امریکی قومی انسداد دہشت گردی مرکز کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے ڈونالڈٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت میں استعفیٰ دے دیا، ان کا دعویٰ ہے کہ یہ جنگ اسرائیل اور اس کی طاقتور امریکی لابی کے دباؤ پر شروع کی گئی۔
EPAPER
Updated: March 17, 2026, 10:08 PM IST | Washington
امریکی قومی انسداد دہشت گردی مرکز کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے ڈونالڈٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت میں استعفیٰ دے دیا، ان کا دعویٰ ہے کہ یہ جنگ اسرائیل اور اس کی طاقتور امریکی لابی کے دباؤ پر شروع کی گئی۔
امریکی قومی انسداد دہشت گردی مرکز کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی ایران کے خلاف جنگ کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔ اپنے استعفیٰ کے خط میں اس اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز پر اس جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ یہ اسرائیل اور اس کی طاقتور امریکی لابی کے دباؤ پر شروع کی گئی۔سابق گرین بیریٹ اور انسداد دہشت گردی کے اہم مشیر کینٹ نے کہا کہ کشیدگی شروع ہونے سے پہلے ایران کی طرف سے امریکہ کو کوئی فوری خطرہ نہیں تھا۔۲۸؍ فروری کو تنازع شروع ہونے کے بعد یہ سب سے سینئر مستعفی ہے جو واشنگٹن میں ایران کے خلاف جاری فوجی مہم کی قانونی حیثیت اور حقیقی وجوہات پر گہری اندرونی تقسیم کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ماہرین کا انتباہ، ایران جنگ میں کسی کو فیصلہ کن جیت نہیں ملے گی
واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین جوہری پروگرام کے تعلق سے عمان کی ثالثی میں بلواسطہ مذاکرات جاری تھے، تین مرحلوں کی بات چیت کے بعد فریقین نے مثبت پیش رفت کے اشارے دئے، اور امید ظاہر کی تھی کہ جلد ہی وہ کسی حتمی معاہدے تک پہنچ جائیں گے، لیکن اسی دوران ۲۸؍ فروری کو امریکہ نے اسرائیل کے اشتراک سے ایران پر بڑے پیمانے پر حملہ کردیا، جس میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور ان کے بیشتر قریبی شہید ہوگئے، جس کے بعد ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں ، اور اسرائیل کو میزائیل اور ڈرون سے نشانہ بنایا، جس میں کویت، قطر، سعودی عربیہ، امتحدہ عرب امارات کے ۱۷؍ فوجی اڈے شامل ہیں۔جنگ کے چند دنوں میں ختم کرنے کے امریکی دعوے کے برعکس ایران کی مزاحمت نے جنگ کو طول دے دیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جنگی اخراجات، اور دیگر نقصانات میں اضافہ ہونے لگا۔ جبکہ تمام ماہرین نے ٹرمپ کو اس سے آگاہ کردیا تھا، اس کے باوجود ٹرمپ نے جنگ کا فیصلہ کیا۔ جوں جوں نتیجے سامنے آرہے ہیں، اس جنگ کی مخالفت کرنے والوں نے آواز بلند کرنا شروع کردیا ہے، جو کینٹ کا استعفی اس میں سب سے بااثراور سب سے تازہ مخالفت ہے۔