع کے درمیان ٹرمپ نے اپنا بیجنگ کا دورہ ملتوی کردیا
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کو ابتدائی طور پر امید تھی کہ یہ مہم چار سے چھ ہفتوں میں ختم ہو جائے گی لیکن اب واشنگٹن اور اتحادی ممالک کے حکام طویل تصادم کی تیاری کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ تنازع کم شدت کے ساتھ ستمبر تک جاری رہ سکتا ہے۔اس جنگ میں اب تک ایران کے کم از کم ۱۳۰۰؍شہری ہلاک ہو چکے ہیں جن میں ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل ہیں جبکہ ۱۴؍امریکی اہلکار بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ وہائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ یہ حملے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کر رہے ہیں اور خطے میں امریکی اسٹریٹجک مقاصد کو آگے بڑھا رہے ہیں۔