راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے پیر کو پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں عام آدمی پارٹی کے قانون ساز گروپ کے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ انضمام کو قبول کر لیا۔
EPAPER
Updated: April 27, 2026, 3:58 PM IST | New Delhi
راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے پیر کو پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں عام آدمی پارٹی کے قانون ساز گروپ کے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ انضمام کو قبول کر لیا۔
راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے پیر کو پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں عام آدمی پارٹی کے قانون ساز گروپ کے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ انضمام کو قبول کر لیا۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب تین دن پہلے، جمعہ کو، عام آدمی پارٹی کے۱۰؍ میں سے۷؍ راجیہ سبھا اراکین پارٹی سے الگ ہو کر بی جے پی کے قانون ساز گروپ میں شامل ہونے کا اعلان کر چکے تھے۔ ان سات اراکین میں عام آدمی پارٹی کے سابق نائب لیڈر راگھو چڈھا بھی شامل ہیں، اور اب انہیں راجیہ سبھا میں بی جے پی کا حصہ سمجھا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ہندوتوا نظریے کی حامل جماعت بی جے پی کے پاس اب۲۴۵؍ رکنی ایوان میں ۱۱۳؍ اراکین ہو گئے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا اور لوک سبھا دونوں میں تین تین اراکین ہیں۔
ایوانِ بالا میں اکثریت حاصل کرنے کیلئے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو۱۲۳؍ اراکین کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ بی جے پی کی قیادت میں قائم نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے پاس اب راجیہ سبھا میں کم از کم۱۳۶؍ اراکین کی حمایت ہے۔ بی جے پی کے۱۱۳؍ اراکین میں وہ پانچ نامزد اراکین بھی شامل ہیں جو پارٹی میں شامل ہو چکے ہیں، جبکہ صدر کی جانب سے نامزد کئے گئے مزید سات اراکین ایسے ہیں جو بی جے پی کا حصہ نہیں ہیں۔ اتوار کو، عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا میں لیڈر سنجے سنگھ نے رادھا کرشنن کو ایک درخواست جمع کروائی جس میں ان سات اراکین کو نااہل قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا جو بی جے پی کے قانون ساز گروپ میں شامل ہوئے تھے۔ سنگھ کا کہنا تھا کہ ان سات اراکین کا یہ فیصلہ جماعت سے بغاوت کے مترادف ہے اور یہ انسدادِ انحراف (اینٹی ڈیفیکشن) قانون کی خلاف ورزی ہے۔