Updated: April 27, 2026, 4:04 PM IST
| New Delhi
ہندوستان اور نیوزی لینڈ نے پیرکو ایک تاریخی فری ٹریڈ معاہدے پر دستخط کیے۔ اس کے تحت نیوزی لینڈ کو ہندوستان سے ہونے والی۱۰۰؍ فیصد برآمدات پر ٹیرف میںرعایت ملے گی جبکہ نیوزی لینڈ سے ہندوستان سے آنے والی ۹۵؍ فیصد اشیاء پر ٹیرف یا تو ختم کر دیا گیا ہے یا کم کر دیا گیا ہے۔
پیوش گوئل اور ٹاڈ میک کلے۔ تصویر:ایکس
ہندوستان اور نیوزی لینڈ نے پیرکو ایک تاریخی فری ٹریڈ معاہدے پر دستخط کیے۔ اس کے تحت نیوزی لینڈ کو ہندوستان سے ہونے والی۱۰۰؍ فیصد برآمدات پر ٹیرف میںرعایت ملے گی جبکہ نیوزی لینڈ سے ہندوستان سے آنے والی ۹۵؍ فیصد اشیاء پر ٹیرف یا تو ختم کر دیا گیا ہے یا کم کر دیا گیا ہے۔ اس معاہدے پر دستخط وزیر تجارت پیوش گوئل اور ان کے نیوزی لینڈ کے ہم منصب ٹوڈ میک کلے کی موجودگی میں کیے گئے۔
۱۶؍ مارچ ۲۰۲۵ء شروع ہونے والا یہ آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) ریکارڈ نو مہینوں میں مکمل ہوا اور اس نے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں ایک نیا باب قائم کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ہندوستان کو تمام ٹیرف مصنوعات پر فوری طور پر۱۰۰؍ فیصد ڈیوٹی فری رسائی ہوگی۔
یہ نیوزی لینڈ کی جانب سے ہندوستان سے برآمد ہونے والی تقریباً ۴۵۰؍ ٹیرف مصنوعات پر عائد ۱۰؍ فیصد ڈیوٹی سے کم ہے، جن میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات، چمڑے اور ٹوپیاں، مٹی کے برتن، قالین، گاڑیاں اور گاڑیوں کے پرزے شامل ہیں۔ اس معاہدے میں ایک شق یہ بھی شامل ہے کہ نیوزی لینڈ آئندہ۱۵؍ برسوں میں ہندوستان میں ۲۰؍ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ یہ یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن (ای یو) کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ کیے گئے معاہدے میں ۱۰۰؍ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے عزم کے مماثل ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ثریا اور دیو آنند نےجن فلموں میں کام کیا، وہ فلم شائقین کے ذہنوں پر نقش ہوگئی
مزید برآں، اس ایف ٹی اے میں پیشہ ور افراد اور طلبہ کی نقل و حرکت سے متعلق کئی دفعات شامل ہیں۔ نیوزی لینڈ نے پہلی بار کسی ملک کے ساتھ طلبہ کی نقل و حرکت اور تعلیم کے بعد ورک ویزا سے متعلق معاہدہ کیا ہے۔ اس کے تحت ہندوستانی طلبہ نیوزی لینڈ میں تعلیم کے دوران اور بعد از تعلیم توسیعی ورک ویزا کے ساتھ ہفتے میں ۲۰؍ گھنٹے تک کام کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھئے:بڑی ٹیک کمپنیاں ملازمین کی چھٹنی کرکے اے آئی میں سرمایہ کاری بڑھا رہی ہیں
ایف ٹی اے کے تحت ہندوستان پیشہ ور افراد کے لیے بھی اعلیٰ تنخواہوں والی ملازمتوں کے مواقع کھلیں گے۔ معاہدے کے مطابق ہنر مند ہندوستان پیشہ ور افراد کو عارضی ورک ویزا دیا جائے گا، جس کے تحت وہ نیوزی لینڈ میں تین سال تک قیام اور کام کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے ۵؍ہزار ویزوں کا کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔ معاہدے میں شامل ورکنگ ہالیڈے ویزا پروگرام کے تحت ہر سال ایک ہزارنوجوان ہندوستانی ۱۲؍ ماہ کے لیے نیوزی لینڈ میں متعدد بار داخل ہو سکیں گے۔ ہندوستان نے دودھ، کریم، مٹھا، دہی اور پنیر سمیت تمام ڈیری مصنوعات اور کئی زرعی اشیاء کو اس فری ٹریڈ معاہدے سے باہر رکھنے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔