Updated: September 18, 2026, 10:06 PM IST
| New Delhi
رپورٹ میں متذکرہ متعدد واقعات میں مسلمانوں اور ان کی ملکیت والے کاروباری اداروں کو نشانہ بنانے والے واقعات شامل ہیں، جن میں مبینہ حملے اور نان ویجیٹیرین کھانے کی فروخت پر پابندیاں شامل ہیں۔ رپورٹ میں دلیل دی گئی ہے کہ اس کا مرکزی موضوع مذہبی عقیدت کے بجائے ”عوامی نظم و ضبط کا غیر مساوی نفاذ“ تھا، جہاں مسلم تاجروں اور سڑک استعمال کرنے والے دیگر شہریوں کو جبر کا سامنا کرنا پڑا جبکہ مذہبی شناخت کا سہارا لینے والے گروہوں کے خلاف احتساب میں تاخیر برتی گئی۔
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی ایک رپورٹ میں ۱۳ روزہ کانوڑ یاترا کے دوران مبینہ تشدد، زبردستی، امتیازی سلوک اور فحش طرزِ عمل کے ۱۸ واقعات کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ ”کانوڑ یاترا ۲۰۲۶ء: تشدد، ماورائے عدالت کارروائی، بائیکاٹ اور عوامی استثنیٰ“ کے عنوان سے جاری کردہ یہ رپورٹ اتر پردیش، اتراکھنڈ، مدھیہ پردیش، دہلی اور بہار میں کانوڑ یاترا کے دوران پیش آنے والے واقعات کا احاطہ کرتی ہے، جن میں جسمانی یا جبر پر مبنی تشدد کے نو، کھانے پینے کی اشیاء اور کاروباری اداروں کو نشانہ بنانے والے بائیکاٹ یا امتیازی اقدامات کے چار، اور فحش حرکات سے متعلق رپورٹ ہونے والے یا وائرل ہونے والے پانچ واقعات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: منی پور کے راحتی کیمپوں میں ۳۰؍سے زائد اموات پر سپریم کورٹ کے سنگین سوالات
رپورٹ میں متذکرہ متعدد واقعات میں مسلمانوں اور ان کی ملکیت والے کاروباری اداروں کو نشانہ بنانے والے واقعات شامل ہیں، جن میں مبینہ حملے اور نان ویجیٹیرین کھانے کی فروخت پر پابندیاں شامل ہیں۔ رپورٹ میں دلیل دی گئی ہے کہ اس کا مرکزی موضوع مذہبی عقیدت کے بجائے ”عوامی نظم و ضبط کا غیر مساوی نفاذ“ تھا، جہاں مسلم تاجروں اور سڑک استعمال کرنے والے دیگر شہریوں کو جبر کا سامنا کرنا پڑا جبکہ مذہبی شناخت کا سہارا لینے والے گروہوں کے خلاف احتساب میں تاخیر برتی گئی۔
حوالہ دیئے گئے واقعات میں، ہاپوڑ میں ایک ٹرک ڈرائیور کو تصادم کے بعد مبینہ طور پر اس کی گاڑی سے گھسیٹ کر مارا پیٹا گیا، جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ غازی آباد میں، ایک کانوڑ کو نقصان پہنچانے کا الزام لگا کر ایک مسلم نوجوان کو ایک گروہ کی جانب سے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور یرغمال رکھا گیا، جہاں پولیس نے مبینہ حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے دوبارہ تقدیس کی رسم کے ذریعے معاملے کو حل کیا۔ رام پور میں، ایک مسلم موٹر سائیکل سوار کو ایک بند سڑک پر داخل ہونے کے بعد مبینہ طور پر معافی مانگنے پر مجبور کیا گیا، اگرچہ پولیس نے کانوڑ کو نقصان پہنچنے کے دعووں کی تردید کی۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی یونیورسٹی: طلبہ یونین انتخابات میں تشدد, دہلی ہائی کورٹ انتظامیہ پر برہم
رپورٹ میں مسلم ملکیت والے کاروباری اداروں پر معاشی دباؤ کی بھی تفصیل دی گئی ہے، جس میں باہیڑی میں بریانی کی ایک دکان کو مسمار کرنا اور متعدد اضلاع میں یاترا کے راستوں پر گوشت، مچھلی اور انڈوں کی فروخت پر وسیع تر پابندیاں شامل ہیں۔ بریلی میں ایک تاریخی مسلم مذہبی اجتماع کا وقت بھی بدلا گیا اور یاترا کے اوقات کے باعث اسے صرف سبزی خور (ویجیٹیرین) کھانے تک محدود کر دیا گیا۔ مزید برآں، رپورٹ میں جلوسوں کے دوران فحش ناچ اور حرکتوں اور اشتعال انگیز رویے کو ظاہر کرنے والی ویڈیوز کی نشان دہی کی گئی، جن کے بارے میں اس نے کہا کہ تقریب کے کم احتسابی ماحول میں انہیں برداشت کیا گیا اور یہ اقلیتی برادریوں کی خواتین کیلئے زیادہ خطرات پیدا کرسکتے ہیں۔