Updated: July 25, 2026, 7:03 PM IST
| Jerusalem
’ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘ (ایم ایس ایف) نے اسرائیلی افواج کی جانب سے ’نابلس اسپیشلائزڈ ہسپتال‘ پر دھاوا بولنے کی اطلاعات پر ”شدید تشویش“ کا اظہار کیا۔ فلسطین میں ایم ایس ایف کے مشن کے سربراہ فلپ ربیرو نے کہا کہ ”فلسطین میں کہیں بھی اسپتالوں، ایمبولینسوں، عملے اور مریضوں کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے۔“
مقبوضہ فلسطینی علاقوں کیلئے اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیلی حملوں کو ”منظم قتل عام“ قرار دیتے ہوئے فوری طور پر اسلحے کی پابندی اور اسرائیل کے ساتھ تمام تجارتی روابط معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ البانیز نے ہفتے کے روز ایکس پر لکھا: ”غزہ آگ کی لپیٹ میں ہے اور مغربی کنارے میں نہتے شہریوں پر قتل عام جاری ہے۔“ انہوں نے اسرائیلی شہریوں (غیر قانونی ںاز آبادکاروں) اور فوج پر ان حملوں میں ”متحد ہونے“ کا الزام لگایا اور کہا کہ اس کی ذمہ داری صرف وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو یا ”چند بگڑے ہوئے افراد“ تک محدود نہیں ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ”ابھی اسلحے کی پابندی عائد کی جائے، تجارت روکی جائے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت ایسے اقدامات لازمی ہیں۔
واضح رہے کہ مغربی کنارے میں تازہ تشدد، غیر قانونی اسرائیلی بستی’حوات گیلاد‘ (Havat Gilad) کے قریب ایک فائرنگ کے واقعے میں دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت اور تین کے زخمی ہونے کے بعد جمعہ کے دن نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کی جانب سے مغربی کنارے کے فلسطینی دیہاتوں میں ”بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی“ کے حکم کے بعد سامنے آیا۔ اس کے بعد اسرائیلی قبضہ کاروں نے نابلس گورنری میں متعدد فلسطینی آبادیوں پر حملہ کرکے فلسطینیوں کے گھروں اور املاک کو آگ لگا دی۔ فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق، نابلس کے جنوب مغرب میں واقع قصبے ’تل‘ (Tell) پر اسرائیلی قبضہ کاروں اور اسرائیلی افواج کے حملے میں ۴ فلسطینی شہید ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: مسجد اقصیٰ میں اشتعال انگیز کارروائیوں کی مذمت
یورپی یونین کا مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر ’شدید تشویش‘ کا اظہار
یورپی یونین (ای یو) نے جمعہ کے دن مغربی کنارے میں تشدد کے واقعات پر ”شدید تشویش“ کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک شدگان کے خاندانوں سے تعزیت کی اور کشیدگی میں کمی لانے کا مطالبہ کیا۔ یورپی یونین کے ایک ترجمان نے کہا کہ ”آج کے واقعات زمین پر موجود صورتِ حال کے نازک ہونے کی یاد دہانی کراتے ہیں۔“ انہوں نے تمام فریقین پر ”اشتعال انگیز زبان سے پرہیز کرنے، کشیدگی کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے اور تشدد کے اس بے رحم چکر کا خاتمہ کرنے“ پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اسرائیل کی بمباری سے مسجد شہید
’ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘ کا نابلس میں ہسپتال پر چھاپے پر ’شدید تشویش‘ کا اظہار
’ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘ (ایم ایس ایف) نے تشدد کے دوران اسرائیلی افواج کی جانب سے ’نابلس اسپیشلائزڈ ہسپتال‘ پر دھاوا بولنے کی اطلاعات پر ”شدید تشویش“ کا اظہار کیا۔ فلسطین میں ایم ایس ایف کے مشن کے سربراہ فلپ ربیرو نے کہا کہ ”ہمیں آج نابلس سے ملنے والی اطلاعات پر شدید تشویش ہے، جہاں اسرائیلی افواج کے نابلس اسپیشلائزڈ اسپتال پر چھاپے کے ساتھ ساتھ گورنری میں دیگر مقامات پر جھڑپیں ہوئی ہیں، ان کے نتیجے میں ۴ فلسطینی اور ۲ اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔“ انہوں نے اس تشدد کو ”اسرائیلی چھاپوں، ریاستی سرپرستی میں آبادکاروں کے تشدد، بنیادی خدمات میں تعطل اور شہریوں و طبی دیکھ بھال پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے وسیع تر سلسلے کا حصہ“ قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”فلسطین میں کہیں بھی اسپتالوں، ایمبولینسوں، عملے اور مریضوں کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے۔“