• Tue, 13 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اکولہ: پیدائشی سرٹیفکیٹس معاملے میں ۲۶ ؍کے ضروری دستاویزغائب

Updated: October 13, 2026, 12:05 PM IST | Agency | Akola

اس معاملے میں  چار سابق گرام پنچایت عہدیداروں کے خلاف ایف آئی آر درج۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

جعلی پیدائشی سرٹیفکیٹ بنانے کے معاملے میں اکولہ ضلع میں پیدائش کے سرٹیفکیٹس کے اجرا میں مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ سامنے آنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ اطلاع کے مطابق ضلع کی آلے گاؤں گرام پنچایت میں ۲۰۲۵ء کے دوران درج کیے گئے ۱۱۰۱؍ پیدائش کے اندراجات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ معاملے کی جانچ کے بعد چار سابقہ گرام پنچایت عہدیداروں کے خلاف چانّی پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے، جس کے بعد مقامی انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی ہے۔

۴۱؍ ریکارڈ کی جانچ، ۲۶ ؍میں دستاویزات نہیں ملے

موصولہ اطلاعات کے مطابق، ۱۱۰۱؍اندراجات میں سے ۴۱ ؍ریکارڈ کی تصدیق کی گئی، جس کے دوران ۲۶؍معاملات میں ضروری دستاویزات دستیاب نہیں پائے گئے۔ اسکے علاوہ پیدائش کے سرٹیفکیٹ کیلئے درخواستیں موجود نہ ہونے اور فیس سے متعلق ریکارڈ میں کمی جیسی مبینہ بے ضابطگیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ تاہم، ان معلومات کی بنیاد پر تمام ۱۱۰۱؍اندراجات کو فرضی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہر معاملے کی حقیقت دستاویزات کی جانچ کے بعد ہی واضح ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے: ایس آر اے پروجیکٹوں کو آسان بنانے کیلئے کمیٹی تشکیل

ایڈیشنل ضلع صحت افسر ششی کانت پوار کی شکایت پر چانّی پولیس اسٹیشن میں چار سابقہ گرام پنچایت عہدیداروں، آر ایچ دیشمکھ، جے پی تائیڈے، پی  ایم نیمسرکار اور گنیش جادھو کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے کی اطلاع ہے۔ پولیس اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ پیدائش کے اندراجات میں مبینہ بے ضابطگیاں کس طرح ہوئیں اور اس میں کن افراد کا کردار تھا۔ 

ضلع کلکٹر کی ہدایت پر خصوصی تحقیقاتی ٹیم

معاملے کی سنگینی کے پیش نظر ضلع کلکٹر کی سطح پر تفصیلی جانچ کیلئےخصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیے جانے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔ بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا کی شکایت کے بعد اس معاملے نے مزید اہمیت حاصل کرلی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم پیدائش کے اندراجات، متعلقہ دستاویزات اور سرٹیفکیٹس جاری کرنے کے طریقۂ کار کی جانچ کرے گی۔ اس معاملے میں اہم سوال یہ ہے کہ ۱۱۰۱؍ اندراجات میں سے کتنے قواعد کے مطابق کیے گئے اور کتنے معاملات میں دستاویزات یا رجسٹریشن کے طریقۂ کار سے متعلق بے ضابطگیاں پائی گئیں۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی بے ضابطگیوں کی اصل نوعیت اور ذمہ دار افراد کے بارے میں صورتِ حال واضح ہوگی۔

سی آر ایس پورٹل کے استعمال پر بھی سوالات
رپورٹ کے مطابق، آلے گاؤں گرام پنچایت کے دائرۂ اختیار اور گولے گاؤں سے متعلق ریکارڈ کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ گولے گاؤں کا الگ شناختی نمبر ہونے کے باوجود آلے گاؤں گرام پنچایت کے سی آر ایس پورٹل کے ذریعے بعض پیدائش کے اندراجات کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اب اس بات کی جانچ بھی کی جا رہی ہے کہ پورٹل کا استعمال کن ضابطوں کے تحت کیا گیا اور آیا تمام اندراجات مقررہ قواعد کے مطابق تھے یا نہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK