Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ہیلتھ سینٹر سے لے کر ضلع اسپتالوں تک تمام صحت کمیٹیوں کو بحال کیا جائے‘‘

Updated: April 27, 2026, 2:53 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

صحت عامہ کے وزیر پرکاش ابیتکر کی افسران کو ہدایت، یہ کمیٹیاں غذائیت، پانی کی فراہمی اور بنیادی صحت کی خدمات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

A scene from a meeting of Public Health Minister Prakash Abitkar. Photo: INN
صحت عامہ کے وزیر پرکاش ابیتکر کی میٹنگ کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این

عوام کو بہتر اور موثر صحت کی خدمات فراہم ہو سکے، اس کیلئے صحت عامہ کے وزیر پرکاش ابیتکر نے کہاکہ متعدد ذیلی کمیٹیوں کو بحال اور فعال بنایا جائے۔ انہوں  نےمریضوں کی بہبود کمیٹی(آر کے ایس) صحت عامہ کمیٹی(جے اے ایس)، خواتین کی صحت کمیٹی(ایم اے ایس)، ولیج ہیلتھ نیوٹریشن اینڈ سینی ٹیشن کمیٹی(وی ایچ این ایس سی) جیسی کمیٹیوں کو بحال کرنے کی ہدایت دی ہے۔ 
یہ کمیٹیاں ریاست میں صحت کی خدمات کے معیار پر نظر رکھنے اور شہریوں کو صحت کی بہتر خدمات فراہم کرنے کے لئے کام کر رہی ہیں۔ اس سلسلے میں اتوار کو منعقدہ میٹنگ میں ان تمام کمیٹیوں کو بحال کرنے کی ہدایات دی گئیں۔ محکمہ صحت عامہ کی جانب سے دیہی اور شہری علاقوں کے شہریوں کو مختلف اسکیموں کے ذریعے صحت کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ ان تمام مفاد عامہ کی اسکیموں پر سختی سے عمل درآمد کر کے شہریوں کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے میں ہیلتھ کمیٹیوں کا کردار اہم ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن میں افرا تفری کا ماحول

دیہی علاقوں کے لئے، ’ویلج ہیلتھ نیوٹریشن اینڈ سینی ٹیشن کمیٹی اور شہری علاقوں کے لئے ’ویمنز ہیلتھ کمیٹی‘کام کر رہی ہے۔ یہ کمیٹیاں صفائی، غذائیت، پانی کی فراہمی اور بنیادی صحت کی خدمات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ 
اسی طرح، ’جن آروگیہ سمیتی (جے اے ایس)‘ اور ’رگون کلیان سمیتی (آر کے ایس)‘ کمیٹیاں مریض پر مبنی خدمات، خدمات کے معیار اور صحت کے اداروں میں فنڈز کے شفاف استعمال کی نگرانی کا کردار ادا کرتی ہیں۔ دیہی علاقوں کے لئے کام کرنے والی ’ویلیج ہیلتھ نیوٹریشن واٹر سپلائی اینڈ سینی ٹیشن کمیٹی میں گرام پنچایت سرپنچ، گرام پنچایت ممبران (ترجیحی طور پر خواتین)، سیلف ہیلپ گروپس، یوتھ بورڈز، فارسٹ پروٹیکشن کمیٹیاں، خواتین کے بورڈ، سماجی تنظیمیں، حاملہ اور دودھ پلانے والی مائیں، تین سال تک کی بیماریوں والی مائیں اور بچوں کے مریضوں کے شامل ہونے کی امید ہے۔ خواتین کی صحت کمیٹی( ایم اے ایس) شہری علاقوں کیلئے کام کر رہی ہے جس میں مقامی کچی آبادیوں سے سماجی بہبود، سماجی وابستگی اور قائدانہ صلاحیتوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ۲۰؍ خواتین اراکین کو شامل کئےجانے کی توقع ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK