اجمیر کی ضلع عدالت میں فریق بننے پر سنیچر کو ایک درخواست پر تفصیلی سماعت ہوئی جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اجمیر درگاہ کے احاطے میں شیو مندر موجود ہے۔ یہ معاملہ عوامی اور قانونی طور پر زیرِ غور ہے۔
EPAPER
Updated: May 03, 2026, 2:06 PM IST | Ajmer
اجمیر کی ضلع عدالت میں فریق بننے پر سنیچر کو ایک درخواست پر تفصیلی سماعت ہوئی جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اجمیر درگاہ کے احاطے میں شیو مندر موجود ہے۔ یہ معاملہ عوامی اور قانونی طور پر زیرِ غور ہے۔
اجمیر کی ضلع عدالت میں سنیچر کو ایک درخواست پر تفصیلی سماعت ہوئی جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اجمیر درگاہ کے احاطے میں شیو مندر موجود ہے۔ یہ معاملہ عوامی اور قانونی طور پر زیرِ غور ہے۔ سماعت کے دوران متعدد فریقین کی جانب سے خاص طور پر فریق بنائے جانے کے معاملے پر سخت دلائل پیش کیے گئے۔ واضح رہے کہ یہ درخواست ہندو سینا کے قومی صدر وشنو گپتا اور مہارانا پرتاب سینا کے قومی صدر راجوردھن سنگھ پامر نے دائر کی ہے۔ دورانِ سماعت، خدام (درگاہ کے موروثی متولی) کی دو اہم تنظیموں، بشمول درگاہ دیوان کے دفتر، نے دیوانی ضابطہِ کار کے آرڈر۱؍رول ۱۰؍ کے تحت درخواستیں دے کر خود کو فریق بنائے جانے کی استدعا کی۔
بعد ازاں تمام فریقین نے مفصل قانونی دلائل پیش کیے اور دستاویزی ثبوت فراہم کیے۔ درخواست گزاروں نے تاریخی حوالوں اور دیگر مواد کی بنیاد پر شیو مندر کی موجودگی کا دعویٰ کیا۔ جبکہ درگاہ کے نمائندوں نے اپنے روایتی حقوق اور درگاہ سے دیرینہ تعلق پر زور دیا اور فریق بنائے جانے کی استدعا کی۔سماعت کا کلیدی نکتہ یہ طے کرنا تھا کہ اس حساس اور پیچیدہ معاملے میں کن فریقین کو باضابطہ شامل کیا جائے۔ تاہمدونوں جانب کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فریق بنائے جانے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ یہ فیصلہ کیس کی مستقبل کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔سماعت کے بعد وشنو گپتا نے کہا کہ آگے کی حکمت عملی آج کے فیصلےکے بعد طے کی جائےگی۔ جبکہ سینئر ایڈووکیٹ اے پی سنگھ نے کہا کہ اکبرنامہ میں اس جگہ پر شیو مندر کی موجودگی کا ذکر ہے۔آثارِ قدیمہ کا محکمہ حقیقت کی جانچ کرے۔
مزید برآں وشنو گپتا کے وکیل سندیپ کمار نے کہا، دوسری مئی ہمارے لیے ایک اہم دن رہا۔ ۱۲؍درخواست گزار موجود تھے، ہم نے حقائق پیش کیے۔ ہم نے زور دیا کہ نتائج سائنسی ثبوتوں پر مبنی ہوں، بشمول آثارِ قدیمہ کے محکمے کی سروے اور تحقیق۔دوسری جانب درگاہ دیوان کے ایڈووکیٹ سدھارتھ نے کہا کہ ’’تمام دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ ہم نے تمام متعلقہ قانونی دفعات اور تاریخی حقائق عدالت میں پیش کر دیے ہیں۔