Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن میں افرا تفری کا ماحول

Updated: April 27, 2026, 11:53 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan

اے سی بی اہلکاروں کی آمد کی اطلاع پر افسران اور ملازمین دفتر چھوڑ کر بھاگ گئے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) میں اس وقت سنسنی خیز صورتحال پیدا ہوگئی جب اینٹی کرپشن بیورو(اے سی بی) کے اہلکاروں کی آمد کی خبر نے پورے ہیڈکوارٹر میں کہرام مچا دیا۔ کارپوریٹرز کی مدت ختم ہونے کے بعد منعقدہ پہلی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس کے فوراً بعد ہونے والی اس کارروائی کے خوف سے کئی افسران اور انجینئرز اپنے دفاتر کھلے چھوڑ کر جان بچاتے ہوئے وہاں سے فرار ہوگئے۔ 
کے ڈی ایم سی کے صدر دفتر میں اسٹینڈنگ کمیٹی کا اہم اجلاس طلب کیا گیا تھا جس میں تمام اعلیٰ حکام دوپہر سے ہی مصروف تھے۔ شام تقریباً ساڑھے ۵؍ بجے جیسے ہی اجلاس ختم ہوا۔ عمارت میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی کہ اینٹی کرپشن بیورو کے اہلکار عمارت کے چکر لگا رہے ہیں اور کسی بھی لمحے ایک سینئر افسر کو ٹریپ کیا جا سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: کنفرم ٹکٹ کا سنگین مسئلہ اور ہزاروں روپے کا پریمیم تتکال، عام مسافر پریشان

ذرائع کے مطابق صورتحال اس قدر سنگین تھی کہ دفتر میں موجود افسران اور ملازمین اپنے دوپہر کے کھانے کے خالی ڈبے میزوں پر ہی چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کئی کمروں میں لائٹ، پنکھے اور اے سی بھی بند نہیں کئے گئے اور افسر وہاں سے رفو چکر ہو گئے۔ معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ کارپوریشن کے رڈار پر موجود ایک انتہائی سینئر افسر کے دفتر کے باہر اے سی بی کے اہلکاروں کی موجودگی کی اطلاع ملتے ہی مختلف محکموں کے سربراہوں نے اپنے عملے کو فوری باہر نکلنے کے خفیہ اشارے دئیے۔ اس اچانک بھگدڑ کو دیکھ کر دفتر کے باہر موجود ڈیولپر اور آرکیٹیکٹ بھی ششدر رہ گئے۔ رات گئے تک میونسپل حلقوں میں یہ بحث گرم رہی کہ مذکورہ سینئر افسر کے گرد گھیرا تنگ کر لیا گیا ہے تاہم بعد ازاں تصدیق ہوئی کہ متعلقہ افسر بحفاظت اپنے گھر پہنچ چکا ہے۔ ملازمین کے مابین یہ بحث عام رہی کہ اینٹی کرپشن بیورو کے اہلکار جال بچھا کر بیٹھے تھےلیکن افسر کو قبل از وقت بھنک لگ گئی جس کے باعث اے سی بی کا ٹریپ ناکام ہو گیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK